کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اہلِ بغاوت اور خوارج سے قتال کرنے کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ رَحِمَهُ اللهُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثَنَا أَبُو دَاوُدَ، ثَنَا شُعْبَةُ، وَأَبُو عَوَانَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، سَمِعَ عَرْفَجَةَ، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّهَا " سَتَكُونُ هَنَاتٌ وَهَنَاتٌ، فَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُفَرِّقَ أَمْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ، وَهُمْ جَمِيعٌ، فَاضْرِبُوا رَأْسَهُ بِالسَّيْفِ كَائِنًا مَنْ كَانَ " ⦗٢٩٢⦘ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ وَأَبِي عَوَانَةَ.
حافظ ثناء اللہ
عرفجہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”عنقریب فتنے اور فساد ہوں گے، تو جو شخص اس امت کے معاملے میں تفرقہ ڈالنا چاہے جبکہ وہ متحد ہو، تو اس کا سر تلوار سے اڑا دو، خواہ وہ کوئی بھی ہو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الشَّافِعِيُّ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثَنَا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُخْتَارِ، وَرَجُلٌ، سَمَّاهُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ عَرْفَجَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَتَكُونُ هَنَاتٌ وَهَنَاتٌ، فَمَنْ رَأَيْتُمُوهُ يَمْشِي إلَى أُمَّةِ مُحَمَّدٍ فَيُفَرِّقُ جَمَاعَتَهُمْ فَاقْتُلُوهُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ الشَّاعِرِ، عَنْ عَارِمٍ.
حافظ ثناء اللہ
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ اس سے پہلے گزر چکا ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي يَعْفُورٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَرْفَجَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ أَتَاكُمْ وَأَمْرُكُمْ جَمْعٌ عَلَى رَجُلٍ وَاحِدٍ يُرِيدُ أَنْ يَشُقَّ عَصَاكُمْ أَوْ يُفَرِّقَ جَمَاعَتَكُمْ فَاقْتُلُوهُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ اس سے پہلے گزر چکی ہے۔“
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا أَبُو بَكْرٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الضَّرِيرُ بِالرِّيِّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ، ثَنَا عَبْيدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثَنَا الْأَعْمَشُ، ح قَالَ: وَأَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثَنَا وَكِيعٌ، ثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْكَعْبَةِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو،، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَهُ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، وَهُوَ يُحَدِّثُ النَّاسَ، يَقُولُ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا فَمِنَّا مَنْ يَضْرِبُ خِبَاءَهُ، وَمِنَّا مَنْ هُوَ فِي جَشَرِهِ، وَمِنَّا مَنْ يَنْتَضِلُ، إِذْ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ، قَالَ: فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ وَيَقُولُ: " أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ يَدُلَّ أُمَّتَهُ عَلَى مَا يَعْلَمُهُ خَيْرًا لَهُمْ، وَيُنْذِرَهُمْ مَا يَعْلَمُهُ شَرًّا لَهُمْ، أَلَا وَإِنَّ عَافِيَةَ هَذِهِ الْأُمَّةِ فِي أَوَّلِهَا، وَسَيُصِيبُ آخِرَهَا بَلَاءٌ وَفِتَنٌ يَدْفُقُ بَعْضُهَا بَعْضًا، تَجِيءُ الْفِتَنُ فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ: هَذِهِ مُهْلِكَتِي، ثُمَّ تَنْكَشِفُ، ثُمَّ تَجِيءُ فَيَقُولُ: هَذِهِ هَذِهِ، ثُمَّ تَجِيءُ فَيَقُولُ: هَذِهِ هَذِهِ، ثُمَّ تَنْكَشِفُ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُزَحْزَحَ عَنِ النَّارِ وَيَدْخُلَ الْجَنَّةَ، فَلْتُدْرِكْهُ مَنِيَّتُهُ وَهُوَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَيَأْتِي إِلَى