حدیث نمبر: 16562
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ ⦗٢٥٣⦘ بُرْقَانَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْحَجَّاجِ، حَدَّثَنِي ابْنُ الْعَفِيفِ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَهُوَ يُبَايِعُ النَّاسَ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَجْتَمِعُ إِلَيْهِ الْعِصَابَةُ فَيَقُولُ: تُبَايِعُونِي عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ لِلَّهِ وَلِكِتَابِهِ ثُمَّ لِلْأَمِيرِ؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ، فَيُبَايعُهُمْ، فَقُمْتُ عِنْدَهُ سَاعَةً وَأَنَا يَوْمَئِذٍ الْمُحْتَلِمُ أَوْ فَوْقَهُ، فَتَعَلَّمْتُ شَرْطَهُ الَّذِي شَرَطَ عَلَى النَّاسِ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَقُلْتُ، وَبَدَأْتُهُ، قُلْتُ: أَنَا أُبَايِعُكَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ لِلَّهِ وَلِكِتَابِهِ ثُمَّ لِلْأَمِيرِ، فَصَعَّدَ فِيَّ الْبَصَرَ ثُمَّ صَوَّبَهُ، وَرَأَيْتُ أَنِّي أَعْجَبْتُهُ رَحِمَهُ اللهُ.
حافظ ثناء اللہ

ابن العفیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ نبی کریم ﷺ کے بعد لوگوں سے بیعت لے رہے تھے۔ لوگ آپ کے پاس جمع تھے اور آپ فرما رہے تھے: تم میری بیعت کرو «سَمْعٍ وَطَاعَةٍ» ”سمع و طاعت“ پر اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، پھر امیر کے لیے۔ تو لوگوں نے بیعت کر لی، لیکن میں نے نہیں کی۔ پہلے ان کی شرطوں کو جانا، پھر میں آ گیا اور میں نے بھی ان تمام پر بیعت کر لی، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے غور سے دیکھا اور میں نے دیکھا کہ میں انہیں بہت اچھا لگ رہا تھا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16562
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»