السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: كيفية البيعة باب: بیعت کرنے کے طریقے (کیفیت) کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، ثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ الرَّهْطَ الَّذِينَ وَلَّاهُمْ عُمَرُ اجْتَمَعُوا فَتَشَاوَرُوا، فَقَالَ لَهُمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: لَسْتُ بِالَّذِي أُنَافِسُكُمْ عَلَى هَذَا الْأَمْرِ، وَلَكِنَّكُمْ إِنْ شِئْتُمْ اخْتَرْتُ لَكُمْ مِنْكُمْ، فَجَعَلُوا ذَلِكَ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، فَلَمَّا وَلَّوْا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ أَمْرَهُمُ انْثَالَ النَّاسُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمَالُوا عَلَيْهِ، حَتَّى مَا أَرَى أَحَدًا مِنَ النَّاسِ يَتْبَعُ أَحَدًا مِنْ أُولَئِكِ الرَّهْطِ، وَلَا يَطَأُ عَقِبَهُ، فَمَالَ النَّاسُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُشَاوِرُونَهُ وَيُنَاجُونَهُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ، حَتَّى إِذَا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَصْبَحْنَا فِيهَا فَبَايَعْنَا عُثْمَانَ، قَالَ الْمِسْوَرُ: طَرَقَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بَعْدَ هَجْعٍ مِنَ اللَّيْلِ فَضَرَبَ الْبَابَ فَاسْتَيْقَظْتُ، فَقَالَ: أَلَا أَرَاكَ نَائِمًا، فَوَاللهِ مَا اكْتَحَلْتُ هَذِهِ الثَّلَاثَ بِكَثِيرِ نَوْمٍ، انْطَلِقْ فَادْعُ الزُّبَيْرَ وَسَعْدًا، فَدَعَوْتُهُمَا لَهُ، فَشَاوَرَهُمَا ثُمَّ دَعَانِي، فَقَالَ: ادْعُ لِي عَلِيًّا، فَدَعَوْتُهُ فَنَاجَاهُ حَتَّى ابْهَارَّ اللَّيْلُ، ثُمَّ قَامَ مِنْ عِنْدِهِ عَلَى طَمَعٍ، وَقَدْ كَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَخْشَى مِنْ عَلِيٍّ شَيْئًا، ثُمَّ قَالَ: ادْعُ لِي عُثْمَانَ، فَنَاجَاهُ طَوِيلًا حَتَّى فَرَّقَ بَيْنَهُمَا الْمُؤَذِّنُ بِالصُّبْحِ، فَلَمَّا صَلَّى النَّاسُ الصُّبْحَ، وَاجْتَمَعَ أُولَئِكَ الرَّهْطُ عِنْدَ الْمِنْبَرِ فَأَرْسَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ إِلَى مَنْ كَانَ حَاضِرًا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ، وَأَرْسَلَ إِلَى الْأُمَرَاءِ، وَكَانُوا قَدْ وَافَوْا تِلْكَ الْحِجَّةِ مَعَ عُمَرَ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا تَشَهَّدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَقَالَ: أَمَّا بَعْدُ، يَا عَلِيُّ فَإِنِّي قَدْ نَظَرْتُ فِي أَمْرِ النَّاسِ فَلَمْ أَرَهُمْ يَعْدِلُونَ بِعُثْمَانَ، فَلَا تَجْعَلَنَّ عَلَى نَفْسِكَ سَبِيلًا، وَأَخَذَ بِيَدِ عُثْمَانَ وَقَالَ: أُبَايِعُكَ عَلَى سُنَّةِ اللهِ، وَسُنَّةِ رَسُولِهِ، وَالْخَلِيفَتَيْنِ مِنْ بَعْدِهِ، فَبَايَعَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَبَايَعَهُ النَّاسُ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ وَأُمَرَاءُ الْأَجْنَادِ وَالْمُسْلِمُونَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ.سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک جماعت جسے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے والی بنایا، وہ اکٹھے ہوئے اور باہم مشورہ کرنے لگے تو سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ان کو کہا: میں اس معاملے میں تمہاری مخالفت نہیں کر رہا، لیکن اگر چاہو تو میں تم میں سے کسی آدمی کو اختیار کر لوں؟ تو انہوں نے یہ بات سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ پر چھوڑ دی۔ جب سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ مڑے تو لوگ ان کے گرد جمع ہو گئے اور سب آپ کی طرف مائل ہو گئے۔ جب لوگوں کا جم غفیر جمع ہو گیا تو وہ اس رات سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے سرگوشیاں کرنے لگے اور مشورہ کرنے لگے۔ جب صبح ہوئی تو ہم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی۔
سیدنا مسور رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس رات کے بعد ایک رات سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے میرا دروازہ کھٹکھٹایا، میں بیدار ہوا تو سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: کیا تم سوئے ہوئے ہو؟ اللہ کی قسم! میں تین راتوں سے نہیں سویا، جاؤ سیدنا زبیر اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہما کو بلاؤ، میں انہیں بلا لایا، ان دونوں سے مشورہ کیا، پھر کہا: جاؤ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھی بلا لاؤ، میں انہیں بلا لایا اور وہ رات دیر تک ان سے باتیں کرتے رہے اور سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کچھ خوف زدہ محسوس ہوئے۔ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بلوا کر بہت دیر تک باتیں کرتے رہے، یہاں تک کہ مؤذن نے ان کے درمیان جدائی کروائی۔ جب صبح ہوئی تو نماز کے بعد سب منبر کے ارد گرد بیٹھ گئے تو سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «أَمَّا بَعْدُ» ”بعد ازاں“، اے علی (رضی اللہ عنہ)! میں نے لوگوں کے معاملے کے بارے میں بہت غور و خوض کیا ہے، تو میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر کسی کو نہیں پایا، لہٰذا آپ محسوس نہ کرنا، اور انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور ان کے بعد دو خلیفوں کی سنت کے مطابق آپ سے بیعت کرتا ہوں، تو ان کے بعد مہاجرین، انصار اور تقریباً تمام لوگوں نے بیعت کر لی۔