کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: انسان پر حکمران اور دیگر افراد کے سامنے اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی ذمہ داری کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُؤْذِي جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مَعْمَرٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ وہ اپنے مہمان کی عزت کرے اور جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی کو ایذا نہ دے اور جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اچھی بات کہے یا چپ رہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ " الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مَا يَتَبَيَّنُ فِيهَا يَزِلُّ بِهَا فِي النَّارِ أَبْعَدَ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ " ⦗٢٨٥⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَمْزَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي حَازِمٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”بندہ ایسا کلمہ بول دیتا ہے جس (کے انجام) پر وہ غور نہیں کرتا، تو وہ اس کی وجہ سے جہنم میں جا گرتا ہے، مغرب و مشرق کی دوری سے بھی زیادہ دور۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْحُرْفِيُّ، بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، ح قَالَ: وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقُطَيْعِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، ثَنَا أَبُو النَّضْرِ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ رِضْوَانِ اللهِ لَا يُلْقِي لَهَا بَالًا يَرْفَعُ اللهُ بِهَا لَهُ دَرَجَاتٍ، وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ اللهِ لَا يُلْقِي لَهَا بَالًا يَهْوِي بِهَا فِي جَهَنَّمَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُنِيرٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”جب کوئی بندہ اللہ کی رضا کا کلمہ بولتا ہے جس کی وہ پروا بھی نہیں کرتا تو اللہ اس کے ذریعے اس کے درجات بلند کرتا ہے اور جب کوئی اللہ کی ناراضگی کا کلمہ بولتا ہے جس کی وہ پروا بھی نہیں کرتا تو اللہ اس کے ساتھ اسے جہنم میں داخل کریں گے۔“
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، بِمَرْوٍ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مَخْلَدٍ الْجَوْهَرِيُّ بِبَغْدَادَ، قَالَا: ثَنَا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ الضُّبَعِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ بَطَّالٌ يَدْخُلُ عَلَى الْأُمَرَاءِ فَيُضْحِكُهُمْ، فَقَالَ لَهُ جَدِّي: وَيْحَكَ يَا فُلَانُ لِمَ تَدْخُلُ عَلَى هَؤُلَاءِ فَتُضْحِكَهُمْ؟ فَإِنِّي سَمِعْتُ بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ الْمُزَنِيَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ رِضْوَانِ اللهِ مَا يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ، فَيَرْضَى اللهُ بِهَا عَنْهُ إِلَى يَوْمِ يَلْقَاهُ، وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ اللهِ مَا يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ، فَيَسْخَطُ اللهُ بِهَا إِلَى يَوْمِ يَلْقَاهُ ".
حافظ ثناء اللہ
علقمہ بن وقاص رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک مسخرہ آدمی امراء کے پاس انہیں ہنسانے آتا تھا، تو اسے میرے دادا نے کہا: برباد ہو تو اے فلاں! کیا تو امراء کو ہنسانے آتا ہے؟ میں نے بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ صحابیِ رسول ﷺ سے سنا، وہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے تھے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”بندہ اللہ کی رضا کا کوئی کلمہ بولتا ہے، اسے گمان بھی نہیں ہوتا کہ وہ کہاں تک پہنچے گا، تو اللہ اس کی وجہ سے اس سے ملاقات کے دن تک راضی ہو جاتے ہیں، اور بندہ اللہ کی ناراضگی کا کوئی کلمہ بولتا ہے، اسے گمان بھی نہیں ہوتا کہ وہ کہاں تک پہنچے گا، تو اللہ اس کی وجہ سے اس سے ملاقات کے دن تک ناراض ہو جاتے ہیں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثَنَا ابْنُ عُثْمَانَ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَنْبَأَ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيِّ، أَنَّ بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ الْمُزَنِيَّ، قَالَ لَهُ: إِنِّي رَأَيْتُكَ تَدْخُلُ عَلَى هَؤُلَاءِ الْأُمَرَاءِ وَتَغْشَاهُمْ، فَانْظُرْ مَاذَا تُحَاضِرُهُمْ بِهِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَعْلَمُ مَبْلَغَهَا يَكْتُبُ اللهُ بِهَا رِضْوَانَهُ إِلَى يَوْمِ يَلْقَاهُ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنَ الشَّرِّ مَا يَعْلَمُ مَبْلَغَهَا، يَكْتُبُ اللهُ عَلَيْهِ سَخَطَهُ إِلَى يَوْمِ يَلْقَاهُ "، فَكَانَ عَلْقَمَةُ يَقُولُ: رُبَّ حَدِيثٍ قَدْ حَالَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ مَا سَمِعْتُ مِنْ بِلَالٍ.
