کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: بیعت کرنے کے طریقے (کیفیت) کا بیان۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: بَايَعْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ، وَالْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ، وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ، وَأَنْ نَقُومَ أَوْ نَقُولَ بِالْحَقِّ حَيْثُ مَا كُنَّا، لَا نَخَافُ لَوْمَةَ لَائِمٍ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے سمع و اطاعت پر بیعت کی کہ ”تنگی اور آسانی میں، چستی اور سستی میں، اور یہ کہ ہم حکمرانی کے معاملے میں اس کے اہل سے جھگڑا نہیں کریں گے، اور جہاں بھی ہوں حق پر قائم رہیں گے یا حق بات کہیں گے اور ملامت کرنے والوں کی ملامت سے بھی نہیں ڈریں گے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16551
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، وَعَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: ثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقَبَّانِيُّ، ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَعُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ، زَادَ: وَعَلَى أَثَرَةٍ عَلَيْنَا، وَقَالَ: وَعَلَى أَنْ نَقُولَ بِالْحَقِّ أَيْنَمَا كُنَّا، لَا نَخَافُ فِي اللهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سابقہ روایت۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16552
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْفَضْلِ الْفَحَّامُ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، حَدَّثَنِي بُكَيْرٌ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: دَعَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْنَا، وَأَخَذَ عَلَيْنَا السَّمْعَ وَالطَّاعَةَ فِي مَنْشَطِنَا وَمَكْرَهِنَا وَعُسْرِنَا وَيُسْرِنَا، وَأَثَرَةً عَلَيْنَا، وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ، قَالَ: إِلَّا أَنْ تَرَوْا كُفْرًا بَوَاحًا، عِنْدَكُمْ مِنَ اللهِ فِيهِ بُرْهَانٌ أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ وَهْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سابقہ روایت لیکن آخر میں ان الفاظ کا اضافہ ہے کہ ”ہم کسی معاملے میں تنازع نہیں کریں گے مگر جب ظاہری کفر دیکھیں گے تو پھر اللہ کی طرف برہان ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16553
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنَّا إِذَا بَايَعْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ يَقُولُ لَنَا: فِيمَا اسْتَطَعْتَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ سے سمع و اطاعت پر بیعت کرتے تھے کہ جتنی ہم میں طاقت ہو۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16554
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرٍ الْفَارْيَابِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُقَدَّْمِيُّ، قَالَا: ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثَنَا هُشَيْمٌ، أَنْبَأَ سَيَّارٌ، ح، قَالَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ: وَأَخْبَرَنِي حَامِدٌ، ثَنَا سُرَيْجٌ، ثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَرِيرٍ: بَايَعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، فَلَقَّنَنِي: فِيمَا اسْتَطَعْتَ، وَالنُّصْحَ لِكُلِّ مُسْلِمٍ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَعْقُوبَ الدَّوْرَقِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَعْقُوبَ وَسُرَيْجِ بْنِ يُونُسَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے سمع و طاعت پر بیعت کی تو آپ ﷺ نے مجھے تلقین فرمائی: ”جتنی مجھ میں طاقت ہو اور تمام مسلمانوں کی خیر خواہی کروں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16555
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَحَّامُ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، يَعْنِي عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: مَكَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ يَتَتَبَّعُ النَّاسَ فِي مَنَازِلِهِمْ بِعُكَاظَ وَمَجَنَّةَ وَفِي الْمَوْسِمِ بِمِنًى، يَقُولُ: " مَنْ يُؤْوِينِي، مَنْ يَنْصُرُنِي حَتَّى أُبَلِّغَ رِسَالَةَ رَبِّي وَلَهُ الْجَنَّةُ؟ قَالَ: فَقُلْنَا: حَتَّى مَتَى نَتْرُكُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطْرَدُ فِي جِبَالِ مَكَّةَ وَيَخَافُ؟ فَرَحَلَ إِلَيْهِ مِنَّا سَبْعُونَ رَجُلًا حَتَّى قَدِمْنَا عَلَيْهِ فِي الْمَوْسِمِ، فَوَعَدْنَاهُ شِعْبَ الْعَقَبَةِ، فَاجْتَمَعْنَا عِنْدَهُ مِنْ رَجُلٍ وَرَجُلَيْنِ، حَتَّى تَوَافَيْنَا فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ عَلَى مَا نُبَايِعُكَ؟ قَالَ: " تُبَايِعُونِي عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي النَّشَاطِ وَالْكَسَلِ، وَالنَّفَقَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ، وَعَلَى الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَأَنْ تَقُولُوا فِي اللهِ لَا تَخَافُونَ لَوْمَةَ لَائِمٍ، وَعَلَى أَنْ تَنْصُرُونِي إِذَا قَدِمْتُ عَلَيْكُمْ، وَتَمْنَعُونِي مِمَّا تَمْنَعُونَ مِنْهُ أَنْفُسَكُمْ وَأَزْوَاجَكُمْ وَأَبْنَاءَكُمْ، وَلَكُمُ الْجَنَّةُ ". فَقُمْنَا إِلَيْهِ فَبَايَعْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ میں دس سال مقیم رہے، آپ ﷺ لوگوں سے ان کے گھروں میں، عکاظ کے بازار اور مجنہ میں اور حج کے موسم میں (مختلف مقامات پر) ملتے اور فرماتے: ”کون میری مدد کرے گا تاکہ میں اللہ کا پیغام پہنچاؤں؟ اور اس کے لیے جنت ہے۔“ (راوی کہتے ہیں کہ آخر کار) ہم نے (آپس میں) کہا: (کب تک) ہم رسول اللہ ﷺ کو اکیلا چھوڑے رکھیں گے کہ آپ مکہ کے پہاڑوں میں پھرتے ہیں اور (دشمنوں سے) ڈرتے ہیں؟ چنانچہ ہم میں سے ستر آدمی حج کے موسم میں گئے اور شعبِ عقبہ (گھاٹی) پر ملنے کا وعدہ کیا، جب ہم وہاں جمع ہو گئے تو ہم نے آپ ﷺ سے پوچھا: ہم کن باتوں پر آپ سے بیعت کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھ سے ان باتوں پر بیعت کرو کہ ہر حال میں (میری بات) سنو گے اور مانو گے، تنگی اور آسانی میں (اللہ کی راہ میں) خرچ کرو گے، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرو گے، اللہ کے بارے میں (حق بات) کہو گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرو گے، اور جب میں تمہارے پاس آ جاؤں تو میری مدد کرو گے اور جس طرح تم اپنی جانوں اور اپنے بیوی بچوں کا دفاع کرتے ہو، میرا بھی (اسی طرح) دفاع کرو گے (تو تمہارے لیے جنت ہے)۔“ پس ہم نے آپ ﷺ سے ان باتوں پر بیعت کر لی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16556
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَا: ثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَنْبَأَ خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَعْرَجِ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ الْمُزَنِيِّ، قَالَ: بَايَعَ النَّاسُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَهُوَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ، وَأَنَا رَافِعٌ غُصْنًا مِنْ أَغْصَانِهَا، فَلَمْ نُبَايِعْهُ عَلَى الْمَوْتِ، وَلَكِنْ بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لَا نَفِرَّ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا معقل بن یسار مزنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے نبی ﷺ سے حدیبیہ کے دن درخت کے نیچے بیعت کی اور میں اس کی ٹہنیوں میں سے ایک ٹہنی (اوپر) اٹھائے ہوئے تھا، ہم نے موت پر بیعت نہیں کی تھی بلکہ اس پر بیعت کی تھی کہ نہیں بھاگیں گے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16557
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا الْعَبَّاسُ الْأَسْفَاطِيُّ، ثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، ثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَمِائَةٍ، فَبَايَعْنَاهُ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ آخِذٌ بِيَدِهِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ، وَهِيَ سَمُرَةٌ بَحر، فَبَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لَا نَفِرَّ، وَلَمْ نُبَايِعْهُ عَلَى الْمَوْتِ، يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنِ اللَّيْثِ قَالَ الشَّيْخُ الْفَقِيهُ: كَذَا قَالَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حدیبیہ کے دن ہم 1400 تھے۔ ہم نے آپ ﷺ کی بیعت کی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے درخت کے نیچے آپ ﷺ کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا۔ ہم نے آپ ﷺ کی بیعت موت پر نہیں کی بلکہ اس پر کی کہ ہم نہیں بھاگیں گے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16558
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرُّزَازُ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ: بَايَعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ، ثُمَّ تَنَحَّيْتُ، ثُمَّ بَايَعَ النَّاسُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي: " أَلَا تُبَايِعُ؟ " قُلْتُ: قَدْ بَايَعْتُ، قَالَ: " وَزِيَادَةٌ ". قُلْتُ لَهُ: أَيِّ شَيْءٍ بَايَعْتُمْ؟ قَالَ: عَلَى الْمَوْتِ..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے حدیبیہ کے دن بیعت کی، پھر میں پیچھے ہٹ گیا اور لوگ بیعت کرنے لگے تو مجھے فرمایا: ”کیا آپ بیعت نہیں کریں گے؟“ میں نے عرض کیا: کر لی ہے، فرمایا: ”اور مزید (دوبارہ بیعت کرو)۔“ (یزید بن ابی عبید کہتے ہیں:) میں نے ان سے پوچھا: آپ لوگوں نے کس چیز پر بیعت کی تھی؟ انہوں نے کہا: موت پر۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16559
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، أَنْبَأَ أَبُو مُسْلِمٍ، ثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: ثُمَّ تَنَحَّيْتُ، فَقَالَ: " يَا سَلَمَةُ أَلَا تُبَايِعُ؟ " قُلْتُ: قَدْ بَايَعْتُ، قَالَ: " أَقْبِلْ فَبَايِعْ "، قَالَ: فَدَنَوْتُ فَبَايَعْتُهُ، قَالَ: قُلْتُ: عَلَى مَا بَايَعْتَهُ يَا أَبَا مُسْلِمٍ؟ قَالَ: عَلَى الْمَوْتِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ.
