السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: ما جاء في قتال أهل البغي والخوارج باب: اہلِ بغاوت اور خوارج سے قتال کرنے کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَقْسِمُ قَسْمًا، أَتَاهُ ذُو الْخُوَيْصِرَةِ، وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، فقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ اعْدِلْ، فَقَالَ: وَيْحَكَ وَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَعْدِلْ، لَقَدْ خِبْتَ وَخَسِرْتَ إِنْ لَمْ أَكُنْ أَعْدِلُ "، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللهِ ائْذَنْ لَيَّ فِيهِ أَضْرِبْ عُنُقَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَعْهُ فَإِنَّ لَهُ أَصْحَابًا يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِمْ، وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِمْ، يَقْرءُونَ الْقُرْآنَ لَا يَجُوزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، يَنْظُرُ إِلَى نَصْلِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ، ثُمَّ يَنْظُرُ إِلَى رِصَافِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ، ثُمَّ يَنْظُرُ إِلَى نَضِيِّهِ، وَهُوَ قِدْحُهُ، فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ، ثُمَّ يَنْظُرُ إِلَى قُذَذِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ، قَدْ سَبَقَ الْفَرْثَ وَالدَّمَ، آيَتُهُمْ رَجُلٌ أَسْوَدُ إِحْدَى عَضُدَيْهِ مِثْلُ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ وَمِثْلُ الْبَضْعَةِ تَدَرْدَرُ، يَخْرُجُونَ عَلَى حِينِ فَتْرَةٍ مِنَ النَّاسِ " ⦗٢٩٧⦘ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَأَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَشْهَدُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَاتَلَهُمْ وَأَنَا مَعَهُ، فَأَمَرَ بِذَلِكَ الرَّجُلَ فَالْتُمِسَ، فَأَتَى به حَتَّى نَظَرْتُ إِلَيْهِ عَلَى نَعْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي نَعَتَهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ وَالضَّحَّاكِ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ.سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے پاس تھے اور آپ ﷺ کچھ تقسیم فرما رہے تھے تو ذوالخویصرہ آیا، یہ بنو تمیم کا ایک شخص تھا، کہنے لگا: یا رسول اللہ! انصاف کریں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو برباد ہو! اگر میں عدل نہیں کروں گا تو اور کون کرے گا؟ تو تو برباد ہو گیا، خسارے میں پڑ گیا، اگر میں عدل نہ کروں۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: مجھے اجازت دیں میں اسے قتل کر دوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، اس کے ایسے اصحاب ہوں گے کہ تم جن کی نمازوں اور روزوں کے سامنے اپنی نمازوں اور روزوں کو حقیر سمجھو گے۔ قرآن ان کے حلقوں سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ اسلام سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے (نکل جاتا ہے) اور ان میں ایسا شخص ہوگا جس کے بازو پر عورت کے پستان کی طرح گوشت ہوگا، ان کا خروج اس وقت ہوگا جب لوگ تفرقہ میں پڑ جائیں گے۔“ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے یہ نبی ﷺ سے سنا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور میں نے ان کے خلاف جہاد بھی کیا اور اس آدمی کو تلاش بھی کیا اور اس میں وہ صفات بھی دیکھیں جو نبی ﷺ نے بیان فرمائی تھیں۔