السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الحميل لا يورث إذا عتق حتى تقوم بنسبه بينة من المسلمين باب: مجہول النسب قیدی اگر آزاد ہو جائے تو اسے اس وقت تک وارث نہیں بنایا جائے گا جب تک کہ مسلمانوں کی طرف سے اس کے نسب پر کوئی شرعی گواہی قائم نہ ہو جائے۔
حدیث نمبر: 18340
قَالَ: وَأنبأ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، أَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " لَا يُوَرَّثُ الْحَمِيلُ إِلَّا بِبَيِّنَةٍ ". وَهَذِهِ الْأَسَانِيدُ عَنْ عُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كُلُّهَا ضَعِيفَةٌ.حافظ ثناء اللہ
حبیب بن ابی ثابت فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ قیدی کو صرف دلیل کی بنا پر وارث بنایا جائے گا۔