السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: من تبرع بالتعرض للقتل رجاء إحدى الحسنيين باب: اس شخص کے بیان میں جس نے دو بھلائیوں یعنی غازی یا شہید میں سے کسی ایک کی امید پر رضاکارانہ طور پر خود کو موت کے سامنے پیش کر دیا۔
حدیث نمبر: 17916
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ: أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ أَيْنَ أَنَا؟ قَالَ: " فِي الْجَنَّةِ ". فَأَلْقَى تُمَيْرَاتٍ كُنَّ فِي يَدِهِ ثُمَّ قَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ. أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے احد کے دن رسول اللہ ﷺ سے کہا: اگر آج میں قتل کر دیا جاؤں تو کہاں ہوں گا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جنت میں۔“ اس نے اپنے پاس سے کھجوریں پھینکیں اور دشمن سے لڑا اور شہید ہو گیا۔