حافظ ثناء اللہ
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» سابقہ روایت۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16560
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا الْأَسْفَاطِيُّ، ثَنَا أَبُو سَلَمَةَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمِنْقَرِيُّ، ثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: لَمَّا كَانَ زَمَانُ الْحَرَّةِ أَتَاهُ آتٍ فَقَالَ لَهُ: هَذَاكَ ابْنُ فُلَانٍ يُبَايِعُ النَّاسَ، قَالَ: عَلَى أَيِّ شَيْءٍ؟ قَالَ: عَلَى الْمَوْتِ، قَالَ: لَا أُبَايِعُ عَلَى هَذَا أَحَدًا بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ، ثَنَا تَمْتَامٌ، ثَنَا مُوسَى، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: هُنَاكَ ابْنُ حَنْظَلَةَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ وُهَيْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حرہ کے دن ایک شخص آیا اور اس نے کہا: یہ فلاں ہے اور لوگوں سے بیعت لے رہا ہے۔ انہوں نے پوچھا: کس چیز پر؟ اس نے جواب دیا: موت پر۔ تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کے بعد میں اس پر کسی سے بیعت نہیں کروں گا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16561
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ ⦗٢٥٣⦘ بُرْقَانَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْحَجَّاجِ، حَدَّثَنِي ابْنُ الْعَفِيفِ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَهُوَ يُبَايِعُ النَّاسَ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَجْتَمِعُ إِلَيْهِ الْعِصَابَةُ فَيَقُولُ: تُبَايِعُونِي عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ لِلَّهِ وَلِكِتَابِهِ ثُمَّ لِلْأَمِيرِ؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ، فَيُبَايعُهُمْ، فَقُمْتُ عِنْدَهُ سَاعَةً وَأَنَا يَوْمَئِذٍ الْمُحْتَلِمُ أَوْ فَوْقَهُ، فَتَعَلَّمْتُ شَرْطَهُ الَّذِي شَرَطَ عَلَى النَّاسِ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَقُلْتُ، وَبَدَأْتُهُ، قُلْتُ: أَنَا أُبَايِعُكَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ لِلَّهِ وَلِكِتَابِهِ ثُمَّ لِلْأَمِيرِ، فَصَعَّدَ فِيَّ الْبَصَرَ ثُمَّ صَوَّبَهُ، وَرَأَيْتُ أَنِّي أَعْجَبْتُهُ رَحِمَهُ اللهُ.