النَّاسِ مَا يُحِبُّ أَنْ يُؤْتَى إِلَيْهِ، وَمَنْ بَايَعَ إِمَامًا فَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ فَلْيُطِعْهُ إِنِ اسْتَطَاعَ "، وَقَالَ مَرَّةً: " مَا اسْتَطَاعَ "، أَظُنُّهُ قَالَ: فَإِنْ جَاءَ أَحَدٌ يُنَازِعُهُ فَاضْرِبُوا عُنُقَ الْآخَرَ. فَلَمَّا سَمِعْتُهَا أَدْخَلْتُ رَأْسِي بَيْنَ ⦗٢٩٣⦘ رَجُلَيْنِ فَقُلْتُ: إِنَّ ابْنَ عَمِّكَ مُعَاوِيَةُ يَأْمُرُنَا أَنْ نَقْتُلَ أَنْفُسَنَا، وَأَنْ نَأْكُلَ أَمْوَالَنَا بَيْنَنَا بِالْبَاطِلِ، وَاللهُ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: {وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ}، قَالَ: فَوَضَعَ جَمْعَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ، ثُمَّ نَكَسَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: أَطِعْهُ فِي طَاعَةِ اللهِ، وَاعْصِهِ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ ". قُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ، وَوَعَاهُ قَلْبِي. لَفْظُ حَدِيثِ وَكِيعٍ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ وَكِيعٍ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن عبد رب الکعبہ، عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ میں کعبہ کے سائے میں ان کے ساتھ بیٹھا تھا اور وہ لوگوں کو احادیث بیان کر رہے تھے کہ ہم ایک سفر میں نبی ﷺ کے ساتھ تھے۔ ہم ایک جگہ اترے تو ہم میں سے بعض خیمے لگانے لگے، بعض جانوروں کو چارہ دینے لگے اور بعض تیر اندازی کرنے لگے تو مؤذن نے پکارا: «الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ» ”نماز کھڑی ہو رہی ہے“۔ کہتے ہیں: جب میں وہاں گیا تو آپ ﷺ خطبہ دے رہے تھے: ”اے لوگو! مجھ سے پہلے جتنے بھی نبی آئے تو ان پر حق تھا کہ وہ خیر کے کاموں پر لوگوں کی راہنمائی کریں اور برائی سے ڈرائیں، خبردار! اس امت کا اول عافیت میں ہے اور آخر آزمائش اور فتنوں میں ہے، ایک فتنہ آئے گا مومن سمجھے گا یہ تو تباہ کر دے گا، وہ ختم ہو جائے گا۔ دوسرا آئے گا وہ کہے گا: یہ، یہ۔ پھر وہ بھی ختم ہو جائے گا۔ تیسرا آئے گا پھر وہ کہے گا: یہ، یہ، یہ بھی ختم ہو جائے گا۔ جو یہ چاہتا ہے کہ جہنم سے دور کر دیا جائے اور جنت میں داخل ہو جائے تو اسے موت اس حال میں آئے کہ وہ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور جو اپنے لیے پسند کرے وہی لوگوں کے لیے بھی پسند کرے اور جو امام سے بیعت کرے تو اس نے اپنی ہتھیلی اور اپنے دل کی خواہش اسے دے دی تو جہاں تک ہو سکے اس کی فرمان برداری کرے۔ اگر کوئی اس میں جھگڑا کرے تو اس کی گردن کاٹ دے۔“ جب میں نے ان سے یہ حدیث سنی تو دو آدمیوں کے درمیان میں سر داخل کیا اور کہا کہ آپ کے چچا کا بیٹا معاویہ ہمیں کہتا ہے کہ ہم اپنے آپ سے لڑیں اور ہمارے ہی مال ہم باطل طریقے سے کھائیں، حالانکہ اللہ فرماتا ہے: ﴿وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ﴾ [سورة النساء: 29] اور ﴿وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ﴾ [سورة البقرة: 188]، تو انھوں نے اپنے ہاتھ کو اپنی پیشانی پر رکھا، پھر ہٹایا اور اپنا سر اٹھایا اور فرمایا: اللہ کی اطاعت میں اس کی اطاعت کرو اور اللہ کی نافرمانی میں اس کی نافرمانی کرو۔ میں نے کہا: کیا آپ نے یہ نبی ﷺ سے سنا ہے؟ تو فرمایا: ہاں، میرے کانوں نے سنا ہے اور میرے دل نے یاد کیا ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحِيرِيُّ، ثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ فِيهِ: " وَمَنْ بَايَعَ إِمَامًا فَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ فَلْيُطِعْهُ مَا اسْتَطَاعَ، فَإِنْ جَاءَ أَحَدٌ يُنَازِعُهُ فَاضْرِبُوا عُنُقَ الْآخَرِ "، قَالَ: فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَقُلْتُ: أَنْشُدُكَ بِاللهِ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَأَوْمَى إِلَى أُذُنَيْهِ وَقَلْبِهِ بِيَدَيْهِ، فَقَالَ: سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ، وَوَعَاهُ قَلْبِي رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ جَرِيرٍ.
