السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: ما جاء في قتال أهل البغي والخوارج باب: اہلِ بغاوت اور خوارج سے قتال کرنے کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 16699
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِيُّ، أَنْبَأَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عُبَيْدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ: ذَكَرَ الْخَوَارِجَ، وَقَالَ حَمَّادٌ: ذَكَرَ أَهْلَ النَّهْرَوَانِ، فَقَالَ: " فِيهِمْ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ، أَوْ مُودَنُ الْيَدِ، أَوْ مَثْدُونُ الْيَدِ، لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا لَحَدَّثْتُكُمْ مَا وَعَدَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَهُمْ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ " قُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: إِيْ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، إِيْ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ إِيْ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّْمِيِّ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خوارج یا اہل نہروان کا ذکر کیا اور فرمایا: ”ان میں ایک شخص ہے جو ناقص ہاتھ والا یا بھرے ہوئے گوشت کے ہاتھ والا ہے۔ اگر تم تکبر میں نہ آؤ تو میں تمہیں اس چیز کے بارے میں بتاؤں جس کا اللہ نے وعدہ کیا ہے ان لوگوں کے لیے جو اللہ کے نبی کی بات پر اپنی جان لٹا دیتے ہیں۔“ میں نے کہا: کیا آپ نے یہ محمد ﷺ سے سنا ہے؟ فرمایا: ہاں، ربِ کعبہ کی قسم! تین مرتبہ فرمایا۔