السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: ما على الرجل من حفظ اللسان عند السلطان وغيره باب: انسان پر حکمران اور دیگر افراد کے سامنے اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی ذمہ داری کا بیان۔
حدیث نمبر: 16668
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرِ بْنُ مَهْرَوَيْهِ الرَّازِيُّ، ثَنَا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، وَعَمْرُو بْنُ تَمِيمٍ، قَالَا: ثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثَنَا سُفْيَانُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الدَّيْنَوَرِيُّ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، قَالَا: ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ سَبْعَةٌ أَوْ تِسْعَةٌ، وَبَيْنَنَا وَسَائِدُ مِنْ أَدَمٍ أَحْمَرَ، قَالَ: " إِنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ فَمَنْ صَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ، وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ، وَلَنْ يَرِدَ عَلَيَّ الْحَوْضَ، وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ، وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، وَسَيَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، ہم سات یا نو آدمی تھے اور ہمارے درمیان سرخ چمڑے کے بنے تکیے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے بعد ایسے امراء ہوں گے، جس نے ان کی تصدیق کی اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کی، وہ مجھ سے نہیں اور میں اس سے نہیں اور وہ میرے پاس حوض پر بھی نہیں آئے گا، اور جس نے ان کی تصدیق نہ کی اور نہ ان کی مدد کی، وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں اور وہ مجھے حوض کوثر پر ملے گا۔“