السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: ما على الرجل من حفظ اللسان عند السلطان وغيره باب: انسان پر حکمران اور دیگر افراد کے سامنے اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی ذمہ داری کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، بِمَرْوٍ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مَخْلَدٍ الْجَوْهَرِيُّ بِبَغْدَادَ، قَالَا: ثَنَا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ الضُّبَعِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ بَطَّالٌ يَدْخُلُ عَلَى الْأُمَرَاءِ فَيُضْحِكُهُمْ، فَقَالَ لَهُ جَدِّي: وَيْحَكَ يَا فُلَانُ لِمَ تَدْخُلُ عَلَى هَؤُلَاءِ فَتُضْحِكَهُمْ؟ فَإِنِّي سَمِعْتُ بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ الْمُزَنِيَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ رِضْوَانِ اللهِ مَا يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ، فَيَرْضَى اللهُ بِهَا عَنْهُ إِلَى يَوْمِ يَلْقَاهُ، وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ اللهِ مَا يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ، فَيَسْخَطُ اللهُ بِهَا إِلَى يَوْمِ يَلْقَاهُ ".علقمہ بن وقاص رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک مسخرہ آدمی امراء کے پاس انہیں ہنسانے آتا تھا، تو اسے میرے دادا نے کہا: برباد ہو تو اے فلاں! کیا تو امراء کو ہنسانے آتا ہے؟ میں نے بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ صحابیِ رسول ﷺ سے سنا، وہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے تھے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”بندہ اللہ کی رضا کا کوئی کلمہ بولتا ہے، اسے گمان بھی نہیں ہوتا کہ وہ کہاں تک پہنچے گا، تو اللہ اس کی وجہ سے اس سے ملاقات کے دن تک راضی ہو جاتے ہیں، اور بندہ اللہ کی ناراضگی کا کوئی کلمہ بولتا ہے، اسے گمان بھی نہیں ہوتا کہ وہ کہاں تک پہنچے گا، تو اللہ اس کی وجہ سے اس سے ملاقات کے دن تک ناراض ہو جاتے ہیں۔“