السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: من تبرع بالتعرض للقتل رجاء إحدى الحسنيين باب: اس شخص کے بیان میں جس نے دو بھلائیوں یعنی غازی یا شہید میں سے کسی ایک کی امید پر رضاکارانہ طور پر خود کو موت کے سامنے پیش کر دیا۔
حدیث نمبر: 17920
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا ابْنُ عُثْمَانَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، أَنَّ ⦗٧٧⦘ عِكْرِمَةَ بْنَ أَبِي جَهْلٍ تَرَجَّلَ يَوْمَ كَذَا، فَقَالَ لَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ: " لَا تَفْعَلْ فَإِنَّ قَتْلَكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ شَدِيدٌ ". فَقَالَ: خَلِّ عَنِّي يَا خَالِدُ، فَإِنَّهُ قَدْ كَانَتْ لَكَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَابِقَةٌ، وَإِنِّي وَأَبِي كُنَّا مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَمَشَى حَتَّى قُتِلَ ".حافظ ثناء اللہ
ثابت بنانی سے روایت ہے کہ سیدنا عکرمہ بن ابی جہل رضی اللہ عنہ ایک لڑائی میں ایک دن پیدل چلنے لگے تو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ایسا نہ کر، تیرا قتل مسلمانوں پر گراں ہو گا۔“ انہوں نے کہا: ”میرا راستہ چھوڑ دیں۔ اے خالد رضی اللہ عنہ! آپ تو نبی ﷺ کا ساتھ دینے میں مجھ سے آگے ہیں، جبکہ میں اور میرا باپ اللہ کے رسول ﷺ کے سب سے بڑے دشمن تھے،“ وہ چلے اور شہید ہو گئے۔