السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الحميل لا يورث إذا عتق حتى تقوم بنسبه بينة من المسلمين باب: مجہول النسب قیدی اگر آزاد ہو جائے تو اسے اس وقت تک وارث نہیں بنایا جائے گا جب تک کہ مسلمانوں کی طرف سے اس کے نسب پر کوئی شرعی گواہی قائم نہ ہو جائے۔
حدیث نمبر: 18335
قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ يُعْطَى النَّاسُ بِدَعْوَاهُمْ لَادَّعَى نَاسٌ دِمَاءَ رِجَالٍ وَأَمْوَالَهُمْ، وَلَكِنِ الْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ ".حافظ ثناء اللہ
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اگر لوگوں کو محض ان کے دعوے کی بنیاد پر (ان کا مطالبہ) دے دیا جائے تو کچھ لوگ دوسرے لوگوں کے خون اور ان کے مالوں کا دعویٰ کر بیٹھیں گے، لیکن قسم اس پر ہے جس پر دعویٰ کیا گیا ہو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ لَا يُوَرِّثُ الْحَمِيلَ.حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کسی کو بھی قیدی کا وارث نہ بناتے تھے۔ (ایسا قیدی جس کو مختلف جگہوں پر رکھا جائے)