السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: من تبرع بالتعرض للقتل رجاء إحدى الحسنيين باب: اس شخص کے بیان میں جس نے دو بھلائیوں یعنی غازی یا شہید میں سے کسی ایک کی امید پر رضاکارانہ طور پر خود کو موت کے سامنے پیش کر دیا۔
حدیث نمبر: 17918
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْخَطَّابِ بْنِ عُمَرَ الْأَنْصَارِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَبِيبٍ الْمَعْمَرِيُّ إِمْلَاءً، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، وَثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُفْرِدَ يَوْمَ أُحُدٍ فِي سَبْعَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَرَجُلَيْنِ مِنْ قُرَيْشٍ، فَلَمَّا رَهِقُوهُ قَالَ: " مَنْ يَرُدُّهُمْ عَنَّا وَلَهُ الْجَنَّةُ، أَوْ هُوَ رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ؟ ". فَتَقَدَّمَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، ثُمَّ رَهِقُوهُ أَيْضًا، فَقَالَ: " مَنْ يَرُدُّهُمْ عَنَّا وَلَهُ الْجَنَّةُ، أَوْ هُوَ رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ؟ ". فَتَقَدَّمَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى قُتِلَ السَّبْعَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَاحِبَيْهِ: " مَا أَنْصَفْنَا أَصْحَابَنَا ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هَدَّابِ بْنِ خَالِدٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ احد کے میدان میں آپ ﷺ کے سامنے سات انصار اور دو قریشی اکیلے رہ گئے۔ جب کافروں نے آپ ﷺ کو گھیرے میں لے لیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کون ہے جو ان کو روکے؟ اس کے لیے جنت ہے یا وہ جنت میں میرا ساتھی ہو گا۔“ انصار میں سے ایک آگے آیا، دشمن سے لڑا اور شہید ہو گیا۔ انہوں نے پھر گھیرا تنگ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو ان کو روکے گا، اس کے لیے جنت ہے یا وہ جنت میں میرا ساتھی ہو گا۔“ دوسرا انصاری آگے بڑھا اور لڑ کر شہید ہو گیا۔ اس طرح ساتوں انصاری شہید ہو گئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہم نے اپنے ساتھیوں سے انصاف نہیں کیا۔“