کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس شخص کے بیان میں جس نے دو بھلائیوں یعنی غازی یا شہید میں سے کسی ایک کی امید پر رضاکارانہ طور پر خود کو موت کے سامنے پیش کر دیا۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " قَدْ بُورِزَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَمَلَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ حَاسِرًا عَلَى جَمَاعَةٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ بَدْرٍ بَعْدَ إِعْلَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهُ بِمَا فِي ذَلِكَ مِنَ الْخَيْرِ فَقُتِلَ " قَالَ الشَّيْخُ: هُوَ عَوْفُ ابْنُ عَفْرَاءَ فِيمَا ذَكَرَهُ ابْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، وَذَلِكَ مَعَ ذِكْرِ مَنْ بَارَزَ بَيْنَ يَدَيْهِ، يَرِدُ فِي مَوْضِعِهِ إِنْ شَاءَ اللهُ "..
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں (دشمن سے) انفرادی مقابلہ (مبارزت) کیا گیا، اور غزوہ بدر کے دن انصار میں سے ایک شخص نے بغیر زرہ کے مشرکین کی ایک جماعت پر حملہ کیا، جبکہ نبی کریم ﷺ اسے اس (عمل) میں موجود خیر (اور اجر) کی خبر دے چکے تھے، پس وہ شہید ہو گئے۔“
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”یہ سیدنا عوف بن عفراء رضی اللہ عنہ تھے، جیسا کہ ابن اسحاق نے عاصم بن عمر بن قتادہ سے ذکر کیا ہے، اور یہ (واقعہ) ان لوگوں کے ذکر کے ساتھ جنہوں نے آپ ﷺ کے سامنے مبارزت کی، ان شاء اللہ اپنے مقام پر آئے گا۔“...
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17915
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرَ شَيْئًا مِنْ قِصَّةِ بَدْرٍ، قَالَ: فَدَنَا الْمُشْرِكُونَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُومُوا إِلَى جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ ". قَالَ: يَقُولُ عُمَيْرُ بْنُ الْحُمَامِ الْأَنْصَارِيُّ: يَا رَسُولَ اللهِ، عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ؟ قَالَ: " نَعَمْ ". قَالَ: بَخٍ بَخٍ. قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا يَحْمِلُكَ عَلَى قَوْلِكَ: بَخٍ بَخٍ؟ ". قَالَ: لَا وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ إِلَّا رَجَاءَ أَنْ أَكُونَ مِنْ أَهْلِهَا. قَالَ: " فَإِنَّكَ مِنْ أَهْلِهَا ". قَالَ: فَأَخْرَجَ تَمَرَاتٍ مِنْ قَرَنِهِ فَجَعَلَ يَأْكُلُ مِنْهُنَّ، ثُمَّ قَالَ: " لَئِنْ أَنَا حَيِيتُ حَتَّى آكُلَ مِنْ تَمَرَاتِي هَذِهِ إِنَّهَا لَحَيَاةٌ طَوِيلَةٌ ". قَالَ: فَرَمَى بِمَا كَانَ مَعَهُ مِنَ التَّمْرِ، ثُمَّ قَاتَلَهُمْ حَتَّى قُتِلَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بدر کا واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ مشرکین قریب ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جنت کی طرف بڑھو، ﴿وہ جنت جس کی چوڑائی (عرض) زمین اور آسمان کے درمیان فاصلے کے برابر ہے﴾ [سورة آل عمران: 133]۔“ عمیر بن حمام انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا اس کا عرض (چوڑائی) آسمان و زمین کے درمیانی خلا کے برابر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں!“ تو عمیر نے کہا: «بَخٍ بَخٍ» ”واہ واہ۔“ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”تو نے «بَخٍ بَخٍ» (واہ واہ) کیوں کہا؟“ تو عمیر نے کہا کہ صرف اس امید کی وجہ سے کہ میں ان میں سے ہو جاؤں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو ان میں سے ہے۔“ اس نے اپنی پوٹلی سے کھجوریں نکال کر کھانا شروع کیں۔ پھر کہا: اگر ان کھجوروں کو کھانے تک میں مزید رکا تو یہ لمبی زندگی ہو گی، اسی وقت کھجوروں کو پھینکا اور دشمن سے لڑا حتیٰ کہ شہید ہو گیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17915
