حدیث نمبر: 16704
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِد بْنِ شَرِيكٍ، ثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ لَوْ أَتَيْتَ عَبْدَ اللهِ بْنَ أُبَيٍّ، قَالَ: فَانْطَلَقَ إِلَيْهِ، وَرَكِبَ حِمَارَهُ وَرَكِبَ مَعَهُ قَوْمٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا أَتَاهُ قَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ: تَنَحَّ، فَقَدْ آذَانِي نَتْنُ حِمَارِكَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ: وَاللهِ لَحِمَارُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطْيَبُ رِيحًا مِنْكَ، قَالَ: فَغَضِبَ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا قَوْمُهُ، فَتَضَارَبُوا بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ، فَبَلَغَنَا إِنَّمَا نَزَلَتْ فِيهِمْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا} [الحجرات: ٩] الْآيَةُ. ⦗٢٩٨⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، كِلَاهُمَا عَنْ مُعْتَمِرٍ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ سے کہا گیا: ”کاش آپ عبداللہ بن ابی کے پاس چلیں،“ تو آپ ﷺ اپنے گدھے پر سوار ہو کر روانہ ہوئے۔ وہ اپنی قوم کے ساتھ بیٹھا تھا۔ جب آپ ﷺ اس کے پاس پہنچے تو وہ کہنے لگا: ”مجھ سے دور رہیے، اللہ کی قسم! آپ کے گدھے کی بو نے مجھے تکلیف دی ہے۔“ تو انصار کے مسلمانوں میں سے ایک شخص نے کہا: ”اللہ کی قسم! نبی ﷺ کے گدھے کی بو تجھ سے کہیں زیادہ اچھی ہے۔“ اس پر دونوں طرف سے لوگ غصہ ہو گئے اور انہوں نے چھڑیاں، ہاتھ اور جوتے اٹھا لیے اور ایک دوسرے کو مارنے لگے، تو ہمیں یہ بات پہنچی کہ یہ آیت: ﴿وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا﴾ [سورة الحجرات: 9] اسی بارے میں نازل ہوئی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16704
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»