السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الحميل لا يورث إذا عتق حتى تقوم بنسبه بينة من المسلمين باب: مجہول النسب قیدی اگر آزاد ہو جائے تو اسے اس وقت تک وارث نہیں بنایا جائے گا جب تک کہ مسلمانوں کی طرف سے اس کے نسب پر کوئی شرعی گواہی قائم نہ ہو جائے۔
حدیث نمبر: 18339
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ يَزِيدُ، أنبأ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اسْتَشَارَ ⦗٢٢٠⦘ أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَمِيلِ، فَقَالُوا فِيهِ، فَقَالَ عُثْمَانُ: " مَا نَرَى أَنْ نُوَرِّثَ مَالَ اللهِ إِلَّا بِالْبَيِّنَاتِ ".حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے قیدی کے بارے میں مشورہ لیا، انہوں نے اس کے بارے میں بات کی تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم اللہ کے مال کا وارث صرف دلیل کے ذریعے بناتے ہیں۔