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ: أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ أَيْنَ أَنَا؟ قَالَ: " فِي الْجَنَّةِ ". فَأَلْقَى تُمَيْرَاتٍ كُنَّ فِي يَدِهِ ثُمَّ قَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ. أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے احد کے دن رسول اللہ ﷺ سے کہا: اگر آج میں قتل کر دیا جاؤں تو کہاں ہوں گا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جنت میں۔“ اس نے اپنے پاس سے کھجوریں پھینکیں اور دشمن سے لڑا اور شہید ہو گیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17916
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ، ثنا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّضْرَ بْنَ أَنَسٍ عَمَّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ غَابَ عَنْ قِتَالِ بَدْرٍ، فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ: غِبْتُ عَنْ أَوَّلِ قِتَالٍ قَاتَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُشْرِكِينَ، لَئِنْ أَشْهَدَنِي اللهُ قِتَالًا لَيَرَيَنَّ اللهُ مَا ⦗٧٦⦘ أَصْنَعُ. فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ انْكَشَفَ الْمُسْلِمُونَ، فَقَالَ: اللهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا جَاءَ بِهِ هَؤُلَاءِ - يَعْنِي الْمُشْرِكِينَ - وَأَعْتَذِرُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ هَؤُلَاءِ - يَعْنِي الْمُسْلِمِينَ - ثُمَّ مَشَى بِسَيْفِهِ، فَلَقِيَهُ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، فَقَالَ أَيْ سَعْدٌ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَجِدُ رِيحَ الْجِنَّةِ دُونَ أُحُدٍ وَاهًا لِرِيحِ الْجَنَّةِ. قَالَ سَعْدٌ: فَمَا اسْتَطَعْتُ يَا رَسُولَ اللهِ مَا صَنَعَ، فَوَجَدْنَاهُ بَيْنَ الْقَتْلَى وَبِهِ بِضْعٌ وَثَمَانُونَ جِرَاحَةً مِنْ ضَرْبَةٍ بِسَيْفٍ، وَطَعْنَةٍ بِرُمْحٍ، وَرَمْيَةٍ بِسَهْمٍ، وَقَدْ مَثَّلُوا بِهِ حَتَّى عَرَفَتْهُ أُخْتُهُ بِبَنَانِهِ. قَالَ أَنَسٌ: كُنَّا نَقُولُ: أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللهَ عَلَيْهِ} [الأحزاب: ٢٣] فِيهِ وَفِي أَصْحَابِهِ. كَذَا فِي كِتَابِي، وَالصَّوَابُ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ حُمَيْدٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: انس بن مالک کے چچا نضر بن انس بدر کی لڑائی سے غائب رہے۔ جب وہ آئے تو کہا کہ میں پہلی لڑائی سے غائب ہوا ہوں جو رسول اللہ ﷺ نے مشرکین سے لڑی ہے۔ اگر میں حاضر ہوتا تو اللہ دیکھتا کہ میں کیا کرتا۔
جب احد کا موقع آیا تو مسلمانوں نے اس کو ظاہر کر دیا اور اس کے کام کو دیکھ لیا۔ اس نے کہا: اے اللہ! میں مشرکوں کے ارادے سے بری ہوں اور مسلمان جو کریں میں ان کو معذور سمجھتا ہوں۔ پھر وہ اپنی تلوار لے کر نکلے اور سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے ملے۔ ان کو رسول اللہ ﷺ نے کہا کہ ”اللہ کی قسم! مجھے احد سے آگے جنت کی خوشبو آ رہی ہے۔ جنت کی خوشبو کتنی پیاری ہے۔“ سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں اس کی طاقت نہیں رکھتا جو اس نے کیا۔ ہم نے اس کو مقتولین میں پایا۔ ان کو اسی سے اوپر زخم آئے تھے جس میں تلوار، نیزہ اور تیر سب کے زخم تھے۔ ان کا مثلہ کر دیا گیا تھا، ان کی بہن نے ان کی انگلی کے پورے سے پہچانا تھا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم کہا کرتے تھے کہ آیت ﴿مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ﴾ [سورة الأحزاب: 23] ”مومنوں میں سے کچھ مرد ایسے ہیں جنہوں نے وہ بات سچ کہی جس پر انہوں نے عہد کیا تھا۔“ ان کے اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں اتری ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں: میری کتاب میں اسی طرح ہے مگر صحیح نضر بن انس کی بجائے انس بن نضر ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17917