حافظ ثناء اللہ
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ پہلے گزر چکا ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثَنَا أَبُو دَاوُدَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِيُّ، أَنْبَأَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَا: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَنْبَأَ سُفْيَانُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَعَمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: بَعَثَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذُهَيْبَةٍ فِي تُرْبَتِهَا، فَقَسَمَهَا بَيْنَ أَرْبَعَةٍ: بَيْنَ الْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ الْحَنْظَلِيِّ ثُمَّ الْمُجَاشِعِيِّ، وَبَيْنَ عُيَيْنَةَ بْنِ بَدْرٍ الْفَزَارِيِّ، وَبَيْنَ زَيْدِ الْخَيْلِ الطَّائِيِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِي نَبْهَانَ، وَبَيْنَ عَلْقَمَةَ بْنِ عُلَاثَةَ الْعَامِرِيِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِي كِلَابٍ، قَالَ: فَغَضِبَتْ قُرَيْشٌ وَالْأَنْصَارُ وَقَالَتْ: يُعْطِي صَنَادِيدَ أَهْلِ نَجْدٍ وَيَدَعُنَا، فَقَالَ: " إِنَّمَا أَتَأَلَّفُهُمْ "، قَالَ: فَأَقْبَلَ رَجُلٌ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ، مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ، نَاتِئُ الْجَبِينِ، كَثُّ اللِّحْيَةِ، مَحْلُوقٌ، قَالَ: اتَّقِ اللهَ يَا مُحَمَّدُ، فَقَالَ: " مِنْ يُطِعِ اللهَ إِذَا عَصَيْتُهُ، أَيَأْمَنُنِي اللهُ عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ وَلَا تَأْمَنُونِي؟ " قَالَ: فَسَأَلَ رَجُلٌ قَتْلَهُ، أَحْسَبُهُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ، قَالَ: فَمَنَعَهُ، قَالَ: فَلَمَّا وَلَّى قَالَ: " إِنَّ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا، أَوْ فِي عَقِبِ هَذَا، قَوْمًا يَقْرءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ، يَقْتُلُونَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ وَيَدَعُونَ عَبْدَةَ الْأَوْثَانِ، لَئِنْ أَنَا أَدْرَكْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کچھ سونا مٹی میں ملا ہوا نبی ﷺ کے پاس بھیجا تو وہ آپ ﷺ نے چار افراد: اقرع بن حابس حنظلی مجاشعی، عیینہ بن بدر فزاری، زید خیل اور علقمہ بن علاقہ عامری کے درمیان تقسیم کر دیا۔ قریش اور انصار غصہ ہو گئے کہ اہل نجد کے شرفاء کو دے دیا گیا اور ہمیں چھوڑ دیا گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے ان کی تالیفِ قلب کی ہے۔“ ایک آدمی دھنسی ہوئی آنکھوں والا، پھولے ہوئے گالوں والا، ابھری ہوئی پیشانی والا، گھنی داڑھی والا اور گنجا کہنے لگا: اے محمد! اللہ سے ڈریے؛ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر میں اللہ کی نافرمانی کروں تو اطاعت کون کرے گا؟ اللہ نے مجھے اہل ارض پر امین بنایا ہے، تم مجھے امین نہیں بناتے۔“ تو ایک آدمی (غالباً خالد بن ولید رضی اللہ عنہ) نے عرض کی: کیا اسے قتل کر دوں؟ تو آپ ﷺ نے روک دیا۔ جب وہ شخص چلا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی نسل سے ایک قوم ہو گی جو قرآن تو پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلقوں سے نیچے نہیں اترے گا، وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے، اہل اسلام کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے۔ اگر میں انہیں پاؤں تو عاد قوم کی طرح انہیں قتل کر دوں۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثَنَا أَبُو دَاوُدَ، ثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ، ثَنَا أَبُو نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَكُونُ فُرْقَةٌ بَيْنَ طَائِفَتَيْنِ مِنْ أُمَّتِي، تَمْرُقُ بَيْنَهُمَا مَارِقَةٌ تَقْتُلُهَا أَوْلَى الطَّائِفَتَيْنِ بِالْحَقِّ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ شَيْبَانَ، عَنِ الْقَاسِمِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کے دو گروہوں کے درمیان جدائی ہو گی اور ایک نکلنے والا ان میں سے نکل جائے گا، اس سے دونوں گروہوں میں سے حق کے قریب والا لڑے گا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ يَعْقُوبُ بْنُ أَحْمَدَ الْخُسْرَوْجِرْدِيُّ، ثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْخُسْرَوْجِرْدِيُّ، ثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، ثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ الْمِشْرَقِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَدِيثٍ ذَكَرَ فِيهِ قَوْمًا يَخْرُجُونَ عَلَى فُرْقَةٍ مِنَ النَّاسِ، يَقْتُلُهُمْ أَقْرَبُ الْفِئَتَيْنِ إِلَى الْحَقِّ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَوَارِيرِيِّ، عَنْ أَبِي أَحْمَدَ.
حافظ ثناء اللہ
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”پہلے گزر چکی ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: إِذَا سَمِعْتُمْ بِي أُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا، فَلَأَنْ أَخِرَّ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَكْذِبَ عَلَيْهِ، وَإِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ غَيْرِهِ فَإِنَّمَا أَنَا رَجُلٌ مُحَارِبٌ، وَالْحَرْبُ خَدْعَةٌ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ أَحْدَاثُ الْأَسْنَانِ، سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ، يَقُولُونَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ الْبَرِيَّةِ، لَا يُجَاوِزُ إِيمَانُهُمْ حَنَاجِرَهُمْ، فَأَيْنَمَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ، فَإِنَّ قَتْلَهُمْ أَجْرٌ لِمَنْ قَتَلَهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میں تمہیں نبی ﷺ سے کوئی حدیث سناؤں تو مجھے آسمان سے گرنا محبوب ہے اس سے کہ میں آپ ﷺ پر جھوٹ بولوں اور جب میں آپ کے غیر سے بیان کروں تو میں ایک جنگجو ہوں اور ”جنگ دھوکا ہے“، میں نے نبی ﷺ کو فرماتے سنا: ”آخری زمانے میں ایسی قوم آئے گی جن کی عمریں کم، دماغ کے بے وقوف، اچھی بات کہیں گے لیکن ایمان ان کے حلقوں سے نیچے نہیں جائے گا، وہ جہاں بھی ملیں انھیں قتل کردینا، کیونکہ ان کو قتل کرنے والے کے لیے قیامت کے دن ان کے قتل کا اجر ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ، أَنْبَأَ أَبُو سَعِيدٍ، ثَنَا الزَّعْفَرَانِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، ثَنَا الْأَعْمَشُ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، زَادَ: " يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنِ الْأَعْمَشِ.
