السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: من تبرع بالتعرض للقتل رجاء إحدى الحسنيين باب: اس شخص کے بیان میں جس نے دو بھلائیوں یعنی غازی یا شہید میں سے کسی ایک کی امید پر رضاکارانہ طور پر خود کو موت کے سامنے پیش کر دیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ، ثنا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّضْرَ بْنَ أَنَسٍ عَمَّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ غَابَ عَنْ قِتَالِ بَدْرٍ، فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ: غِبْتُ عَنْ أَوَّلِ قِتَالٍ قَاتَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُشْرِكِينَ، لَئِنْ أَشْهَدَنِي اللهُ قِتَالًا لَيَرَيَنَّ اللهُ مَا ⦗٧٦⦘ أَصْنَعُ. فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ انْكَشَفَ الْمُسْلِمُونَ، فَقَالَ: اللهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا جَاءَ بِهِ هَؤُلَاءِ - يَعْنِي الْمُشْرِكِينَ - وَأَعْتَذِرُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ هَؤُلَاءِ - يَعْنِي الْمُسْلِمِينَ - ثُمَّ مَشَى بِسَيْفِهِ، فَلَقِيَهُ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، فَقَالَ أَيْ سَعْدٌ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَجِدُ رِيحَ الْجِنَّةِ دُونَ أُحُدٍ وَاهًا لِرِيحِ الْجَنَّةِ. قَالَ سَعْدٌ: فَمَا اسْتَطَعْتُ يَا رَسُولَ اللهِ مَا صَنَعَ، فَوَجَدْنَاهُ بَيْنَ الْقَتْلَى وَبِهِ بِضْعٌ وَثَمَانُونَ جِرَاحَةً مِنْ ضَرْبَةٍ بِسَيْفٍ، وَطَعْنَةٍ بِرُمْحٍ، وَرَمْيَةٍ بِسَهْمٍ، وَقَدْ مَثَّلُوا بِهِ حَتَّى عَرَفَتْهُ أُخْتُهُ بِبَنَانِهِ. قَالَ أَنَسٌ: كُنَّا نَقُولُ: أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللهَ عَلَيْهِ} [الأحزاب: ٢٣] فِيهِ وَفِي أَصْحَابِهِ. كَذَا فِي كِتَابِي، وَالصَّوَابُ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ حُمَيْدٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: انس بن مالک کے چچا نضر بن انس بدر کی لڑائی سے غائب رہے۔ جب وہ آئے تو کہا کہ میں پہلی لڑائی سے غائب ہوا ہوں جو رسول اللہ ﷺ نے مشرکین سے لڑی ہے۔ اگر میں حاضر ہوتا تو اللہ دیکھتا کہ میں کیا کرتا۔
جب احد کا موقع آیا تو مسلمانوں نے اس کو ظاہر کر دیا اور اس کے کام کو دیکھ لیا۔ اس نے کہا: اے اللہ! میں مشرکوں کے ارادے سے بری ہوں اور مسلمان جو کریں میں ان کو معذور سمجھتا ہوں۔ پھر وہ اپنی تلوار لے کر نکلے اور سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے ملے۔ ان کو رسول اللہ ﷺ نے کہا کہ ”اللہ کی قسم! مجھے احد سے آگے جنت کی خوشبو آ رہی ہے۔ جنت کی خوشبو کتنی پیاری ہے۔“ سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں اس کی طاقت نہیں رکھتا جو اس نے کیا۔ ہم نے اس کو مقتولین میں پایا۔ ان کو اسی سے اوپر زخم آئے تھے جس میں تلوار، نیزہ اور تیر سب کے زخم تھے۔ ان کا مثلہ کر دیا گیا تھا، ان کی بہن نے ان کی انگلی کے پورے سے پہچانا تھا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم کہا کرتے تھے کہ آیت ﴿مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ﴾ [سورة الأحزاب: 23] ”مومنوں میں سے کچھ مرد ایسے ہیں جنہوں نے وہ بات سچ کہی جس پر انہوں نے عہد کیا تھا۔“ ان کے اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں اتری ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں: میری کتاب میں اسی طرح ہے مگر صحیح نضر بن انس کی بجائے انس بن نضر ہے۔