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْخَطَّابِ بْنِ عُمَرَ الْأَنْصَارِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَبِيبٍ الْمَعْمَرِيُّ إِمْلَاءً، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، وَثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُفْرِدَ يَوْمَ أُحُدٍ فِي سَبْعَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَرَجُلَيْنِ مِنْ قُرَيْشٍ، فَلَمَّا رَهِقُوهُ قَالَ: " مَنْ يَرُدُّهُمْ عَنَّا وَلَهُ الْجَنَّةُ، أَوْ هُوَ رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ؟ ". فَتَقَدَّمَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، ثُمَّ رَهِقُوهُ أَيْضًا، فَقَالَ: " مَنْ يَرُدُّهُمْ عَنَّا وَلَهُ الْجَنَّةُ، أَوْ هُوَ رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ؟ ". فَتَقَدَّمَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى قُتِلَ السَّبْعَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَاحِبَيْهِ: " مَا أَنْصَفْنَا أَصْحَابَنَا ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هَدَّابِ بْنِ خَالِدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ احد کے میدان میں آپ ﷺ کے سامنے سات انصار اور دو قریشی اکیلے رہ گئے۔ جب کافروں نے آپ ﷺ کو گھیرے میں لے لیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کون ہے جو ان کو روکے؟ اس کے لیے جنت ہے یا وہ جنت میں میرا ساتھی ہو گا۔“ انصار میں سے ایک آگے آیا، دشمن سے لڑا اور شہید ہو گیا۔ انہوں نے پھر گھیرا تنگ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو ان کو روکے گا، اس کے لیے جنت ہے یا وہ جنت میں میرا ساتھی ہو گا۔“ دوسرا انصاری آگے بڑھا اور لڑ کر شہید ہو گیا۔ اس طرح ساتوں انصاری شہید ہو گئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہم نے اپنے ساتھیوں سے انصاف نہیں کیا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17918
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ الْوَازِعِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ بَعْضِ بَنِي أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: عُبَيْدُ اللهِ أَرَاهُ ثُمَامَةَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: مَرَرْتُ يَوْمَ الْيَمَامَةِ بِثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ وَهُوَ يَتَحَنَّطُ، فَقُلْتُ: " يَا عَمِّ، أَمَا تَرَى مَا يَلْقَى الْمُسْلِمُونَ؟ أَيْ وَأَنْتَ هَهُنَا. قَالَ: فَتَبَسَّمَ، ثُمَّ قَالَ: الْآنَ يَا ابْنَ أَخِي. فَلَبِسَ سِلَاحَهُ، وَرَكِبَ فَرَسَهُ حَتَّى أَتَى الصَّفَّ، فَقَالَ: أُفٍّ لِهَؤُلَاءِ وَلِمَا يَصْنَعُونَ. وَقَالَ لِلْعَدُوِّ: أُفٍّ لِهَؤُلَاءِ وَلِمَا يَعْبُدُونَ، خَلُّوا عَنْ سَبِيلِهِ، أَوْ قَالَ: سَنَنِهِ - يَعْنِي فَرَسَهُ - حَتَّى أَصْلَى بِحَرِّهَا. فَحَمَلَ، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: وہ یمامہ کی لڑائی کے دن ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، وہ مہندی لگا رہے تھے۔ میں نے کہا: آپ کو خبر نہیں کہ مسلمانوں پر کیا لاحق ہو گیا اور آپ یہاں ہیں؟ وہ مسکرائے اور کہا: بھتیجے! ابھی چلتے ہیں۔ انہوں نے ہتھیار پہنے اور گھوڑے پر سوار ہوئے، صفوں تک پہنچ گئے اور کہا: افسوس ہے ان پر اور ان کے خون پر، اور دشمن سے کہا: افسوس ہے ان پر اور جس کی یہ عبادت کرتے ہیں۔ انہوں نے ان کا راستہ چھوڑ دیا یا کہا کہ ان کے گھوڑے کا راستہ چھوڑ دیا، یہاں تک کہ وہ گھمسان کی جنگ میں پہنچ گئے اور حملہ کیا، لڑائی کی اور شہید ہو گئے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17919
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا ابْنُ عُثْمَانَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، أَنَّ ⦗٧٧⦘ عِكْرِمَةَ بْنَ أَبِي جَهْلٍ تَرَجَّلَ يَوْمَ كَذَا، فَقَالَ لَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ: " لَا تَفْعَلْ فَإِنَّ قَتْلَكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ شَدِيدٌ ". فَقَالَ: خَلِّ عَنِّي يَا خَالِدُ، فَإِنَّهُ قَدْ كَانَتْ لَكَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَابِقَةٌ، وَإِنِّي وَأَبِي كُنَّا مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَمَشَى حَتَّى قُتِلَ ".
