السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: ما جاء في قتال أهل البغي والخوارج باب: اہلِ بغاوت اور خوارج سے قتال کرنے کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِد بْنِ شَرِيكٍ، ثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ لَوْ أَتَيْتَ عَبْدَ اللهِ بْنَ أُبَيٍّ، قَالَ: فَانْطَلَقَ إِلَيْهِ، وَرَكِبَ حِمَارَهُ وَرَكِبَ مَعَهُ قَوْمٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا أَتَاهُ قَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ: تَنَحَّ، فَقَدْ آذَانِي نَتْنُ حِمَارِكَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ: وَاللهِ لَحِمَارُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطْيَبُ رِيحًا مِنْكَ، قَالَ: فَغَضِبَ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا قَوْمُهُ، فَتَضَارَبُوا بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ، فَبَلَغَنَا إِنَّمَا نَزَلَتْ فِيهِمْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا} [الحجرات: ٩] الْآيَةُ. ⦗٢٩٨⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، كِلَاهُمَا عَنْ مُعْتَمِرٍ.سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ سے کہا گیا: ”کاش آپ عبداللہ بن ابی کے پاس چلیں،“ تو آپ ﷺ اپنے گدھے پر سوار ہو کر روانہ ہوئے اور آپ کے ساتھ آپ کے کچھ صحابہ بھی سوار ہو کر گئے۔ جب آپ ﷺ اس کے پاس پہنچے تو وہ کہنے لگا: ”مجھ سے دور رہیے، اللہ کی قسم! آپ کے گدھے کی بو نے مجھے تکلیف دی ہے۔“ تو مسلمانوں میں سے ایک شخص نے کہا: ”اللہ کی قسم! نبی ﷺ کے گدھے کی بو تجھ سے کہیں زیادہ اچھی ہے۔“ اس پر دونوں طرف سے لوگ غصہ ہو گئے اور انہوں نے چھڑیاں اور جوتے اٹھا لیے اور ایک دوسرے کو مارنے لگے، تو ہمیں یہ بات پہنچی کہ یہ آیت: ﴿وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا﴾ [سورة الحجرات: 9] اسی بارے میں نازل ہوئی۔