السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الحميل لا يورث إذا عتق حتى تقوم بنسبه بينة من المسلمين باب: مجہول النسب قیدی اگر آزاد ہو جائے تو اسے اس وقت تک وارث نہیں بنایا جائے گا جب تک کہ مسلمانوں کی طرف سے اس کے نسب پر کوئی شرعی گواہی قائم نہ ہو جائے۔
حدیث نمبر: 18337
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ شُرَيْحٍ، قَالَ: كَتَبَ إِلِيَّ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لَا تُوَرِّثِ الْحَمِيلَ إِلَّا بِبَيِّنَةٍ "..حافظ ثناء اللہ
امام شعبی رحمہ اللہ، قاضی شریح رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے خط لکھا کہ: ”آپ کسی کو قیدی کا وارث بغیر دلیل کے نہ بنائیں۔“