کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: قسامہ کی بنیاد پر قتل (قصاص) کرنے کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان۔
Not Found.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ اپنی قوم کے سردار تھے، سیدنا عبداللہ بن سہل اور سیدنا محیصہ رضی اللہ عنہما خیبر کی طرف نکلے، پھر انہوں نے عبداللہ کے قتل کی مکمل حدیث بیان کی اور یہ بھی کہ نبی ﷺ نے فرمایا تھا: ”قسم اٹھا لو اور اپنے ساتھی کے خون کے مستحق بن جاؤ۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، وَبَشِيرُ بْنُ أَبِي كَيْسَانَ، مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، قَالَ: أُصِيبَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَهْلٍ بِخَيْبَرَ، وَكَانَ خَرَجَ إِلَيْهَا فِي أَصْحَابٍ لَهُ يَمْتَارُونَ تَمْرًا فَوُجِدَ فِي عَيْنٍ قَدْ كُسِرَتْ عُنُقُهُ ثُمَّ ضُرِحَ عَلَيْهِ، فَأَخَذُوهُ فَغَيَّبُوهُ، ثُمَّ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا لَهُ شَأْنَهُ، فَتَقَدَّمَ أَخُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَمَعَهُ ابْنَا عَمِّهِ حُوَيِّصَةُ، وَمُحَيِّصَةُ ابْنَا مَسْعُودٍ، وَكَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَحْدَثَهُمْ سِنًّا، وَكَانَ صَاحِبَ الدَّمِ وَكَانَ ذَا قَدَمِ الْقَوْمِ، فَلَمَّا تَكَلَّمَ قَبْلَ بَنِي عَمِّهِ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْكِبَرَ الْكِبَرَ " فَتَكَلَّمَ حُوَيِّصَةُ، وَمُحَيِّصَةُ ثُمَّ تَكَلَّمَ هُوَ بَعْدُ، فَذَكَرَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتْلَ صَاحِبِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تُسَمُّونَ قَاتِلَكُمْ ثُمَّ تَحْلِفُونَ عَلَيْهِ خَمْسِينَ يَمِينًا فَنُسْلِمُهُ إِلَيْكُمْ؟ " قَالُوا: مَا كُنَّا نَحْلِفُ عَلَى مَا لَا نَعْلَمُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَيَحْلِفُونَ بِاللهِ لَكُمْ خَمْسِينَ يَمِينًا مَا قَتَلُوهُ وَلَا يَعْلَمُونَ لَهُ قَاتِلًا، ثُمَّ يَبْرَءُونَ مِنْ دَمِهِ؟ " فَقَالُوا: مَا كُنَّا لِنَقْبَلَ أَيْمَانَ يَهُودَ، مَا فِيهِمْ مِنَ الْكُفْرِ أَعْظَمُ مِنْ أَنْ يَحْلِفُوا عَلَى إِثْمٍ فَوَدَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ مِائَةَ نَاقَةٍ فَقَالَ سَهْلٌ: فَوَاللهِ مَا أَنْسَى بَكْرَةً مِنْهَا حَمْرَاءَ ضَرَبَتْنِي بِرِجْلِهَا وَأَنَا أَحُورُهَا.
