حدیث نمبر: 16697
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: إِذَا سَمِعْتُمْ بِي أُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا، فَلَأَنْ أَخِرَّ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَكْذِبَ عَلَيْهِ، وَإِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ غَيْرِهِ فَإِنَّمَا أَنَا رَجُلٌ مُحَارِبٌ، وَالْحَرْبُ خَدْعَةٌ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ أَحْدَاثُ الْأَسْنَانِ، سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ، يَقُولُونَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ الْبَرِيَّةِ، لَا يُجَاوِزُ إِيمَانُهُمْ حَنَاجِرَهُمْ، فَأَيْنَمَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ، فَإِنَّ قَتْلَهُمْ أَجْرٌ لِمَنْ قَتَلَهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میں تمہیں نبی ﷺ سے کوئی حدیث سناؤں تو مجھے آسمان سے گرنا محبوب ہے اس سے کہ میں آپ ﷺ پر جھوٹ بولوں اور جب میں آپ کے غیر سے بیان کروں تو میں ایک جنگجو ہوں اور ”جنگ دھوکا ہے“، میں نے نبی ﷺ کو فرماتے سنا: ”آخری زمانے میں ایسی قوم آئے گی جن کی عمریں کم، دماغ کے بے وقوف، اچھی بات کہیں گے لیکن ایمان ان کے حلقوں سے نیچے نہیں جائے گا، وہ جہاں بھی ملیں انھیں قتل کردینا، ان سے لڑنا اتنا اجر ہے کہ قیامت تک لڑتے رہنے والے کے لیے جتنا اجر ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16697
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»