کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: حکمران کی (اس کے سامنے) ایسی تعریف کرنے کی کراہت کا بیان کہ جب باہر نکلے تو اس کے برعکس بات کرے۔
حدیث نمبر: 16661
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عُمَرَ: إِنَّا نَدْخُلُ عَلَى سُلْطَانِنَا فَنَقُولُ مَا نَتَكَلَّمُ بِخِلَافِهِ إِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِمْ، قَالَ: " كُنَّا نَعُدُّ هَذَا نِفَاقًا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ.
حافظ ثناء اللہ
عاصم بن محمد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا: ہم سلطان کے پاس جاتے ہیں اور اس سے ان باتوں کے علاوہ باتیں کرتے ہیں جو اس کی غیر موجودگی میں کرتے ہیں، تو انہوں نے فرمایا: ہم اسے منافقت سمجھتے ہیں۔
حدیث نمبر: 16662
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا ابْنُ مِلْحَانَ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ، يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنِ اللَّيْثِ.
حافظ ثناء اللہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں میں سب سے برا دو چہروں والا ہے، جو ان کے پاس ایک چہرے اور ان کے پاس دوسرے چہرے کے ساتھ آتا ہے۔“