حافظ ثناء اللہ
یہ اس سے پہلے (حدیث نمبر) 16430 کے تحت گزر چکی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، وَكَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَا: ثنا الْوَلِيدُ، ح قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، أنبأ الْوَلِيدُ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ⦗٢١٩⦘ أَنَّهُ قَتَلَ بِالْقَسَامَةِ رَجُلًا مِنْ بَنِي نَصْرِ بْنِ مَالِكٍ، بِبَحْرَةِ الرِّعَاءِ عَلَى شَطِّ لَيَّةَ، فَقَالَ: الْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ مِنْهُمْ وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَهَذَا لَفْظُ مَحْمُودٍ بِبَحْرَةَ، أَقَامَهُ مَحْمُودٌ وَحْدَهُ هَذَا مُنْقَطِعٌ، وَمَا قَبْلَهُ مُحْتَمَلٌ لِاسْتِحْقَاقِ الدِّيَةِ، فَإِنَّهَا بِالدَّمِ تُسْتَحَقُّ، وَاللهُ أَعْلَمُ،.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب رحمہ اللہ رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ بنو نصر بن مالک کا سمندر کے ساحل کے پاس کی زمین پر ایک شخص قتل ہو گیا، قسامہ کا معاملہ ہوا تو فرمایا: ”قاتل اور مقتول انہی میں سے ہیں۔“
وَرَوَى أَيْضًا أَبُو دَاوُدَ، فِي الْمَرَاسِيلِ، عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ قَتَادَةَ، وَعَامِرٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي الْمُغِيرَةِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَقَادَ بِالْقَسَامَةِ بِالطَّائِفِ وَهُوَ أَيْضًا مُنْقَطِعٌ: أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنْبَأَ الْفَسَوِيُّ، ثنا اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
ابو مغیرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے قسامہ کے قتل میں طائف میں قصاص لیا تھا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الرَّفَّاءُ الْبَغْدَادِيُّ بِخُسْرَوْجِرْدَ، أنبأ أَبُو عُمَرَ، وَعُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، وَعِيسَى بْنُ مِينَا، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، أَنَّ أَبَاهُ، قَالَ: كَانَ مَنْ أَدْرَكْتُ مِنْ فُقَهَائِنَا الَّذِينَ يُنْتَهَى إِلَى قَوْلِهِمْ، يَعْنِي مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، يَقُولُونَ: يَبْدَأُ بِالْيَمِينِ فِي الْقَسَامَةِ الَّذِينَ يَجِيئُونَ مِنَ الشَّهَادَةِ عَلَى اللَّطْخِ، وَالشُّبْهَةِ الْخَفِيَّةِ مَا لَا يَجِيءُ خُصَمَاؤُهُمْ، وَحَيْثُ كَانَ ذَلِكَ كَانَتِ الْقَسَامَةُ لَهُمْ قَالَ أَبُو الزِّنَادِ: وَأَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ قَتَلَ وَهُوَ سَكْرَانُ رَجُلًا ضَرَبَهُ بِشَوْبَقٍ وَلَمْ يَكُنْ عَلَى ذَلِكَ بَيِّنَةٌ قَاطِعَةٌ، إِلَّا لَطْخٌ أَوْ شَبِيهُ ذَلِكَ، وَفِي النَّاسِ يَوْمَئِذٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمِنْ فُقَهَاءِ النَّاسِ مَا لَا يُحْصَى، وَمَا اخْتَلَفَ اثْنَانِ مِنْهُمْ أَنْ يَحْلِفَ وُلَاةُ الْمَقْتُولِ وَيَقْتُلُوا أَوْ يَسْتَحْيُوا، فَحَلَفُوا خَمْسِينَ يَمِينًا وَقَتَلُوا، وَكَانُوا يُخْبِرُونَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالْقَسَامَةِ، وَيَرَوْنَهَا لِلَّذِي يَأْتِي بِهِ مِنَ اللَّطْخِ وَالشُّبْهَةِ أَقْوَى مِمَّا يَأْتِي بِهِ خَصْمُهُ، وَرَأَوْا ذَلِكَ فِي الصُّهَيْبِيِّ حِينَ قَتَلَهُ الْحَاطِبِيُّونَ وَفِي غَيْرِهِ وَرَوَاهُ ابْنُ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ، وَزَادَ فِيهِ أَنَّ مُعَاوِيَةَ كَتَبَ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، إِنْ كَانَ مَا ذَكَرْنَا لَهُ حَقًّا أَنْ يُحْلِفَنَا عَلَى الْقَاتِلِ ثُمَّ يُسَلَّمَ إِلَيْنَا.
