السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: كيفية البيعة باب: بیعت کرنے کے طریقے (کیفیت) کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَحَّامُ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، يَعْنِي عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: مَكَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ يَتَتَبَّعُ النَّاسَ فِي مَنَازِلِهِمْ بِعُكَاظَ وَمَجَنَّةَ وَفِي الْمَوْسِمِ بِمِنًى، يَقُولُ: " مَنْ يُؤْوِينِي، مَنْ يَنْصُرُنِي حَتَّى أُبَلِّغَ رِسَالَةَ رَبِّي وَلَهُ الْجَنَّةُ؟ قَالَ: فَقُلْنَا: حَتَّى مَتَى نَتْرُكُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطْرَدُ فِي جِبَالِ مَكَّةَ وَيَخَافُ؟ فَرَحَلَ إِلَيْهِ مِنَّا سَبْعُونَ رَجُلًا حَتَّى قَدِمْنَا عَلَيْهِ فِي الْمَوْسِمِ، فَوَعَدْنَاهُ شِعْبَ الْعَقَبَةِ، فَاجْتَمَعْنَا عِنْدَهُ مِنْ رَجُلٍ وَرَجُلَيْنِ، حَتَّى تَوَافَيْنَا فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ عَلَى مَا نُبَايِعُكَ؟ قَالَ: " تُبَايِعُونِي عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي النَّشَاطِ وَالْكَسَلِ، وَالنَّفَقَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ، وَعَلَى الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَأَنْ تَقُولُوا فِي اللهِ لَا تَخَافُونَ لَوْمَةَ لَائِمٍ، وَعَلَى أَنْ تَنْصُرُونِي إِذَا قَدِمْتُ عَلَيْكُمْ، وَتَمْنَعُونِي مِمَّا تَمْنَعُونَ مِنْهُ أَنْفُسَكُمْ وَأَزْوَاجَكُمْ وَأَبْنَاءَكُمْ، وَلَكُمُ الْجَنَّةُ ". فَقُمْنَا إِلَيْهِ فَبَايَعْنَاهُ.سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ میں دس سال مقیم رہے، آپ ﷺ لوگوں سے ان کے گھروں میں، عکاظ کے بازار اور مجنہ میں اور حج کے موسم میں (مختلف مقامات پر) ملتے اور فرماتے: ”کون میری مدد کرے گا تاکہ میں اللہ کا پیغام پہنچاؤں؟ اور اس کے لیے جنت ہے۔“ (راوی کہتے ہیں کہ آخر کار) ہم نے (آپس میں) کہا: (کب تک) ہم رسول اللہ ﷺ کو اکیلا چھوڑے رکھیں گے کہ آپ مکہ کے پہاڑوں میں پھرتے ہیں اور (دشمنوں سے) ڈرتے ہیں؟ چنانچہ ہم میں سے ستر آدمی حج کے موسم میں گئے اور شعبِ عقبہ (گھاٹی) پر ملنے کا وعدہ کیا، جب ہم وہاں جمع ہو گئے تو ہم نے آپ ﷺ سے پوچھا: ہم کن باتوں پر آپ سے بیعت کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھ سے ان باتوں پر بیعت کرو کہ ہر حال میں (میری بات) سنو گے اور مانو گے، تنگی اور آسانی میں (اللہ کی راہ میں) خرچ کرو گے، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرو گے، اللہ کے بارے میں (حق بات) کہو گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرو گے، اور جب میں تمہارے پاس آ جاؤں تو میری مدد کرو گے اور جس طرح تم اپنی جانوں اور اپنے بیوی بچوں کا دفاع کرتے ہو، میرا بھی (اسی طرح) دفاع کرو گے (تو تمہارے لیے جنت ہے)۔“ پس ہم نے آپ ﷺ سے ان باتوں پر بیعت کر لی۔