کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: حکمرانوں (سربراہوں) سے متعلقہ ابواب کا جامع بیان۔ -- باب: ایک ہی دور میں دو اماموں (خلفاء) کا ہونا درست نہیں ہے، اس امر کا بیان۔
حدیث نمبر: 16547
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا ابْنُ أَبِي قُمَاشٍ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، عَنْ خَالِدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ⦗٢٤٩⦘ أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أَنْبَأَ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا بُويِعَ لِخَلِيفَتَيْنِ فَاقْتُلُوا الْآخِرَ مِنْهُمَا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ وَهْبِ بْنِ بَقِيَّةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب دو خلیفوں کی ایک وقت میں بیعت کی جائے تو ان میں سے دوسرے کو قتل کر دو۔“
حدیث نمبر: 16548
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنُ عُبْدُوسٍ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثَنَا بُنْدَارٌ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ فُرَاتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ يُحَدِّثُ، قَالَ: قَاعَدْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ خَمْسَ سِنِينَ، فَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ، كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ، وَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي، وَسَتَكُونُ خُلَفَاءُ يَكْثُرُونَ"، قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: " فُوا بَيْعَةَ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ، وَأَعْطُوهُمْ حَقَّهُمْ، فَإِنَّ اللهَ سَائِلُهُمْ عَمَّنِ اسْتَرْعَاهُمْ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ جَمِيعًا فِي الصَّحِيحِ عَنْ بُنْدَارٍ وَرَوَيْنَا فِي حَدِيثِ السَّقِيفَةِ أَنَّ الْأَنْصَارَ حِينَ قَالُوا: مِنَّا رَجُلٌ وَمِنْكُمْ رَجُلٌ، قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمَئِذٍ: سَيْفَانِ فِي غِمْدٍ وَاحِدٍ إِذًا لَا يَصْطَلِحَانِ.
حافظ ثناء اللہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”بنو اسرائیل میں انبیاء کا سلسلہ تھا، ایک جاتا تو دوسرا آجاتا، لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، البتہ خلفاء کثرت سے ہوں گے۔“ پوچھا: پھر آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا: ”ان میں سے جو سب سے پہلے ہو اس کی اطاعت کرو، اس کا حق دو، باقی ان کی رعیت کے بارے میں اللہ ان سے پوچھے گا۔“
حدیث نمبر: 16549
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي خُطْبَتِهِ يَوْمَئِذٍ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ نُبَيْطٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ، قَالَ: كَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ لَهُ: يَا صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ. فَعَلِمُوا أَنَّهُ كَمَا قَالَ، ثُمَّ قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: دُونَكُمْ صَاحِبَكُمْ، لِبَنِي عَمِّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْنِي فِي غُسْلِهِ يَكُونُ أَمْرُهُ، ثُمَّ خَرَجَ فَاجْتَمَعَ الْمُهَاجِرُونَ يَتَشَاوَرُونَ، فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ يَتَشَاوَرُونَ إِذْ قَالُوا: انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى إِخْوَانِنَا مِنَ الْأَنْصَارِ، فَإِنَّ لَهُمْ فِي هَذَا الْحَقِّ نَصِيبًا، فَانْطَلَقُوا فَأَتَوُا الْأَنْصَارَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: مِنَّا رَجُلٌ وَمِنْكُمْ رَجُلٌ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " سَيْفَانِ فِي غِمْدٍ وَاحِدٍ إِذًا لَا يَصْطَلِحَا، فَأَخَذَ بِيَدِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَقَالَ: مَنْ هَذَا الَّذِي لَهُ هَذِهِ الثَّلَاثُ: {إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ} [التوبة: ٤٠] مَنْ هُمَا؟ {إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ} [التوبة: ٤٠] مَنْ صَاحِبُهُ؟ {لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا} [التوبة: ٤٠] مَعَ مَنْ هُوَ؟ فَبَسَطَ عُمَرُ يَدَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ: بَايَعُوهُ، فَبَايَعَ النَّاسُ أَحْسَنَ بَيْعَةٍ وَأَجْمَلَهَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سالم بن عبید رضی اللہ عنہ، جو اصحابِ صفہ میں سے تھے، فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس تھے۔ کہا گیا: اے نبی ﷺ کے ساتھی! کیا نبی ﷺ فوت ہو گئے ہیں؟ فرمایا: ہاں، اور انہیں پتا بھی چل گیا اور پھر فرمایا: اپنے صاحب کو اس کے چچا کے بیٹے کے لیے چھوڑ دو، یعنی غسل دینے کے لیے۔ پھر آئے مہاجرین اکٹھے ہو گئے اور مشورہ کرنے لگے اور کہنے لگے: انصاری بھائیوں کے پاس چلو، ان سے بھی مشورہ کرتے ہیں، ان کا بھی حق ہے۔ انصار کے پاس آئے تو ایک شخص انصار میں سے کہنے لگا: ایک امیر تم میں سے اور ایک ہم میں سے ہو گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: دو تلواریں ایک میان میں، یہ صحیح نہیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور پوچھا: یہ تین آیات کس کے بارے میں ہیں: ﴿إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ﴾ [سورة التوبة: 40]، ﴿إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ﴾ [سورة التوبة: 40] اور ﴿لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا﴾ [سورة التوبة: 40]؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ کھولا، بیعت کی اور لوگوں کو بھی کہا تو لوگوں نے بہت اچھی بیعت کر لی۔
حدیث نمبر: 16550
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي خُطْبَتِهِ يَوْمَئِذٍ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، فِي خُطْبَةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمَئِذٍ، قَالَ: وَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ أَنْ يَكُونَ لِلْمُسْلِمِينَ أَمِيرَانِ، فَإِنَّهُ مَهْمَا يَكُنْ ذَلِكَ يَخْتَلِفْ أَمَرُهُمْ وَأَحْكَامُهُمْ، وَتَتَفَرَّقُ جَمَاعَتُهُمْ، وَيَتَنَازَعُوا فِيمَا بَيْنَهُمْ، هُنَالِكَ تُتْرَكُ السُّنَّةُ، وَتَظْهَرُ الْبِدْعَةُ، وَتَعْظُمُ الْفِتْنَةُ، وَلَيْسَ لِأَحَدٍ عَلَى ذَلِكَ صَلَاحٌ.
حافظ ثناء اللہ
اسحاق، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا اس دن کا خطبہ بیان فرماتے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا: مسلمانوں میں دو امیر جائز نہیں، ہو سکتا ہے ان کے حکم فیصلے مختلف ہوں اور مسلمانوں میں فرقہ واریت پھیل جائے اور آپس میں تنازع ہو جائے، سنت چھوٹ جائے اور بدعت ظاہر ہو جائے اور فتنے سر اٹھائیں اور کسی کے لیے بھی اس میں بھلائی نہیں ہے۔