حافظ ثناء اللہ
ابن العفیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ نبی کریم ﷺ کے بعد لوگوں سے بیعت لے رہے تھے۔ لوگ آپ کے پاس جمع تھے اور آپ فرما رہے تھے: تم میری بیعت کرو «سَمْعٍ وَطَاعَةٍ» ”سمع و طاعت“ پر اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، پھر امیر کے لیے۔ تو لوگوں نے بیعت کر لی، لیکن میں نے نہیں کی۔ میں کچھ دیر ان کے پاس کھڑا رہا، اور میں ان دنوں بالغ تھا یا اس سے کچھ بڑا، پہلے ان کی شرطوں کو جانا، پھر میں آ گیا اور میں نے بھی ان تمام پر بیعت کر لی، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نظر اٹھا کر مجھے دیکھا پھر نظر جھکا لی، اور میں نے دیکھا کہ میں انہیں بہت اچھا لگ رہا تھا، اللہ ان پر رحم فرمائے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16562
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، ثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ الرَّهْطَ الَّذِينَ وَلَّاهُمْ عُمَرُ اجْتَمَعُوا فَتَشَاوَرُوا، فَقَالَ لَهُمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: لَسْتُ بِالَّذِي أُنَافِسُكُمْ عَلَى هَذَا الْأَمْرِ، وَلَكِنَّكُمْ إِنْ شِئْتُمْ اخْتَرْتُ لَكُمْ مِنْكُمْ، فَجَعَلُوا ذَلِكَ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، فَلَمَّا وَلَّوْا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ أَمْرَهُمُ انْثَالَ النَّاسُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمَالُوا عَلَيْهِ، حَتَّى مَا أَرَى أَحَدًا مِنَ النَّاسِ يَتْبَعُ أَحَدًا مِنْ أُولَئِكِ الرَّهْطِ، وَلَا يَطَأُ عَقِبَهُ، فَمَالَ النَّاسُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُشَاوِرُونَهُ وَيُنَاجُونَهُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ، حَتَّى إِذَا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَصْبَحْنَا فِيهَا فَبَايَعْنَا عُثْمَانَ، قَالَ الْمِسْوَرُ: طَرَقَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بَعْدَ هَجْعٍ مِنَ اللَّيْلِ فَضَرَبَ الْبَابَ فَاسْتَيْقَظْتُ، فَقَالَ: أَلَا أَرَاكَ نَائِمًا، فَوَاللهِ مَا اكْتَحَلْتُ هَذِهِ الثَّلَاثَ بِكَثِيرِ نَوْمٍ، انْطَلِقْ فَادْعُ الزُّبَيْرَ وَسَعْدًا، فَدَعَوْتُهُمَا لَهُ، فَشَاوَرَهُمَا ثُمَّ دَعَانِي، فَقَالَ: ادْعُ لِي عَلِيًّا، فَدَعَوْتُهُ فَنَاجَاهُ حَتَّى ابْهَارَّ اللَّيْلُ، ثُمَّ قَامَ مِنْ عِنْدِهِ عَلَى طَمَعٍ، وَقَدْ كَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَخْشَى مِنْ عَلِيٍّ شَيْئًا، ثُمَّ قَالَ: ادْعُ لِي عُثْمَانَ، فَنَاجَاهُ طَوِيلًا حَتَّى فَرَّقَ بَيْنَهُمَا الْمُؤَذِّنُ بِالصُّبْحِ، فَلَمَّا صَلَّى النَّاسُ الصُّبْحَ، وَاجْتَمَعَ أُولَئِكَ الرَّهْطُ عِنْدَ الْمِنْبَرِ فَأَرْسَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ إِلَى مَنْ كَانَ حَاضِرًا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ، وَأَرْسَلَ إِلَى الْأُمَرَاءِ، وَكَانُوا قَدْ وَافَوْا تِلْكَ الْحِجَّةِ مَعَ عُمَرَ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا تَشَهَّدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَقَالَ: أَمَّا بَعْدُ، يَا عَلِيُّ فَإِنِّي قَدْ نَظَرْتُ فِي أَمْرِ النَّاسِ فَلَمْ أَرَهُمْ يَعْدِلُونَ بِعُثْمَانَ، فَلَا تَجْعَلَنَّ عَلَى نَفْسِكَ سَبِيلًا، وَأَخَذَ بِيَدِ عُثْمَانَ وَقَالَ: أُبَايِعُكَ عَلَى سُنَّةِ اللهِ، وَسُنَّةِ رَسُولِهِ، وَالْخَلِيفَتَيْنِ مِنْ بَعْدِهِ، فَبَايَعَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَبَايَعَهُ النَّاسُ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ وَأُمَرَاءُ الْأَجْنَادِ وَالْمُسْلِمُونَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ جماعت جسے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (خلیفہ کے انتخاب کا) ذمہ دار بنایا تھا، اکٹھے ہوئے اور باہم مشورہ کرنے لگے تو سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ان کو کہا: میں اس معاملے میں تم سے مقابلہ کرنے والا نہیں ہوں، لیکن اگر چاہو تو میں تم میں سے کسی کو تمہارے لیے منتخب کر دوں؟ تو انہوں نے یہ بات سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ پر چھوڑ دی۔ جب انہوں نے اپنا معاملہ سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دیا تو لوگ ان کے گرد جمع ہو گئے اور سب آپ کی طرف مائل ہو گئے، یہاں تک کہ میں نے کسی کو نہیں دیکھا کہ وہ اس جماعت میں سے کسی کے پیچھے چلتا ہو۔ لوگ ان راتوں سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے سرگوشیاں کرنے لگے اور مشورہ کرنے لگے، یہاں تک کہ وہ رات آ گئی جس کی صبح ہم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی بیعت کی۔
