السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: من تبرع بالتعرض للقتل رجاء إحدى الحسنيين باب: اس شخص کے بیان میں جس نے دو بھلائیوں یعنی غازی یا شہید میں سے کسی ایک کی امید پر رضاکارانہ طور پر خود کو موت کے سامنے پیش کر دیا۔
حدیث نمبر: 17921
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْجَهْمِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَعْوَرُ، أَخْبَرَنِي السَّرِيُّ بْنُ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، أَنَّ الْمُسْلِمِينَ انْتَهَوْا إِلَى حَائِطٍ قَدْ أُغْلِقَ بَابُهُ فِيهِ رِجَالٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَجَلَسَ الْبَرَاءُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى تُرْسٍ فَقَالَ: " ارْفَعُونِي بِرِمَاحِكُمْ فَأَلْقُونِي إِلَيْهِمْ ". فَرَفَعُوهُ بِرِمَاحِهِمْ فَأَلْقَوهُ مِنْ وَرَاءِ الْحَائِطِ فَأَدْرَكُوهُ قَدْ قَتَلَ مِنْهُمْ عَشَرَةً.حافظ ثناء اللہ
محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسلمان ایک باغ کے پاس پہنچے جس کا دروازہ بند تھا اور اس باغ میں مشرکین تھے، تو براء بن مالک رضی اللہ عنہ ایک ڈھال پر بیٹھ گئے اور کہا کہ مجھے اپنے نیزوں سے اوپر اٹھاؤ اور مجھے ان کی طرف ڈال دو، تو انہوں نے اپنے نیزوں سے انہیں اٹھایا اور باغ کی دوسری طرف ڈال دیا۔ جب تک انہوں نے ان کو پایا تو وہ ان کے دس آدمی قتل کر چکے تھے۔