حافظ ثناء اللہ
ثابت بنانی سے روایت ہے کہ سیدنا عکرمہ بن ابی جہل رضی اللہ عنہ ایک لڑائی میں ایک دن پیدل چلنے لگے تو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ایسا نہ کر، تیرا قتل مسلمانوں پر گراں ہو گا۔“ انہوں نے کہا: ”میرا راستہ چھوڑ دیں۔ اے خالد رضی اللہ عنہ! آپ تو نبی ﷺ کا ساتھ دینے میں مجھ سے آگے ہیں، جبکہ میں اور میرا باپ اللہ کے رسول ﷺ کے سب سے بڑے دشمن تھے،“ وہ چلے اور شہید ہو گئے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17920
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْجَهْمِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَعْوَرُ، أَخْبَرَنِي السَّرِيُّ بْنُ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، أَنَّ الْمُسْلِمِينَ انْتَهَوْا إِلَى حَائِطٍ قَدْ أُغْلِقَ بَابُهُ فِيهِ رِجَالٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَجَلَسَ الْبَرَاءُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى تُرْسٍ فَقَالَ: " ارْفَعُونِي بِرِمَاحِكُمْ فَأَلْقُونِي إِلَيْهِمْ ". فَرَفَعُوهُ بِرِمَاحِهِمْ فَأَلْقَوهُ مِنْ وَرَاءِ الْحَائِطِ فَأَدْرَكُوهُ قَدْ قَتَلَ مِنْهُمْ عَشَرَةً.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسلمان ایک باغ کے پاس پہنچے جس کا دروازہ بند تھا اور اس باغ میں مشرکین تھے، تو براء بن مالک رضی اللہ عنہ ایک ڈھال پر بیٹھ گئے اور کہا کہ مجھے اپنے نیزوں سے اوپر اٹھاؤ اور مجھے ان کی طرف ڈال دو، تو انہوں نے اپنے نیزوں سے انہیں اٹھایا اور باغ کی دوسری طرف ڈال دیا۔ جب تک انہوں نے ان کو پایا تو وہ ان کے دس آدمی قتل کر چکے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17921
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْإِمَامُ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ بِحَضْرَةِ الْعَدُوِّ. قَالَ: فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الْجَنَّةُ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ ". قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ رَثُّ الْهَيْئَةِ، فَقَالَ: يَا أَبَا مُوسَى، أَنْتَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَذَا؟ قَالَ: اللهُمَّ نَعَمْ. قَالَ: فَرَجَعَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ كَسَرَ جَفْنَ سَيْفِهِ وَشَدَّ عَلَى الْعَدُوِّ، ثُمَّ قَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ.
حافظ ثناء اللہ
ابوبکر بن ابی موسیٰ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب دشمن حاضر ہوا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا: «الْجَنَّةَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ» ”جنت تلواروں کے سائے میں ہے“، ایک آدمی اٹھا وہ پراگندہ حالت میں تھا، اس نے کہا: اے ابوموسیٰ! کیا آپ نے خود رسول اللہ ﷺ سے یہ کہتے ہوئے سنا؟ انہوں نے کہا: ہاں، وہ اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹا، ان کو سلام کیا اور اپنی تلوار کی میان کو توڑا اور دشمن پر زور دار حملہ کیا اور شہید ہو گیا۔ [صحیح: مسلم]
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17922