السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الحميل لا يورث إذا عتق حتى تقوم بنسبه بينة من المسلمين باب: مجہول النسب قیدی اگر آزاد ہو جائے تو اسے اس وقت تک وارث نہیں بنایا جائے گا جب تک کہ مسلمانوں کی طرف سے اس کے نسب پر کوئی شرعی گواہی قائم نہ ہو جائے۔
حدیث نمبر: 18336
قَالَ: وَأنبأ يَزِيدُ، أنبأ أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَتَبَ إِلَى شُرَيْحٍ أَنْ لَا يُوَرِّثَ الْحَمِيلَ إِلَّا بِبَيِّنَةٍ وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ فِي خِرْقَتِهَا.حافظ ثناء اللہ
امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے قاضی شریح رحمہ اللہ کو خط لکھا کہ قیدی کا وارث کسی کو دلیل کے ذریعے بنایا جائے، اگرچہ دلیل ایک ٹکڑے پر ہی کیوں نہ ہو۔