سیدنا مسور رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رات کا کچھ حصہ گزرنے کے بعد سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے میرا دروازہ کھٹکھٹایا، میں بیدار ہوا تو سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: تم تو سو رہے ہو؟ اللہ کی قسم! میں ان تین راتوں میں زیادہ نہیں سویا، جاؤ سیدنا زبیر اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہما کو بلاؤ، میں انہیں بلا لایا، ان دونوں سے مشورہ کیا، پھر مجھے بلایا اور کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو میرے پاس بلا لاؤ، میں انہیں بلا لایا اور وہ آدھی رات گزرنے تک ان سے سرگوشی کرتے رہے، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ امید لے کر ان کے پاس سے اٹھے، اور سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کچھ اندیشہ رکھتے تھے۔ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بلوا کر بہت دیر تک سرگوشی کرتے رہے، یہاں تک کہ فجر کی اذان دینے والے نے ان کے درمیان جدائی کروائی۔ جب لوگوں نے فجر کی نماز پڑھ لی اور وہ جماعت منبر کے پاس جمع ہو گئی تو سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے مہاجرین اور انصار میں سے موجود لوگوں کو بلوایا، اور لشکروں کے امراء کو بھی بلوایا جو اس حج میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ آئے تھے۔ جب سب جمع ہو گئے تو سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے کلمہ شہادت پڑھا اور فرمایا: «أَمَّا بَعْدُ» ”بعد ازاں“، اے علی (رضی اللہ عنہ)! میں نے لوگوں کے معاملے کے بارے میں بہت غور و خوض کیا ہے، تو میں نے لوگوں کو کسی کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے برابر سمجھتے نہیں پایا، لہٰذا آپ اپنے اوپر (کسی کو اعتراض کی) راہ نہ دینا، اور انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور ان کے بعد دو خلیفوں کی سنت کے مطابق آپ سے بیعت کرتا ہوں، تو سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے ان کی بیعت کی، پھر لوگوں نے ان کی بیعت کی: مہاجرین، انصار، لشکروں کے امراء اور مسلمانوں نے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16563
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، ⦗٢٥٤⦘ كَتَبَ إِلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ يُبَايِعُهُ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، أَمَّا بَعْدُ، لِعَبْدِ الْمَلِكِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ مِنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، سَلَّامٌ عَلَيْكَ، فَإِنِّي أَحْمَدُ إِلَيْكَ اللهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، وَأُقِرُّ لَكَ بِالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ عَلَى سُنَّةِ اللهِ وَسُنَّةِ رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا اسْتَطَعْتُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے عبدالملک بن مروان کو لکھا جو آپ سے بیعت کا مطالبہ کر رہا تھا: «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ» ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“، «اَمَّا بَعْدُ» ”اما بعد“! عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف سے امیر المؤمنین عبدالملک کے لیے، «سَلَامٌ عَلَیْکَ» ”تجھ پر سلامتی ہو“، میں اس اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور میں اپنی طاقت کے مطابق اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی سنت کے مطابق سمع و طاعت کا اقرار کرتا ہوں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16564
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْمُقْرِيُّ ابْنُ الْحَمَامِيُّ بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثَنَا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: لَمَّا اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ كَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ: سَلَّامٌ عَلَيْكَ، أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي أُقِرُّ بِالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ لِعَبْدِ اللهِ عَبْدِ الْمَلِكِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، عَلَى سُنَّةِ اللهِ وَسُنَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا اسْتَطَعْتُ، وَإِنَّ بَنِيَّ قَدْ أَقَرُّوا بِمِثْلِ ذَلِكَ، وَالسَّلَامُ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ وَعَمْرِو بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ، عَنْ سُفْيَانَ.
حافظ ثناء اللہ
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ اس سے پہلے گزر چکی ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16565