کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس شخص پر عائد ہونے والے گناہ و وعید کا بیان جو حکمران تک کسی مسلمان کے خلاف ایسی بات پہنچائے جس سے اسے بغیر کسی جرم کے نقصان پہنچے۔
حدیث نمبر: 16672
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ الْمَاسَرْجَسِيُّ، ثَنَا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أَنْبَأَ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ حُذَيْفَةَ، فَمَرَّ رَجُلٌ فَقَالُوا: هَذَا يَرْفَعُ الْحَدِيثَ إِلَى السُّلْطَانِ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ ". قَالَ الْأَعْمَشُ: وَالْقَتَّاتُ النَّمَّامُ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الْأَعْمَشِ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ.
حافظ ثناء اللہ
ہمام رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک شخص گزرا تو لوگوں نے کہا: یہ بادشاہ کو جا کے باتیں بتاتا ہے، تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”چغل خور جنت میں نہیں جائے گا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16672
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 16673
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثَنَا أَبُو دَاوُدَ، ثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ سَلَمَةَ، يُحَدِّثُ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ، أَنَّ رَجُلَيْنِ، مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ قَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: اذْهَبْ بِنَا إِلَى هَذَا النَّبِيِّ، قَالَ: لَا يَسْمَعَنَّ هَذَا فَيَصِيرُ لَهُ أَرْبَعَةُ أَعْيُنَ، فَأَتَيَاهُ فَسَأَلَاهُ عَنْ تِسْعِ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُشْرِكُوا بِاللهِ شَيْئًا، وَلَا تَقْتُلُوا، وَلَا تَسْرِقُوا، وَلَا تَزْنُوا، وَلَا تَسْحَرُوا، وَلَا تَأْكُلُوا الرِّبَا، وَلَا تَقْذِفُوا الْمُحْصَنَةَ، وَلَا تَفِرُّوا مِنَ الزَّحْفِ، وَلَا تُمَشُّوا مُبَرَئٍ إِلَى ذِي سُلْطَانٍ لِتَقْتُلُوهُ أَوْ لِتُهْلِكُوهُ، وَعَلَيْكُمْ خَاصَّةً يَهُوَدُ أَنْ لَا تَعْدُوا فِي السَّبْتِ "، فَقَبَّلَا يَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ ⦗٢٨٨⦘ وَقَالَا: نَشْهَدُ أَنَّكَ نَبِيٌّ، فَقَالَ: " مَا يَمْنَعُكُمَا مِنِ اتِّبَاعِي؟ " فَقَالَا: إِنَّ دَاوُدَ دَعَا أَنْ لَا يَزَالَ فِي ذُرِّيَّتِهِ نَبِيٌّ، وَإِنَّا نَخْشَى إِنِ اتَّبَعْنَاكَ أَنْ تَقْتُلَنَا الْيَهُوَدُ "، قَالَ أَبُو دَاوُدَ مَرَّةً: وَلَا تَقْذِفُوا الْمُحْصَنَةَ، أَوْ لَا تَفِرُّوا مِنَ الزَّحْفِ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: شَكّ شُعْبَةُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اہل کتاب کے دو آدمیوں میں سے ایک نے دوسرے کو کہا: چلو اس نبی کے پاس چلتے ہیں، اس کی نہ سننا اس کی چار آنکھیں ہیں۔ وہ آئے اور آ کر واضح آیات کے بارے میں پوچھا تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، قتل نہ کرو، چوری، زنا، جادو نہ کرو، سود نہ کھاؤ، پاک دامن عورتوں پر تہمت نہ لگاؤ، جنگ سے نہ بھاگو، کسی بے قصور کو سلطان کے پاس نہ لے جاؤ تاکہ وہ اسے قتل کر دے اور اے یہود! تمہارے لیے خاص یہ ہے کہ ہفتے کے دن میں غلو نہ کرو۔“ تو ان دونوں نے آپ ﷺ کے ہاتھ اور پاؤں چومے اور کہا: ہم گواہی دیتے ہیں آپ نبی ہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”اب تک اقرار کیوں نہیں کیا تھا؟“ انہوں نے کہا: بے شک داود علیہ السلام نے دعا کی تھی کہ نبی ان کی اولاد سے ہی ہوں، اگر ہم آپ کی اتباع کر لیتے تو یہود ہمیں قتل کر دیتے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16673
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 16674
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ التَّاجِرُ الزَّاهِدُ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّائِغُ، بِبَغْدَادَ، ثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ثَنَا عُبَيْدَةُ يَعْنِي ابْنَ حُمَيْدٍ، ثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، قَالَ: قَالَ كَعْبٌ: " أَعْظَمُ النَّاسِ خَطِيئَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِي يَسْعَى بِأَخِيهِ إِلَى إِمَامِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن سب سے گناہگار وہ شخص ہو گا جو اپنے بھائی کو امام کے پاس لے کر جاتا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16674
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»