کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: مبارزت (میدانِ جنگ میں تن بہ تن مقابلے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 18341
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لَا بَأْسَ بِالْمُبَارَزَةِ، قَدْ بَارَزَ يَوْمَ بَدْرٍ عُبَيْدَةُ وَحَمْزَةُ وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ بِأَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ..
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”انفرادی مقابلے (مبارزت) میں کوئی حرج نہیں، غزوہ بدر کے دن سیدنا عبیدہ، سیدنا حمزہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہم نے نبی کریم ﷺ کے حکم سے مبارزت کی تھی۔“...
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18341
حدیث نمبر: 18341
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَّادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُقْسِمُ قَسَمًا أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ: {هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ} [الحج: ١٩] نَزَلَتْ فِي الَّذِينَ بَرَزُوا يَوْمَ بَدْرٍ حَمْزَةَ وَعَلِيٍّ وَعُبَيْدَةَ بْنِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، وَعُتْبَةَ وَشَيْبَةَ ابْنَيْ رَبِيعَةَ وَالْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ زُرَارَةَ،.
حافظ ثناء اللہ
قیس بن عباد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ قسم اٹھا کر کہتے تھے کہ یہ آیت ﴿هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ﴾ [سورة الحج: 19] ”یہ دو شخص جن سے انھوں نے اللہ کے بارے میں جھگڑا کیا۔“ یہ ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے بدر کے دن مقابلہ کیا۔ حمزہ رضی اللہ عنہ، علی رضی اللہ عنہ، عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ اور عتبہ و شیبہ یہ دونوں ربیعہ کے بیٹے ہیں اور ولید بن عتبہ۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18341
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 18342
وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ يَعْقُوبَ الدَّوْرَقِيِّ، عَنْ هُشَيْمٍ، وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، زَادَ فِيهِ: اخْتَصَمُوا فِي الْحَجِّ يَوْمَ بَدْرٍ. وَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ، ثنا بُنْدَارٌ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
ثوری رحمہ اللہ، ابو ہاشم رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں: اس میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ بدر کے دن انہوں نے حج کے بارے میں جھگڑا کیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18342
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»
حدیث نمبر: 18343
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا شَبَابَةُ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي قِصَّةِ بَدْرٍ قَالَ: فَبَرَزَ عُتْبَةُ وَأَخُوهُ وَابْنُهُ الْوَلِيدُ حَمِيَّةً فَقَالَ: مَنْ يُبَارِزُ؟ فَخَرَجَ مِنَ الْأَنْصَارِ شَبَبَةٌ، فَقَالَ عُتْبَةُ: لَا نُرِيدُ هَؤُلَاءِ وَلَكِنْ يُبَارِزُنَا مِنْ بَنِي عَمِّنَا مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُمْ يَا عَلِيُّ، قُمْ يَا حَمْزَةُ، قُمْ يَا عُبَيْدَةُ بْنَ الْحَارِثِ ". فَقَتَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عُتْبَةَ وَشَيْبَةَ ابْنَيْ رَبِيعَةَ وَالْوَلِيدَ بْنَ عُتْبَةَ، وَجُرِحَ عُبَيْدَةُ بْنُ الْحَارِثِ فَقَتَلْنَا مِنْهُمْ سَبْعِينَ وَأَسَرْنَا سَبْعِينَ. وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حافظ ثناء اللہ
حارثہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بدر کے قصے کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ عتبہ اور اس کے بھائی اور اس کے بیٹے ولید نے غیرت سے مقابلے کی دعوت دی کہ کون مقابلہ کرے گا۔ انصاری جوان مقابلے میں آئے۔ عتبہ نے کہا: ان کا ہم نے قصد نہیں کیا، بلکہ ہمارے مقابلے میں ہمارے چچا کے بیٹے یعنی بنو عبدالمطلب آئیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے علی، حمزہ، عبیدہ بن حارث (رضی اللہ عنہم)! کھڑے ہو جاؤ۔“ اللہ رب العزت نے عتبہ، شیبہ اور ولید بن عتبہ کو ہلاک کر ڈالا اور سیدنا عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے، ستر کافر ہم نے قتل کیے اور ستر ہی قیدی بنائے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18343
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 18344
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَحَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، وَعَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، وَغَيْرُهُمْ مِنْ عُلَمَائِنَا، فَذَكَرُوا قِصَّةَ بَدْرٍ وَفِيهَا: ثُمَّ خَرَجَ عُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ وَشَيْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ وَالْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ فَدَعَوْا إِلَى الْبِرَازِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ فِتْيَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ثَلَاثَةٌ، فَقَالُوا: مِمَّنْ أَنْتُمْ؟ قَالُوا: رَهْطٌ مِنَ الْأَنْصَارِ. قَالُوا: مَا بِنَا إِلَيْكُمْ حَاجَةٌ. ثُمَّ نَادَى مُنَادِيهِمْ: يَا مُحَمَّدُ أَخْرِجْ إِلَيْنَا أَكْفَاءَنَا مِنْ قَوْمِنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُمْ يَا حَمْزَةُ، قُمْ يَا عَلِيُّ، قُمْ يَا عُبَيْدَةُ ". فَلَمَّا قَامُوا وَدَنَوْا مِنْهُمْ قَالُوا: مِمَّنْ أَنْتُمْ؟ قَالَ حَمْزَةُ: أَنَا حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَقَالَ عَلِيٌّ: أَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَقَالَ عُبَيْدَةُ: أَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ الْحَارِثِ. فَقَالُوا: نَعَمْ أَكْفَاءٌ كِرَامٌ، فَبَارَزَ عُبَيْدَةُ عُتْبَةَ فَاخْتَلَفَا ضَرْبَتَيْنِ كِلَاهُمَا أَثْبَتَ صَاحِبَهُ، وَبَارَزَ حَمْزَةُ شَيْبَةَ فَقَتَلَهُ مَكَانَهُ، وَبَارَزَ عَلِيٌّ الْوَلِيدَ فَقَتَلَهُ مَكَانَهُ، ثُمَّ كَرَّا عَلَى عُتْبَةَ فَذَفَفَا عَلَيْهِ وَاحْتَمَلَا صَاحِبَهُمَا فَحَازُوهُ إِلَى الرَّحْلِ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَبَارَزَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ مَرْحَبًا يَوْمَ خَيْبَرَ بِأَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبَارَزَ يَوْمَئِذٍ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَاسِرًا.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن ابی بکر اور ان کے علاوہ دوسرے بدر کے قصے کا ذکر کرتے ہیں اور اس میں ہے کہ عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ نکلے اور مقابلہ کی دعوت دی تو تین انصاری جوان ان کے مقابلہ میں آئے۔ انہوں نے پوچھا: تم کون ہو؟ انہوں نے کہا: انصاری لوگ۔ وہ کہنے لگے: ہمیں تمہاری کوئی ضرورت نہیں ہے۔ پھر آواز دینے والے نے آواز دی: اے محمد! ہماری طرف ہمارے برابر کے لوگ نکالو! آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے حمزہ، علی اور عبیدہ کھڑے ہو جاؤ۔“ جب وہ ان کے قریب گئے تو انہوں نے پوچھا: تم کون ہو؟ حمزہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں حمزہ بن عبدالمطلب ہوں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں علی بن ابی طالب ہوں۔ عبیدہ کہنے لگے: میں عبیدہ بن حارث ہوں۔ انہوں نے کہا: برابر کے معزز لوگ ہیں۔ حضرت عبیدہ نے عتبہ کا مقابلہ کیا، ان کے درمیان دو واروں کا تبادلہ ہوا۔ دونوں ثابت قدم رہے اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے شیبہ کا مقابلہ کیا۔ اسی جگہ ہی اسے قتل کر ڈالا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ولید کا مقابلہ کیا۔ اسے بھی قتل کر ڈالا۔ پھر دونوں عتبہ پر پلٹے اور اس کا کام تمام کر دیا اور اپنے ساتھی کو اٹھا کر خیمے میں لے گئے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے خیبر کے دن نبی ﷺ کے حکم کی وجہ سے مرحب کا مقابلہ کیا اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے یاسر کا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18344
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 18345