حافظ ثناء اللہ
علقمہ بن وقاص رحمہ اللہ سے سابقہ روایت۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرِ بْنُ مَهْرَوَيْهِ الرَّازِيُّ، ثَنَا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، وَعَمْرُو بْنُ تَمِيمٍ، قَالَا: ثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثَنَا سُفْيَانُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الدَّيْنَوَرِيُّ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، قَالَا: ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ سَبْعَةٌ أَوْ تِسْعَةٌ، وَبَيْنَنَا وَسَائِدُ مِنْ أَدَمٍ أَحْمَرَ، قَالَ: " إِنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ فَمَنْ صَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ، وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ، وَلَنْ يَرِدَ عَلَيَّ الْحَوْضَ، وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ، وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، وَسَيَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، ہم سات یا نو آدمی تھے اور ہمارے درمیان سرخ چمڑے کے بنے تکیے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے بعد ایسے امراء ہوں گے، جس نے ان کے جھوٹ کی تصدیق کی اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کی، وہ مجھ سے نہیں اور میں اس سے نہیں اور وہ میرے پاس حوض پر بھی نہیں آئے گا، اور جس نے ان کے جھوٹ کی تصدیق نہ کی اور نہ ان کے ظلم پر ان کی مدد کی، وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں اور وہ مجھے حوض کوثر پر ملے گا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أَنْبَأَ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ عُجْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ أَنَا تَاسِعُ تِسْعَةٍ، فَقَالَ لَنَا: أَتَسْمَعُونَ؟ هَلْ تَسْمَعُونَ؟ ثَلَاثَ مِرَارٍ إِنَّهَا " سَتَكُونُ عَلَيْكُمْ أَئِمَّةٌ، فَمَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ، وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَلَسْتُ مِنْهُ وَلَيْسَ مِنِّي، وَلَا يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ وَلَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ، وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، وَسَيَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، قَالَ: وَحَدَّثَنِي أَيْضًا، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَصْحَابِهِ: " كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا بَقِيتُمْ فِي حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ مَرِجَتْ أَمَانَتُهُمْ وَعُهُودُهُمْ، وَكَانُوا هَكَذَا "، ثُمَّ أَدْخَلَ أَصَابِعَهُ بَعْضَهَا فِي بَعْضٍ، فَقَالُوا: فَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ كَيْفَ نَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " خُذُوا مَا تَعْرِفُونَ، وَدَعُوا مَا تُنْكِرُونَ ". ثُمَّ خَصَّ بِهَذَا عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ، فَقَالَ: مَا تَأْمُرُنِي بِهِ يَا رَسُولَ اللهِ إِذَا كَانَ ذَلِكَ؟ قَالَ: " آمُرُكَ بِتَقْوَى اللهِ، عَلَيْكَ بِنَفْسِكَ، وَإِيَّاكَ وَعَامَّةَ الْأُمُورِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عجرہ انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم مسجد میں نو آدمی تھے۔ نبی ﷺ آئے اور فرمایا: ”کیا تم سنتے ہو؟ کیا تم سنتے ہو؟“ تین مرتبہ فرمایا، پھر فرمایا: ”عنقریب تم میں ایسے امراء ہوں گے کہ جو ان کے پاس گیا ان کی تصدیق کی“ آگے سابقہ روایت۔
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اپنے صحابہ کو فرمایا: ”تم کیسے ہو گے جب برے لوگوں میں تم رہو گے، جن کی امانتیں اور عہد بگڑ چکے ہوں گے اور وہ اس طرح ہو گئے ہوں گے؟“ پھر اپنی انگلیاں آپس میں داخل کیں۔ پوچھا: یا رسول اللہ ﷺ! اس وقت ہم کیا کریں؟ فرمایا: ”جو تمہیں اچھی لگے، وہ لے لینا اور جو بری لگے چھوڑ دینا۔“ پھر سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے خود سوال کیا کہ مجھے کیا حکم دیتے ہیں کہ میں اس وقت کیا کروں؟ فرمایا: ”میں تمہیں اللہ سے ڈرنے اور اپنے نفس کو قابو کرنے اور عام امور سے اپنے آپ کو بچانے کا مشورہ دیتا ہوں۔“
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اپنے صحابہ کو فرمایا: ”تم کیسے ہو گے جب برے لوگوں میں تم رہو گے، جن کی امانتیں اور عہد بگڑ چکے ہوں گے اور وہ اس طرح ہو گئے ہوں گے؟“ پھر اپنی انگلیاں آپس میں داخل کیں۔ پوچھا: یا رسول اللہ ﷺ! اس وقت ہم کیا کریں؟ فرمایا: ”جو تمہیں اچھی لگے، وہ لے لینا اور جو بری لگے چھوڑ دینا۔“ پھر سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے خود سوال کیا کہ مجھے کیا حکم دیتے ہیں کہ میں اس وقت کیا کروں؟ فرمایا: ”میں تمہیں اللہ سے ڈرنے اور اپنے نفس کو قابو کرنے اور عام امور سے اپنے آپ کو بچانے کا مشورہ دیتا ہوں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: أَتَيْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ ⦗٢٨٧⦘ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّا نَجْلِسُ إِلَى أَئِمَّتِنَا هَؤُلَاءِ، فَيَتَكَلَّمُونَ بِالْكَلَامِ نَحْنُ نَعْلَمُ أَنَّ الْحَقَّ غَيْرُهُ فَنَصْدُقُهُمْ، وَيَقْضُونَ بِالْجَوْرِ فَنُقَوِّيهِمْ وَنُحَسِّنُهُ لَهُمْ، فَكَيْفَ تَرَى فِي ذَلِكَ؟ فَقَالَ: " يَا ابْنَ أَخِي كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعُدُّ هَذَا النِّفَاقَ، فَلَا أَدْرِي كَيْفَ هُوَ عِنْدَكُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، میں نے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! ہم ان امراء کے پاس بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ حق اس کے علاوہ ہے، ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں، انھیں تقویت پہنچاتے ہیں اور ان کی تحسین کرتے ہیں اور وہ ظلم کے فیصلے کرتے ہیں، آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ انہوں نے فرمایا: اے بھتیجے! ہم عہدِ رسالت ﷺ میں اسے منافقت سمجھتے تھے، آپ پتہ نہیں اسے کیا سمجھتے ہو۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ السِّرَاجُ، إِمْلَاءً، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ، ثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّْمِيُّ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ يَضْمَنُ لِي مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ أَضْمَنُ لَهُ الْجَنَّةَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جو مجھے دو جبڑوں کے درمیان (زبان) اور جو دو ٹانگوں کے درمیان (شرم گاہ) کی ضمانت دے، میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔“