حدیث نمبر: 16692
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا أَبُو بَكْرٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الضَّرِيرُ بِالرِّيِّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ، ثَنَا عَبْيدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثَنَا الْأَعْمَشُ، ح قَالَ: وَأَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثَنَا وَكِيعٌ، ثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْكَعْبَةِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو،، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَهُ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، وَهُوَ يُحَدِّثُ النَّاسَ، يَقُولُ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا فَمِنَّا مَنْ يَضْرِبُ خِبَاءَهُ، وَمِنَّا مَنْ هُوَ فِي جَشَرِهِ، وَمِنَّا مَنْ يَنْتَضِلُ، إِذْ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ، قَالَ: فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ وَيَقُولُ: " أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ يَدُلَّ أُمَّتَهُ عَلَى مَا يَعْلَمُهُ خَيْرًا لَهُمْ، وَيُنْذِرَهُمْ مَا يَعْلَمُهُ شَرًّا لَهُمْ، أَلَا وَإِنَّ عَافِيَةَ هَذِهِ الْأُمَّةِ فِي أَوَّلِهَا، وَسَيُصِيبُ آخِرَهَا بَلَاءٌ وَفِتَنٌ يَدْفُقُ بَعْضُهَا بَعْضًا، تَجِيءُ الْفِتَنُ فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ: هَذِهِ مُهْلِكَتِي، ثُمَّ تَنْكَشِفُ، ثُمَّ تَجِيءُ فَيَقُولُ: هَذِهِ هَذِهِ، ثُمَّ تَجِيءُ فَيَقُولُ: هَذِهِ هَذِهِ، ثُمَّ تَنْكَشِفُ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُزَحْزَحَ عَنِ النَّارِ وَيَدْخُلَ الْجَنَّةَ، فَلْتُدْرِكْهُ مَنِيَّتُهُ وَهُوَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَيَأْتِي إِلَى النَّاسِ مَا يُحِبُّ أَنْ يُؤْتَى إِلَيْهِ، وَمَنْ بَايَعَ إِمَامًا فَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ فَلْيُطِعْهُ إِنِ اسْتَطَاعَ "، وَقَالَ مَرَّةً: " مَا اسْتَطَاعَ "، أَظُنُّهُ قَالَ: فَإِنْ جَاءَ أَحَدٌ يُنَازِعُهُ فَاضْرِبُوا عُنُقَ الْآخَرَ. فَلَمَّا سَمِعْتُهَا أَدْخَلْتُ رَأْسِي بَيْنَ ⦗٢٩٣⦘ رَجُلَيْنِ فَقُلْتُ: إِنَّ ابْنَ عَمِّكَ مُعَاوِيَةُ يَأْمُرُنَا أَنْ نَقْتُلَ أَنْفُسَنَا، وَأَنْ نَأْكُلَ أَمْوَالَنَا بَيْنَنَا بِالْبَاطِلِ، وَاللهُ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: {وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ}، قَالَ: فَوَضَعَ جَمْعَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ، ثُمَّ نَكَسَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: أَطِعْهُ فِي طَاعَةِ اللهِ، وَاعْصِهِ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ ". قُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ، وَوَعَاهُ قَلْبِي. لَفْظُ حَدِيثِ وَكِيعٍ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ وَكِيعٍ.
حافظ ثناء اللہ

عبدالرحمن بن عبد رب الکعبہ، عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ میں کعبہ کے سائے میں ان کے ساتھ بیٹھا تھا اور وہ لوگوں کو احادیث بیان کر رہے تھے کہ ہم ایک سفر میں نبی ﷺ کے ساتھ تھے۔ ہم ایک جگہ اترے تو ہم میں سے بعض خیمے لگانے لگے، بعض جانوروں کو چارہ دینے لگے اور بعض تیر اندازی کرنے لگے تو مؤذن نے پکارا: «الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ» ”نماز کھڑی ہو رہی ہے“۔ کہتے ہیں: جب میں وہاں گیا تو آپ ﷺ خطبہ دے رہے تھے: ”اے لوگو! مجھ سے پہلے جتنے بھی نبی آئے تو ان پر حق تھا کہ وہ خیر کے کاموں پر لوگوں کی راہنمائی کریں اور برائی سے ڈرائیں، خبردار! اس امت کا اول عافیت میں ہے اور آخر آزمائش اور فتنوں میں ہے، ایک فتنہ آئے گا مومن سمجھے گا یہ تو تباہ کر دے گا، وہ ختم ہو جائے گا۔ دوسرا آئے گا وہ کہے گا: یہ، یہ۔ پھر وہ بھی ختم ہو جائے گا۔ تیسرا آئے گا پھر وہ کہے گا: یہ، یہ، یہ بھی ختم ہو جائے گا۔ جو یہ چاہتا ہے کہ جہنم سے بچ جائے تو اپنی خواہشات کو چھوڑ دے اور اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لے آئے اور جو اپنے لیے پسند کرے وہی لوگوں کے لیے بھی پسند کرے اور جو امام سے بیعت کرے تو اس نے اپنی ہتھیلی اور اپنے دل کی خواہش اسے دے دی تو اس کی فرمان برداری کرے۔ اگر کوئی اس میں جھگڑا کرے تو اس کی گردن کاٹ دے۔“ جب میں نے ان سے یہ حدیث سنی تو دو آدمیوں کے درمیان میں سر داخل کیا اور کہا کہ آپ کے چچا کا بیٹا معاویہ ہمیں کہتا ہے کہ ہم اپنے آپ سے لڑیں اور ہمارے ہی مال ہم باطل طریقے سے کھائیں، حالانکہ اللہ فرماتا ہے: ﴿وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ﴾ [سورة النساء: 29] اور ﴿وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ﴾ [سورة البقرة: 188]، تو انھوں نے اپنے ہاتھ کو اپنی پیشانی پر رکھا، پھر ہٹایا اور اپنا سر اٹھایا اور فرمایا: اللہ کی اطاعت میں اس کی اطاعت کرو اور اللہ کی نافرمانی میں اس کی نافرمانی کرو۔ میں نے کہا: کیا آپ نے یہ نبی ﷺ سے سنا ہے؟ تو فرمایا: ہاں، میرے کانوں نے سنا ہے اور میرے دل نے یاد کیا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16692
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»