حافظ ثناء اللہ
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ اس سے پہلے گزر چکا ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِيُّ، أَنْبَأَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عُبَيْدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ: ذَكَرَ الْخَوَارِجَ، وَقَالَ حَمَّادٌ: ذَكَرَ أَهْلَ النَّهْرَوَانِ، فَقَالَ: " فِيهِمْ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ، أَوْ مُودَنُ الْيَدِ، أَوْ مَثْدُونُ الْيَدِ، لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا لَحَدَّثْتُكُمْ مَا وَعَدَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَهُمْ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ " قُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: إِيْ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، إِيْ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ إِيْ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّْمِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خوارج یا اہل نہروان کا ذکر کیا اور فرمایا: ”ان میں ایک شخص ہے جو ناقص ہاتھ والا یا بھرے ہوئے گوشت کے ہاتھ والا ہے۔ اگر تم تکبر میں نہ آؤ تو میں تمہیں اس چیز کے بارے میں بتاؤں جس کا اللہ نے محمد ﷺ کی زبان پر ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو ان سے لڑیں گے۔“ میں نے کہا: کیا آپ نے یہ محمد ﷺ سے سنا ہے؟ فرمایا: ہاں، ربِ کعبہ کی قسم! تین مرتبہ فرمایا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، قَالَا: ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، ثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ الْجُهَنِيُّ، أَنَّهُ كَانَ فِي الْجَيْشِ الَّذِينَ كَانُوا مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، الَّذِينَ سَارُوا إِلَى الْخَوَارِجِ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يَخْرُجُ مِنْ أُمَّتِي قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، لَيْسَتْ قِرَاءَتُكُمْ إِلَى قِرَاءَتِهِمْ بِشَيْءٍ، وَلَا صَلَاتُكُمْ إِلَى صَلَاتِهِمْ بِشَيْءٍ، وَلَا صِيَامُكُمْ إِلَى صِيَامِهِمْ بِشَيْءٍ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا تُجَاوِزُ صَلَاتُهُمْ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، لَوْ يَعْلَمُ الْجَيْشُ الَّذِينَ يُصِيبُونَهُمْ مَا قَضَى اللهُ لَهُمْ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَاتَّكَلُوا عَنِ الْعَمَلِ، وَآيَةُ ذَلِكَ أَنَّ فِيهِمْ رَجُلًا لَهُ عَضُدٌ، وَلَيْسَتْ لَهُ ذِرَاعٌ، عَلَى عَضُدِهِ مِثْلُ حَلَمَةِ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ، عَلَيْهِ شَعَرَاتٌ بِيضٌ "، فَتَذْهَبُونَ إِلَى مُعَاوِيَةَ وَأَهْلِ الشَّامِ وَتَتْرُكُونَ هَؤُلَاءِ يَخْلُفُونَكُمْ فِي ذَرَارِيِّكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ، وَاللهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَكُونُوا هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ، فَإِنَّهُمْ قَدْ سَفَكُوا الدَّمَ، وَأَغَارُوا فِي سَرْحِ النَّاسِ، فَسِيرُوا عَلَى اسْمِ اللهِ "، قَالَ سَلَمَةُ: فَنَزَّلَنِي زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ مَنْزِلًا مَنْزِلًا، حَتَّى قَالَ: مَرَرْنَا عَلَى قَنْطَرَةٍ، قَالَ: فَلَمَّا الْتَقَيْنَا وَعَلَى الْخَوَارِجِ يَوْمَئِذٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ الرَّاسِبِيُّ، فَقَالَ لَهُمْ: أَلْقُوا الرِّمَاحِ، وَسُلُّوا سُيُوفَكُمْ مِنْ جُفُونِهَا، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يُنَاشِدُوكُمْ كَمَا نَاشَدُوكُمْ يَوْمَ حَرُورَا فَرَجَعْتُمْ، قَالَ: فَوَحَّشُوا بِرِمَاحِهِمْ، وَسَلُّوا السُّيُوفَ، وَشَجَرَهُمُ النَّاسُ بِرِمَاحِهِمْ، قَالَ: فَقُتِلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، وَمَا أُصِيبَ مِنَ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ إِلَّا رَجُلَانِ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: الْتَمِسُوا فِيهُمُ الْمُخْدَجَ، فَلَمْ يَجِدُوهُ، فَقَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِنَفْسِهِ فَالْتَمَسَهُ فَوَجَدَهُ، فَقَالَ: صَدَقَ اللهُ، وَبَلَّغَ رَسُولُهُ، فَقَامَ إِلَيْهِ عُبَيْدَةُ السَّلْمَانِيُّ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ ⦗٢٩٦⦘ الْمُؤْمِنِينَ آللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَسَمِعْتَ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: إِيْ وَاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، حَتَّى اسْتَحْلَفَهُ ثَلَاثًا وَهُوَ يَحْلِفُ لَهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