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ سَهْلٍ، أَحَدُ بَنِي حَارِثَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجَ مَرْحَبٌ الْيَهُودِيُّ مِنْ حِصْنِ خَيْبَرَ وَقَدْ جَمَعَ سِلَاحَهُ وَهُوَ يَرْتَجِزُ وَيَقُولُ: مَنْ يُبَارِزُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ لِهَذَا؟ " فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ: أَنَا لَهُ يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَا وَاللهِ الْمَوْتُورُ الثَّائِرُ، قَتَلُوا أَخِي بِالْأَمْسِ. قَالَ: " قُمْ إِلَيْهِ، اللهُمَّ أَعِنْهُ عَلَيْهِ ". فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي كَيْفِيَّةِ قِتَالِهِمَا، قَالَ: وَضَرَبَهُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ حَتَّى قَتَلَهُ. قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: خَرَجَ يَاسِرٌ فَبَرَزَ لَهُ الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَتْ صَفِيَّةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا لَمَّا خَرَجَ إِلَيْهِ الزُّبَيْرُ: يَا رَسُولَ اللهِ يَقْتُلُ ابْنِي. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَلِ ابْنُكِ يَقْتُلُهُ إِنْ شَاءَ اللهُ ". فَخَرَجَ الزُّبَيْرُ وَهُوَ يَرْتَجِزُ، ثُمَّ الْتَقَيَا فَقَتَلَهُ الزُّبَيْرُ، قَالَ: وَكَانَ ذَكَرَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ هُوَ قَتَلَ يَاسِرًا كَذَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ هُوَ قَتَلَ مَرْحَبًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ خیبر کے قلعہ سے مرحب یہودی اپنے اسلحہ سے لیس ہو کر اشعار پڑھتے ہوئے نکلا، وہ کہہ رہا تھا: کون میرا مقابلہ کرے گا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کون اس کے مقابلے میں آئے گا؟“ سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم میں اس کو موت کے گھاٹ اتاروں گا؛ کیونکہ اس نے کل میرے بھائی کو قتل کیا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کھڑے ہو جاؤ۔“ اور دعا دی: «اللَّهُمَّ أَعِنْهُ» ”اے اللہ! اس کی مدد فرما۔“ ان دونوں کی لڑائی کی کیفیت کو اس نے حدیث میں ذکر کیا، کہتے ہیں کہ سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اس کو قتل کر دیا۔ ابن اسحاق کہتے ہیں: پھر یاسر نکلا تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے اس کا مقابلہ کیا۔ جب سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نکلے تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا بیٹا قتل کر لے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر اللہ نے چاہا تو تیرا بیٹا ہی اس کو قتل کرے گا۔“ پھر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ رجزیہ اشعار پڑھتے ہوئے نکلے، پھر ان دونوں کی لڑائی ہوئی تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے اس کو قتل کر دیا۔ راوی کہتے ہیں: اس طرح اس نے ذکر کیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یاسر کو قتل کیا اور سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے مرحب کو قتل کیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18345
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ تقدم برقم ١٨١٠٨»
حدیث نمبر: 18346
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ بْنِ سَعِيدٍ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، قَالَ: فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَدْعُوهُ وَهُوَ أَرْمَدُ، فَقَالَ: " لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ الْيَوْمَ رَجُلًا يُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ وَيُحِبُّهُ اللهُ وَرَسُولُهُ". قَالَ: فَجِئْتُ بِهِ أَقُودُهُ، ⦗٢٢٢⦘ قَالَ: فَبَصَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَيْنَيْهِ فَبَرَأَ، فَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ قَالَ: فَبَرَزَ مَرْحَبٌ وَهُوَ يَقُولُ:.
حافظ ثناء اللہ
ایاس بن سلمہ بن اکوع اپنے والد (سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آئے، (پھر) ایک لمبی حدیث ذکر کی... رسول اللہ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بلایا، ان کی آنکھیں خراب تھیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آج میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔“ وہ (سیدنا علی رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ مجھے لایا گیا۔ آپ ﷺ نے میری آنکھوں میں لعابِ دہن ڈالا تو میں تندرست ہو گیا۔ آپ ﷺ نے جھنڈا مجھے دے دیا۔ تو مرحب نے رجزیہ اشعار پڑھتے ہوئے مقابلے کی دعوت دی، اس نے کہا: «قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ، شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ، إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ» ”خیبر جانتا ہے میں مرحب ہوں۔ اسلحے سے لیس اور تجربہ کار بہادر ہوں۔ جب جنگیں بھڑک کر سامنے آجاتی ہیں۔“
سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس کے مقابلے میں یہ کہتے ہوئے آئے: «أَنَا الَّذِي سَمَّتْنِي أُمِّي حَيْدَرَهْ، كَلَيْثِ غَابَاتٍ كَرِيهِ الْمَنْظَرَهْ، أُوفِيهِمُ بِالصَّاعِ كَيْلَ السَّنْدَرَهْ» ”میں وہ ہوں جس کی ماں نے اس کا نام حیدر رکھا ہے۔ جو جنگل کے شیر کی طرح خوفناک ہے اور صرف دھاڑنے سے ہی بھرپور قتل کرنے والا ہے۔“
تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پہلے ہی وار میں مرحب کا سر تلوار سے پھاڑ ڈالا اور اسے قتل کر دیا۔ یہ فتح تھی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18346
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
حدیث نمبر: 18347
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْغَضَائِرِيُّ بِبَغْدَادَ قَالَا: أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ الْمُسَيِّبِ بْنِ مُسْلِمٍ الْأَزْدِيِّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، فَذَكَرَ الْقِصَّةَ فِي خَيْبَرَ، وَذَكَرَ خُرُوجَ مَرْحَبٍ وَرَجْزَهُ، وَقَوْلَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: أُكِيلُهُمْ بِالصَّاعِ كَيْلَ السَّنْدَرَهْ قَالَ: فَاخْتَلَفَا ضَرْبَتَيْنِ فَبَدَرَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَضَرَبَهُ فَقَدَّ الْحَجَرَ وَالْمِغْفَرَ وَرَأْسَهُ وَوَقَعَ فِي الْأَضْرَاسِ وَأَخَذَ الْمَدِينَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہما اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے خیبر اور مرحب کے رجزیہ اشعار پڑھتے ہوئے نکلنے کا تذکرہ کیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بات بھی اس کے ہم معنیٰ ہے، مگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا قول دوسرے الفاظ میں نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا: ”میں تمہیں بہت زیادہ قتل کرنے والا ہوں۔“
راوی کہتے ہیں: ان میں دو واروں کا تبادلہ ہوا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے تلوار ماری، جس نے پتھر، ٹوپ اور سر کو پھاڑ ڈالا اور داڑھوں تک جا پہنچی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18347
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
حدیث نمبر: 18348
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ يَحْيَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ الْعُكْلِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ فَذَكَرَ بَعْضَ الْقِصَّةِ قَالَ: ثُمَّ دَعَا بِاللِّوَاءِ فَدَعَا عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ، فَمَسَحَهُمَا ثُمَّ دَفَعَ إِلَيْهِ اللِّوَاءَ فَفُتِحَ لَهُ، فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ بُرَيْدَةَ يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ كَانَ صَاحِبَ مَرْحَبٍ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن بریدہ اپنے والد (رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ جب خیبر کا دن ہوا، (راوی نے) قصے کا بعض حصہ ذکر کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ نے جھنڈا منگوایا اور علی رضی اللہ عنہ کو بلوایا، ان کی آنکھیں خراب تھیں، آپ ﷺ نے ان پر ہاتھ پھیرا، پھر علی رضی اللہ عنہ کو جھنڈا دیا، جن کے ہاتھ پر فتح ہوئی۔ عبداللہ بن بریدہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے بیان کیا کہ وہ مرحب کا ساتھی تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18348
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
حدیث نمبر: 18349
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ السَّاجِيُّ، وَبَدْرُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ حُسَيْنٍ الْأَشْقَرُ، ثنا أَبِي، عَنْ أَبِي قَابُوسَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَأْسِ مَرْحَبٍ وَرَوَاهُ صَالِحُ بْنُ أَحْمَدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ حَسَنٍ الْأَشْقَرِ بِمَعْنَاهُ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: بَارَزَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَمْرَو بْنَ عَبْدِ وُدٍّ.
