السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: ما على الرجل من حفظ اللسان عند السلطان وغيره باب: انسان پر حکمران اور دیگر افراد کے سامنے اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی ذمہ داری کا بیان۔
حدیث نمبر: 16670
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: أَتَيْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ ⦗٢٨٧⦘ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّا نَجْلِسُ إِلَى أَئِمَّتِنَا هَؤُلَاءِ، فَيَتَكَلَّمُونَ بِالْكَلَامِ نَحْنُ نَعْلَمُ أَنَّ الْحَقَّ غَيْرُهُ فَنَصْدُقُهُمْ، وَيَقْضُونَ بِالْجَوْرِ فَنُقَوِّيهِمْ وَنُحَسِّنُهُ لَهُمْ، فَكَيْفَ تَرَى فِي ذَلِكَ؟ فَقَالَ: " يَا ابْنَ أَخِي كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعُدُّ هَذَا النِّفَاقَ، فَلَا أَدْرِي كَيْفَ هُوَ عِنْدَكُمْ ".حافظ ثناء اللہ
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، میں نے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! ہم ان امراء کے پاس بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ حق اس کے علاوہ ہے، ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں، انھیں تقویت پہنچاتے ہیں اور ان کی تحسین کرتے ہیں اور وہ ظلم کے فیصلے کرتے ہیں، آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ انہوں نے فرمایا: اے بھتیجے! ہم عہدِ رسالت ﷺ میں اسے منافقت سمجھتے تھے، آپ پتہ نہیں اسے کیا سمجھتے ہو۔