حافظ ثناء اللہ
ابوالزناد مدینہ کے کبار فقہاء سے روایت کرتے ہیں کہ قسامہ میں سب سے پہلے ان لوگوں سے قسم لی جائے گی جو الزام، شبہ اور گواہی لائیں، ان پر نہیں جو ان کے مدمقابل ہیں؛ کیونکہ قسامہ ہے ہی ان کے لیے۔
ابوالزناد کہتے ہیں: مجھے خارجہ بن زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ایک انصاری نے دوسرے کو نشے کی حالت میں قتل کر دیا۔ اس پر کوئی دلیل نہیں تھی، صرف الزام اور شبہ تھا۔ لوگوں میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور بہت سارے فقہاء بھی موجود تھے، ان میں سے کسی بھی دو کا اختلاف نہیں تھا کہ قسم مقتول کے اولیاء اٹھائیں گے۔ انہوں نے قسم اٹھائی اور ان کو قتل کر دیا اور وہ سب بتاتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے بھی قسامہ کے ساتھ فیصلہ فرمایا ہے اور وہ الزام اور شبہ والوں کو دوسروں سے قوی سمجھتے تھے۔
اور ابوالزناد سے ایک روایت اور بھی ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعید بن العاص رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا جو ہم نے ذکر کیا ہے، اگر وہ سچ ہے تو ہم قاتل پر قسم اٹھوائیں گے، پھر اسے ہماری طرف بھیج دو۔
ابوالزناد کہتے ہیں: مجھے خارجہ بن زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ایک انصاری نے دوسرے کو نشے کی حالت میں قتل کر دیا۔ اس پر کوئی دلیل نہیں تھی، صرف الزام اور شبہ تھا۔ لوگوں میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور بہت سارے فقہاء بھی موجود تھے، ان میں سے کسی بھی دو کا اختلاف نہیں تھا کہ قسم مقتول کے اولیاء اٹھائیں گے۔ انہوں نے قسم اٹھائی اور ان کو قتل کر دیا اور وہ سب بتاتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے بھی قسامہ کے ساتھ فیصلہ فرمایا ہے اور وہ الزام اور شبہ والوں کو دوسروں سے قوی سمجھتے تھے۔
اور ابوالزناد سے ایک روایت اور بھی ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعید بن العاص رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا جو ہم نے ذکر کیا ہے، اگر وہ سچ ہے تو ہم قاتل پر قسم اٹھوائیں گے، پھر اسے ہماری طرف بھیج دو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، أَنَّ هِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْ آلِ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنْ آلِ صُهَيْبٍ مُنَازَعَةٌ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي قَتْلِهِ، قَالَ: فَرَكِبَ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ إِلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ ⦗٢٢٠⦘ مَرْوَانَ فِي ذَلِكَ فَقَضَى بِالْقَسَامَةِ عَلَى سِتَّةِ نَفَرٍ مِنْ آلِ حَاطِبٍ، فَثَنَّى عَلَيْهِمُ الْأَيْمَانَ، فَطَلَبَ آلُ حَاطِبٍ أَنْ يَحْلِفُوا عَلَى اثْنَيْنِ وَيَقْتُلُوهُمَا، فَأَبَى عَبْدُ الْمَلِكِ إِلَّا أَنْ يَحْلِفُوا عَلَى وَاحِدٍ فَيَقْتُلُوهُ، فَحَلَفُوا عَلَى الصُّهَيْبِيِّ فَقَتَلُوهُ، قَالَ هِشَامٌ: فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عُرْوَةُ، وَرَأَى أَنْ قَدْ أُصِيبَ فِيهِ الْحَقُّ وَرُوِّينَا فِيهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَرَبِيعَةَ وَيُذْكَرُ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَابْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّهُمَا أَقَادَا بِالْقَسَامَةِ وَيُذْكَرُ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَنَّهُ رَجَعَ عَنْ ذَلِكَ وَقَالَ: إِنْ وَجَدَ أَصْحَابُهُ بَيِّنَةً، وَإِلَّا فَلَا تُظْلَمُ النَّاسُ، فَإِنَّ هَذَا لَا يُقْضَى فِيهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.
حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ اور آلِ صہیب رضی اللہ عنہ کے ایک شخص کے درمیان کوئی جھگڑا تھا، پھر اس کے قتل کی حدیث بیان کی، کہتے ہیں کہ یحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب رحمہ اللہ عبدالملک بن مروان کے پاس سوار ہو کر گئے تو اس نے قسامہ پر فیصلہ کر دیا کہ آلِ حاطب میں سے ۶ آدمی قسم اٹھائیں۔ آلِ حاطب آئے، انہوں نے دو شخصوں پر قسم اٹھانا چاہی تو کہا گیا: نہیں ایک پر اٹھاؤ، تو انہوں نے صہیبی پر اٹھائی تو اسے قتل کر دیا گیا۔