حافظ ثناء اللہ
زید بن وہب جہنی، جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خوارج کے خلاف جنگ میں شریک تھے، فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے لوگو! میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت میں ایسے لوگ آئیں گے جو قرآن پڑھیں گے، تمہاری قراءت ان کی قراءت کے مقابلے میں، تمہاری نماز ان کی نماز کے مقابلے میں اور تمہارے روزے ان کے روزوں کے مقابلے میں کوئی چیز نہیں ہوں گے۔ وہ قرآن پڑھیں گے لیکن ان کی نماز ان کی ہنسلی کی ہڈیوں سے نیچے نہیں اترے گی۔ وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ جو لشکر ان سے لڑے گا اگر وہ جان لے کہ اللہ نے اپنے نبی ﷺ کی زبان پر ان کے لیے کیا فیصلہ فرمایا ہے تو وہ اسی پر بھروسا کر کے (دوسرے) اعمال چھوڑ بیٹھیں۔ ان کی نشانی یہ ہے کہ ان میں ایک شخص ہوگا جس کا بازو ہوگا مگر کلائی نہیں ہوگی اور اس کے بازو پر عورت کے پستان جیسا گوشت کا لوتھڑا ہوگا، جس پر سفید بال ہوں گے۔““ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا تم معاویہ اور اہل شام کی طرف جاؤ گے اور انہیں اپنے پیچھے اپنی اولاد اور مالوں میں چھوڑ جاؤ گے؟ اللہ کی قسم! مجھے امید ہے کہ یہی وہ لوگ ہیں، کیونکہ انہوں نے خون بہایا ہے اور لوگوں کے مویشیوں پر حملے کیے ہیں؛ لہٰذا اللہ کا نام لے کر چلو۔“
سلمہ کہتے ہیں: زید بن وہب نے مجھے ایک ایک منزل بیان کی یہاں تک کہ کہا: ہم ایک پل سے گزرے۔ جب ہمارا آمنا سامنا ہوا تو اس دن خوارج کا سردار عبداللہ بن وہب راسبی تھا، اس نے ان سے کہا: نیزے پھینک دو اور تلواریں میانوں سے نکال لو، کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ یہ تمہیں اللہ کا واسطہ دیں گے جیسے حروراء کے دن واسطہ دیا تھا تو تم لوٹ گئے تھے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے نیزے دور پھینک دیے اور تلواریں نکال لیں، اور لوگوں نے انہیں نیزوں سے مارا، تو وہ ایک دوسرے پر گر کر قتل ہوئے، اور اس دن (سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے) لوگوں میں سے صرف 2 آدمی قتل ہوئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ان میں ناقص بازو والے آدمی کو تلاش کرو۔“ لوگوں نے تلاش کیا تو وہ نہ ملا، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ خود گئے تو وہ مل گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ نے سچ فرمایا ہے اور اس کے رسول ﷺ نے (حق) پہنچا دیا ہے۔“ اس پر عبیدہ سلمانی رحمہ اللہ فرمانے لگے: ”اے امیر المؤمنین! اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! کیا واقعی آپ نے یہ حدیث نبی کریم ﷺ سے سنی ہے؟“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہاں، اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں!“ یہاں تک کہ انہوں نے تین مرتبہ قسم لی اور آپ ہر بار قسم اٹھاتے رہے۔
سلمہ کہتے ہیں: زید بن وہب نے مجھے ایک ایک منزل بیان کی یہاں تک کہ کہا: ہم ایک پل سے گزرے۔ جب ہمارا آمنا سامنا ہوا تو اس دن خوارج کا سردار عبداللہ بن وہب راسبی تھا، اس نے ان سے کہا: نیزے پھینک دو اور تلواریں میانوں سے نکال لو، کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ یہ تمہیں اللہ کا واسطہ دیں گے جیسے حروراء کے دن واسطہ دیا تھا تو تم لوٹ گئے تھے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے نیزے دور پھینک دیے اور تلواریں نکال لیں، اور لوگوں نے انہیں نیزوں سے مارا، تو وہ ایک دوسرے پر گر کر قتل ہوئے، اور اس دن (سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے) لوگوں میں سے صرف 2 آدمی قتل ہوئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ان میں ناقص بازو والے آدمی کو تلاش کرو۔“ لوگوں نے تلاش کیا تو وہ نہ ملا، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ خود گئے تو وہ مل گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ نے سچ فرمایا ہے اور اس کے رسول ﷺ نے (حق) پہنچا دیا ہے۔“ اس پر عبیدہ سلمانی رحمہ اللہ فرمانے لگے: ”اے امیر المؤمنین! اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! کیا واقعی آپ نے یہ حدیث نبی کریم ﷺ سے سنی ہے؟“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہاں، اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں!“ یہاں تک کہ انہوں نے تین مرتبہ قسم لی اور آپ ہر بار قسم اٹھاتے رہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ، ثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ الْحَرُورِيَّةَ لَمَّا خَرَجَتْ وَهُوَ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالُوا: لَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ، فَقَالَ: كَلِمَةُ حَقٍّ أُرِيدَ بِهَا بَاطِلٌ، إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَصَفَ نَاسًا إِنِّي لَأَعْرِفُ صِفَتَهُمْ فِي هَؤُلَاءِ، يَقُولُونَ الْحَقَّ بِأَلْسِنَتِهِمْ لَا يُجَاوِزُ هَذَا مِنْهُمْ، وَأَشَارَ إِلَى حَلْقِهِ، أَبْغَضُ خَلْقِ اللهِ إِلَيْهِ، مِنْهُمْ أَسْوَدُ إِحْدَى يَدَيْهِ حَلَمَةُ ثَدْيٍ، فَلَمَّا قَتَلَهُمْ قَالَ: انْظُرُوا، فَنَظَرُوا فَلَمْ يَجِدُوا شَيْئًا، قَالَ: ارْجِعُوا، فَوَاللهِ مَا كَذَبْتُ، وَلَا كَذَبْتُ، مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ثُمَّ وَجَدُوهُ فِي خَرِبَةٍ، فَأَتَوْا بِهِ حَتَّى وَضَعُوهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ عُبَيْدُ اللهِ: وَأَنَا حَاضِرٌ ذَلِكَ مِنْ أَمْرِهِمْ وَقَوْلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِيهِمْ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ.
حافظ ثناء اللہ
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ پہلے گزر چکی ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَقْسِمُ قَسْمًا، أَتَاهُ ذُو الْخُوَيْصِرَةِ، وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، فقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ اعْدِلْ، فَقَالَ: وَيْحَكَ وَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَعْدِلْ، لَقَدْ خِبْتَ وَخَسِرْتَ إِنْ لَمْ أَكُنْ أَعْدِلُ "، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللهِ ائْذَنْ لَيَّ فِيهِ أَضْرِبْ عُنُقَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَعْهُ فَإِنَّ لَهُ أَصْحَابًا يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِمْ، وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِمْ، يَقْرءُونَ الْقُرْآنَ لَا يَجُوزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، يَنْظُرُ إِلَى نَصْلِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ، ثُمَّ يَنْظُرُ إِلَى رِصَافِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ، ثُمَّ يَنْظُرُ إِلَى نَضِيِّهِ، وَهُوَ قِدْحُهُ، فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ، ثُمَّ يَنْظُرُ إِلَى قُذَذِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ، قَدْ سَبَقَ الْفَرْثَ وَالدَّمَ، آيَتُهُمْ رَجُلٌ أَسْوَدُ إِحْدَى عَضُدَيْهِ مِثْلُ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ وَمِثْلُ الْبَضْعَةِ تَدَرْدَرُ، يَخْرُجُونَ عَلَى حِينِ فَتْرَةٍ مِنَ النَّاسِ " ⦗٢٩٧⦘ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَأَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَشْهَدُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَاتَلَهُمْ وَأَنَا مَعَهُ، فَأَمَرَ بِذَلِكَ الرَّجُلَ فَالْتُمِسَ، فَأَتَى به حَتَّى نَظَرْتُ إِلَيْهِ عَلَى نَعْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي نَعَتَهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ وَالضَّحَّاكِ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے پاس تھے اور آپ ﷺ کچھ تقسیم فرما رہے تھے تو ذوالخویصرہ آیا، یہ بنو تمیم کا ایک شخص تھا، کہنے لگا: یا رسول اللہ! انصاف کریں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو برباد ہو! اگر میں عدل نہیں کروں گا تو اور کون کرے گا؟ تو تو برباد ہو گیا، خسارے میں پڑ گیا، اگر میں عدل نہ کروں۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: مجھے اجازت دیں میں اسے قتل کر دوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، اس کے ایسے اصحاب ہوں گے کہ تم جن کی نمازوں اور روزوں کے سامنے اپنی نمازوں اور روزوں کو حقیر سمجھو گے۔ قرآن ان کے حلقوں سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ اسلام سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے (نکل جاتا ہے)، اس کے پھل کو دیکھا جائے تو اس میں کچھ نہیں ملتا، پھر اس کے پٹھے کو دیکھا جائے تو اس میں کچھ نہیں ملتا، پھر اس کی لکڑی کو دیکھا جائے تو اس میں کچھ نہیں ملتا، پھر اس کے پروں کو دیکھا جائے تو ان میں کچھ نہیں ملتا، وہ گوبر اور خون سے آگے نکل چکا ہوتا ہے۔ ان کی نشانی ایک سیاہ فام شخص ہوگا جس کے ایک بازو پر عورت کے پستان کی طرح یا ہلتے ہوئے گوشت کے لوتھڑے کی طرح گوشت ہوگا، ان کا خروج اس وقت ہوگا جب لوگ تفرقہ میں پڑ جائیں گے۔“ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے یہ نبی ﷺ سے سنا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور میں نے ان کے خلاف جہاد بھی کیا اور اس آدمی کو تلاش بھی کیا اور اس میں وہ صفات بھی دیکھیں جو نبی ﷺ نے بیان فرمائی تھیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ،: سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، ثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، وَالْحَدِيثُ لِلْعَبَّاسِ، حَدَّثَنِي قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي اخْتِلَافٌ وَفُرْقَةٌ، قَوْمٌ يُحْسِنُونَ الْقِيلَ، وَيُسِيئُونَ الْفِعْلَ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ، لَا يَرْجِعُونَ حَتَّى يَرْتَدَّ عَلَى فَوْقِهِ، هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ، طُوبَى لِمَنْ قَتَلَهُمْ وَقَتَلُوهُ، يَدْعُونَ إِلَى كِتَابِ اللهِ وَلَيْسُوا مِنْهُ فِي شَيْءٍ، مَنْ قَاتَلَهُمْ كَانَ أَوْلَى بِاللهِ مِنْهُمْ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ فَمَا سِيمَاهُمْ؟ قَالَ: " التَّحْلِيقُ ". وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ، وَسَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، وَعَبْدِ الله بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَأَبِي بَكْرَةٍ، وَأَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ، وَبَعْضُهُمْ يَزِيدُ عَلَى بَعْضٍ وَاسْتَدَلَّ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي قِتَالِ أَهْلِ الْبَغِيِّ بِقَوْلِ اللهِ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا، فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللهِ، فَإِنْ فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ، وَأَقْسِطُوا، إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ} [الحجرات: ٩].
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”عنقریب میری امت میں اختلاف اور تفرقہ ہو گا۔ قول اچھا اور فعل برا ہو گا، قرآن پڑھیں گے لیکن حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ یہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے۔ وہ اس وقت تک واپس نہیں لوٹیں گے جب تک تیر اپنے سوفار پر واپس نہ آ جائے۔ وہ مخلوق میں بدترین لوگ ہوں گے۔ خوشخبری ہے ان کے لیے جو ان سے لڑتے ہوئے شہید ہوں یا انہیں قتل کریں۔ وہ کتاب اللہ کی طرف بلائیں گے حالانکہ خود اس پر نہیں ہوں گے۔ جو ان سے لڑے گا وہ اللہ کے ہاں بہت محبوب ہو گا۔“ پوچھا گیا: ان کی نشانی کیا ہو گی؟ فرمایا: ”گنجا ہونا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے باغیوں سے قتال کی دلیل اس آیت سے لی ہے: ﴿وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ فَإِنْ فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ﴾ [سورة الحجرات: 9]
امام شافعی رحمہ اللہ نے باغیوں سے قتال کی دلیل اس آیت سے لی ہے: ﴿وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ فَإِنْ فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ﴾ [سورة الحجرات: 9]
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِد بْنِ شَرِيكٍ، ثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ لَوْ أَتَيْتَ عَبْدَ اللهِ بْنَ أُبَيٍّ، قَالَ: فَانْطَلَقَ إِلَيْهِ، وَرَكِبَ حِمَارَهُ وَرَكِبَ مَعَهُ قَوْمٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا أَتَاهُ قَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ: تَنَحَّ، فَقَدْ آذَانِي نَتْنُ حِمَارِكَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ: وَاللهِ لَحِمَارُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطْيَبُ رِيحًا مِنْكَ، قَالَ: فَغَضِبَ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا قَوْمُهُ، فَتَضَارَبُوا بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ، فَبَلَغَنَا إِنَّمَا نَزَلَتْ فِيهِمْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا} [الحجرات: ٩] الْآيَةُ. ⦗٢٩٨⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، كِلَاهُمَا عَنْ مُعْتَمِرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ سے کہا گیا: ”کاش آپ عبداللہ بن ابی کے پاس چلیں،“ تو آپ ﷺ اپنے گدھے پر سوار ہو کر روانہ ہوئے اور آپ کے ساتھ آپ کے کچھ صحابہ بھی سوار ہو کر گئے۔ جب آپ ﷺ اس کے پاس پہنچے تو وہ کہنے لگا: ”مجھ سے دور رہیے، اللہ کی قسم! آپ کے گدھے کی بو نے مجھے تکلیف دی ہے۔“ تو مسلمانوں میں سے ایک شخص نے کہا: ”اللہ کی قسم! نبی ﷺ کے گدھے کی بو تجھ سے کہیں زیادہ اچھی ہے۔“ اس پر دونوں طرف سے لوگ غصہ ہو گئے اور انہوں نے چھڑیاں اور جوتے اٹھا لیے اور ایک دوسرے کو مارنے لگے، تو ہمیں یہ بات پہنچی کہ یہ آیت: ﴿وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا﴾ [سورة الحجرات: 9] اسی بارے میں نازل ہوئی۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ بَلَغَهُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ أَتَيْتَ عَبْدَ اللهِ بْنَ أُبَيٍّ، فَانْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاكِبًا عَلَى حِمَارٍ، وَانْطَلَقَ النَّاسُ يَمْشُونَ، قَالَ: وَهِيَ أَرْضٌ سَبِخَةٌ، فَذَكَرَهُ. قَالَ أَنَسٌ: فَأُنْبِئْتُ أَنَّهَا أُنْزِلَتْ فِيهِمْ.
