السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: كيفية البيعة باب: بیعت کرنے کے طریقے (کیفیت) کا بیان۔
حدیث نمبر: 16559
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرُّزَازُ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ: بَايَعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ، ثُمَّ تَنَحَّيْتُ، ثُمَّ بَايَعَ النَّاسُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي: " أَلَا تُبَايِعُ؟ " قُلْتُ: قَدْ بَايَعْتُ، قَالَ: " وَزِيَادَةٌ ". قُلْتُ لَهُ: أَيِّ شَيْءٍ بَايَعْتُمْ؟ قَالَ: عَلَى الْمَوْتِ..حافظ ثناء اللہ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے حدیبیہ کے دن بیعت کی، پھر میں پیچھے ہٹ گیا اور لوگ بیعت کرنے لگے تو مجھے فرمایا: ”کیا آپ بیعت نہیں کریں گے؟“ میں نے عرض کیا: کر لی ہے، فرمایا: ”اور جو اضافی بیعت کی ہے وہ؟“ میں نے پوچھا: کس چیز پر؟ جواب دیا: ”موت پر۔“