حافظ ثناء اللہ
ابو قابوس اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے، جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس مرحب کا سر لے کر آیا۔ «قال الشافعي» ”امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا“: خندق کے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عمرو بن عبدود کا مقابلہ کیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18349
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف جدًا
تخریج حدیث «ضعيف جدًا»
حدیث نمبر: 18350
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ ⦗٢٢٣⦘ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: خَرَجَ، يَعْنِي يَوْمَ الْخَنْدَقِ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ وُدٍّ، فَنَادَى: مَنْ يُبَارِزُ؟ فَقَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ مُقَنَّعٌ فِي الْحَدِيدِ، فَقَالَ: أَنَا لَهَا يَا نَبِيَّ اللهِ. فَقَالَ: " إِنَّهُ عَمْرٌو اجْلِسْ ". وَنَادَى عَمْرٌو: أَلَا رَجُلٌ؟ وَهُوَ يُؤَنِّبُهُمْ وَيَقُولُ: أَيْنَ جَنَّتُكُمُ الَّتِي تَزْعُمُونَ أَنَّهُ مَنْ قُتِلَ مِنْكُمْ دَخَلَهَا؟ أَفَلَا يَبْرُزُ إِلِيَّ رَجُلٌ؟ فَقَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ. فَقَالَ: " اجْلِسْ ". ثُمَّ نَادَى الثَّالِثَةَ وَذَكَرَ شِعْرًا، فَقَامَ عَلِيٌّ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنَا. فَقَالَ: " إِنَّهُ عَمْرٌو ". قَالَ: وَإِنْ كَانَ عَمْرًا. فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَشَى إِلَيْهِ حَتَّى أَتَاهُ وَذَكَرَ شِعْرًا فَقَالَ لَهُ عَمْرٌو: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا عَلِيٌّ. قَالَ: ابْنُ عَبْدِ مَنَافٍ؟ فَقَالَ: أَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ. فَقَالَ: غَيْرُكَ يَا ابْنَ أَخِي مِنْ أَعْمَامِكَ مَنْ هُوَ أَسَنُّ مِنْكَ فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أُهَرِيقَ دَمَكَ. فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَكِنِّي وَاللهِ مَا أَكْرَهُ أَنْ أُهَرِيقَ دَمَكَ. فَغَضِبَ فَنَزَلَ وَسَلَّ سَيْفَهُ كَأَنَّهُ شُعْلَةُ نَارٍ، ثُمَّ أَقْبَلَ نَحْوَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُغْضَبًا، وَاسْتَقْبَلَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِدَرَقَتِهِ فَضَرَبَهُ عَمْرٌو فِي الدَّرَقَةِ، فَقَدَّهَا وَأَثْبَتَ فِيهَا السَّيْفَ وَأَصَابَ رَأْسَهُ فَشَجَّهُ، وَضَرَبَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى حَبْلِ الْعَاتِقِ فَسَقَطَ وَثَارَ الْعَجَاجُ، وَسَمِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّكْبِيرَ، فَعَرَفَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَدْ قَتَلَهُ.
حافظ ثناء اللہ
ابن اسحاق کہتے ہیں کہ خندق کے دن عمرو بن عبد ود نکلا، اس نے مقابلہ کی دعوت دی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ لوہے میں ڈھکے ہوئے تھے، کہنے لگے: ”اے اللہ کے نبی! میں اس کا مقابلہ کرتا ہوں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عمرو ہے، بیٹھ جاؤ۔“ عمرو نے پھر آواز دی: ”کیا کوئی مرد نہیں ہے؟“ وہ ان کو متنبہ کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا: ”تمہاری وہ جنت کہاں ہے جس کا تم گمان کرتے ہو؟ کہ تم میں سے جو قتل کیا جائے وہ اس میں داخل ہو جائے گا، کیا کوئی شخص میرا مقابلہ نہیں کرے گا؟“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں مقابلہ کرتا ہوں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ۔“ پھر تیسری مرتبہ اس نے آواز دی اور اشعار پڑھے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے: ”اے اللہ کے رسول! میں مقابلہ کرتا ہوں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ عمرو ہے۔“ انہوں نے عرض کیا: ”اگرچہ عمرو ہی ہے۔“ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اجازت دے دی تو وہ چل کر اس کے پاس گئے اور اشعار پڑھے۔ عمرو نے پوچھا: ”تو کون ہے؟“ انہوں نے کہا: ”میں علی ہوں۔“ اس نے کہا: ”ابن عبد مناف؟“ انہوں نے کہا: ”میں علی بن ابی طالب ہوں۔“ اس نے کہا: ”اے بھتیجے! کیا تیرے چچاؤں میں سے تیرے علاوہ کوئی بڑی عمر کا نہیں ہے؟ کیونکہ میں تیرا خون بہانا ناپسند کرتا ہوں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”لیکن اللہ کی قسم! میں تجھے قتل کرنے میں کراہت محسوس نہیں کرتا۔“ وہ غصے سے نیچے اتر پڑا اور اپنی تلوار کو سونتا گویا کہ وہ آگ کا شعلہ ہے، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی جانب غصے کی حالت میں آیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کا سامنا اپنی ڈھال کے ذریعے کیا۔ عمرو نے ڈھال پر تلوار ماری تو تلوار نے ڈھال کو توڑ ڈالا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا سر بھی زخمی ہوا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کے کندھے پر تلوار ماری، وہ گر پڑا اور اس کی چیخ بلند ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ نے تکبیر کی آواز سنی تو پہچان گئے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کو قتل کر دیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18350
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»