حافظ ثناء اللہ
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ پہلے گزر چکی ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، إِمْلَاءً، ثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الزَّاهِدُ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيِّ بْنِ رُسْتُمَ، ثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ، ثَنَا جَدِّي، وَثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ،، جَمِيعًا عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ،: أَنَّهُ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنِّي وَاللهِ لَقَدْ حَرَصْتُ أَنِ اتَّسَمْتُ بِسَمْتِكَ، وَأَقْتَدِي بِكَ فِي أَمْرِ فُرْقَةِ النَّاسِ، وَأَعْتَزِلَ الشَّرَّ مَا اسْتَطَعْتُ، وَإِنِّي أَقْرَأُ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللهِ مُحْكَمَةً قَدْ أَخَذَتْ بِقَلْبِي، فَأَخْبِرْنِي عَنْهَا، أَرَأَيْتَ قَوْلَ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: " {وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا، فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللهِ، فَإِنْ فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ، وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ} [الحجرات: ٩] أَخْبِرْنِي عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: وَمَالَكَ وَلِذَلِكَ، انْصَرِفْ عَنِّي، فَانْطَلَقَ حَتَّى تَوَارَى عَنَّا سَوَادُهُ، أَقْبَلَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ فَقَالَ: مَا وَجِدْتُ فِي نَفْسِي مِنْ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ مَا وَجِدْتُ فِي نَفْسِي أَنِّي لَمْ أُقَاتِلْ هَذِهِ الْفِئَةَ الْبَاغِيَةَ كَمَا أَمَرَنِي اللهُ عَزَّ وَجَلَّ. زَادَ الْقَطَّانُ فِي رِوَايَتِهِ: قَالَ حَمْزَةُ: فَقُلْنَا لَهُ: وَمَنْ تَرَى الْفِئَةَ الْبَاغِيَةَ؟ قَالَ ابْنُ عُمَرَ: ابْنُ الزُّبَيْرِ بَغَى عَلَى هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ، فَأَخْرَجَهُمْ مِنْ دِيَارِهِمْ، وَنَكَثَ عَهْدَهُمْ. فَفِي قَوْلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ هَذَا دَلَالَةٌ عَلَى جَوَازِ اسْتِعْمَالِ الْآيَةِ فِي قِتَالِ الْفِئَةِ الْبَاغِيَةِ.
حافظ ثناء اللہ
حمزہ بن عبداللہ بن عمر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا تھا کہ ایک عراقی شخص آیا اور کہا: «وَاللّٰهِ» ”اللہ کی قسم“! میری بڑی خواہش رہی ہے کہ لوگوں کے تفرقے کے معاملے میں آپ کا طریقہ اختیار کروں اور آپ کی پیروی کروں اور اپنی طاقت کے مطابق شر سے دور رہوں۔ میں کتاب اللہ سے یہ آیت پڑھتا ہوں جو محکم ہے اور اس نے میرے دل کو پکڑ لیا ہے۔ اس کے بارے میں مجھے بتائیے کہ اللہ کا یہ فرمان ﴿وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ﴾ [سورة الحجرات: 9] کا کیا معنی ہے؟ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: تجھے اس کی کیا ضرورت؟ چل جا۔ وہ چلا گیا یہاں تک کہ نظروں سے اوجھل ہو گیا تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اس امت کے معاملات میں سے کسی چیز کا مجھے اپنے دل میں اتنا افسوس نہیں ہوا جتنا اس بات کا ہے کہ میں نے اس باغی گروہ سے قتال نہیں کیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے۔ حمزہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم نے کہا: کون سا باغی گروہ؟ فرمایا: ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے ان پر بغاوت کی ہے، عہد کو توڑا ہے اور ان کو ان کے گھروں سے نکالا ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عِيسَى، ثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ ⦗٢٩٩⦘ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ مِثْلَ مَا رَغِبَتْ عَنْهُ هَذِهِ الْأُمَّةُ مِنْ هَذِهِ الْآيَةِ {وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا، فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللهِ} [الحجرات: ٩] ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی جس سے اس امت نے اتنی بے رغبتی کی ہو جتنی اس آیت سے کی ہے: ﴿وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا﴾ [سورة الحجرات: 9]۔