السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: من تبرع بالتعرض للقتل رجاء إحدى الحسنيين باب: اس شخص کے بیان میں جس نے دو بھلائیوں یعنی غازی یا شہید میں سے کسی ایک کی امید پر رضاکارانہ طور پر خود کو موت کے سامنے پیش کر دیا۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " قَدْ بُورِزَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَمَلَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ حَاسِرًا عَلَى جَمَاعَةٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ بَدْرٍ بَعْدَ إِعْلَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهُ بِمَا فِي ذَلِكَ مِنَ الْخَيْرِ فَقُتِلَ " قَالَ الشَّيْخُ: هُوَ عَوْفُ ابْنُ عَفْرَاءَ فِيمَا ذَكَرَهُ ابْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، وَذَلِكَ مَعَ ذِكْرِ مَنْ بَارَزَ بَيْنَ يَدَيْهِ، يَرِدُ فِي مَوْضِعِهِ إِنْ شَاءَ اللهُ "..امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں (دشمن سے) انفرادی مقابلہ (مبارزت) کیا گیا، اور غزوہ بدر کے دن انصار میں سے ایک شخص نے بغیر زرہ کے مشرکین کی ایک جماعت پر حملہ کیا، جبکہ نبی کریم ﷺ اسے اس (عمل) میں موجود خیر (اور اجر) کی خبر دے چکے تھے، پس وہ شہید ہو گئے۔“
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”یہ سیدنا عوف بن عفراء رضی اللہ عنہ تھے، جیسا کہ ابن اسحاق نے عاصم بن عمر بن قتادہ سے ذکر کیا ہے، اور یہ (واقعہ) ان لوگوں کے ذکر کے ساتھ جنہوں نے آپ ﷺ کے سامنے مبارزت کی، ان شاء اللہ اپنے مقام پر آئے گا۔“...
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرَ شَيْئًا مِنْ قِصَّةِ بَدْرٍ، قَالَ: فَدَنَا الْمُشْرِكُونَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُومُوا إِلَى جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ ". قَالَ: يَقُولُ عُمَيْرُ بْنُ الْحُمَامِ الْأَنْصَارِيُّ: يَا رَسُولَ اللهِ، عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ؟ قَالَ: " نَعَمْ ". قَالَ: بَخٍ بَخٍ. قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا يَحْمِلُكَ عَلَى قَوْلِكَ: بَخٍ بَخٍ؟ ". قَالَ: لَا وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ إِلَّا رَجَاءَ أَنْ أَكُونَ مِنْ أَهْلِهَا. قَالَ: " فَإِنَّكَ مِنْ أَهْلِهَا ". قَالَ: فَأَخْرَجَ تَمَرَاتٍ مِنْ قَرَنِهِ فَجَعَلَ يَأْكُلُ مِنْهُنَّ، ثُمَّ قَالَ: " لَئِنْ أَنَا حَيِيتُ حَتَّى آكُلَ مِنْ تَمَرَاتِي هَذِهِ إِنَّهَا لَحَيَاةٌ طَوِيلَةٌ ". قَالَ: فَرَمَى بِمَا كَانَ مَعَهُ مِنَ التَّمْرِ، ثُمَّ قَاتَلَهُمْ حَتَّى قُتِلَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ.حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بدر کا واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ مشرکین قریب ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جنت کی طرف بڑھو، ﴿وہ جنت جس کی چوڑائی (عرض) زمین اور آسمان کے درمیان فاصلے کے برابر ہے﴾ [سورة آل عمران: 133]۔“ عمیر بن حمام انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا اس کا عرض (چوڑائی) آسمان و زمین کے درمیانی خلا کے برابر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں!“ تو عمیر نے کہا: «بَخٍ بَخٍ» ”واہ واہ۔“ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”تو نے «بَخٍ بَخٍ» (واہ واہ) کیوں کہا؟“ تو عمیر نے کہا کہ صرف اس امید کی وجہ سے کہ میں ان میں سے ہو جاؤں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو ان میں سے ہے۔“ اس نے اپنی پوٹلی سے کھجوریں نکال کر کھانا شروع کیں۔ پھر کہا: اگر ان کھجوروں کو کھانے تک میں مزید رکا تو یہ لمبی زندگی ہو گی، اسی وقت کھجوروں کو پھینکا اور دشمن سے لڑا حتیٰ کہ شہید ہو گیا۔