کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: قسامہ کی بنیاد پر قتل (قصاص) کرنے کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان۔
❮
❯
Not Found.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ اپنی قوم کے سردار تھے، سیدنا عبداللہ بن سہل اور سیدنا محیصہ رضی اللہ عنہما خیبر کی طرف نکلے، پھر انہوں نے عبداللہ کے قتل کی مکمل حدیث بیان کی اور یہ بھی کہ نبی ﷺ نے فرمایا تھا: ”قسم اٹھا لو اور اپنے ساتھی کے خون کے مستحق بن جاؤ۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسامة / حدیث: 16455
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، وَبَشِيرُ بْنُ أَبِي كَيْسَانَ، مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، قَالَ: أُصِيبَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَهْلٍ بِخَيْبَرَ، وَكَانَ خَرَجَ إِلَيْهَا فِي أَصْحَابٍ لَهُ يَمْتَارُونَ تَمْرًا فَوُجِدَ فِي عَيْنٍ قَدْ كُسِرَتْ عُنُقُهُ ثُمَّ ضُرِحَ عَلَيْهِ، فَأَخَذُوهُ فَغَيَّبُوهُ، ثُمَّ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا لَهُ شَأْنَهُ، فَتَقَدَّمَ أَخُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَمَعَهُ ابْنَا عَمِّهِ حُوَيِّصَةُ، وَمُحَيِّصَةُ ابْنَا مَسْعُودٍ، وَكَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَحْدَثَهُمْ سِنًّا، وَكَانَ صَاحِبَ الدَّمِ وَكَانَ ذَا قَدَمِ الْقَوْمِ، فَلَمَّا تَكَلَّمَ قَبْلَ بَنِي عَمِّهِ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْكِبَرَ الْكِبَرَ " فَتَكَلَّمَ حُوَيِّصَةُ، وَمُحَيِّصَةُ ثُمَّ تَكَلَّمَ هُوَ بَعْدُ، فَذَكَرَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتْلَ صَاحِبِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تُسَمُّونَ قَاتِلَكُمْ ثُمَّ تَحْلِفُونَ عَلَيْهِ خَمْسِينَ يَمِينًا فَنُسْلِمُهُ إِلَيْكُمْ؟ " قَالُوا: مَا كُنَّا نَحْلِفُ عَلَى مَا لَا نَعْلَمُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَيَحْلِفُونَ بِاللهِ لَكُمْ خَمْسِينَ يَمِينًا مَا قَتَلُوهُ وَلَا يَعْلَمُونَ لَهُ قَاتِلًا، ثُمَّ يَبْرَءُونَ مِنْ دَمِهِ؟ " فَقَالُوا: مَا كُنَّا لِنَقْبَلَ أَيْمَانَ يَهُودَ، مَا فِيهِمْ مِنَ الْكُفْرِ أَعْظَمُ مِنْ أَنْ يَحْلِفُوا عَلَى إِثْمٍ فَوَدَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ مِائَةَ نَاقَةٍ فَقَالَ سَهْلٌ: فَوَاللهِ مَا أَنْسَى بَكْرَةً مِنْهَا حَمْرَاءَ ضَرَبَتْنِي بِرِجْلِهَا وَأَنَا أَحُورُهَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن سہل خیبر میں قتل کر دیے گئے، وہ اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ کھجوریں لینے وہاں گئے تھے، وہ ایک چشمے میں پائے گئے، ان کی گردن توڑ دی گئی تھی، پھر ان پر مٹی ڈال دی گئی تھی۔ انہوں نے انہیں اٹھا کر دفن کر دیا، پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ سے ان کا معاملہ ذکر کیا۔ تو ان کے بھائی عبدالرحمن آگے بڑھے اور ان کے ساتھ ان کے دونوں چچا زاد، مسعود کے بیٹے حویصہ اور محیصہ تھے۔ عبدالرحمن ان میں سب سے کم عمر تھے لیکن وہی خون کے وارث تھے اور قوم میں مقام رکھتے تھے۔ جب انہوں نے اپنے چچا زادوں سے پہلے بات کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بڑا، بڑا۔“ تو حویصہ اور محیصہ نے بات کی، پھر اس کے بعد انہوں نے بات کی اور رسول اللہ ﷺ سے اپنے ساتھی کے قتل کا ذکر کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم اپنے قاتل کا نام لو گے، پھر اس پر پچاس قسمیں اٹھاؤ گے تو ہم اسے تمہارے حوالے کر دیں؟“ انہوں نے کہا: ”جو ہم نہیں جانتے اس پر ہم قسم نہیں اٹھا سکتے۔“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تو کیا وہ تمہارے لیے اللہ کی پچاس قسمیں اٹھائیں کہ انہوں نے اسے قتل نہیں کیا اور نہ اس کے قاتل کو جانتے ہیں، پھر وہ اس کے خون سے بری ہو جائیں؟“ انہوں نے کہا: ”ہم یہود کی قسمیں قبول نہیں کر سکتے، ان کا کفر اس سے کہیں بڑا ہے کہ وہ گناہ پر قسم اٹھانے سے رکیں۔“ تو رسول اللہ ﷺ نے اپنی طرف سے سو اونٹنیاں اس کی دیت ادا کی۔ سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں ان میں سے ایک سرخ جوان اونٹنی کو نہیں بھولتا جس نے مجھے اپنی ٹانگ سے لات ماری تھی جبکہ میں انہیں ہانک رہا تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسامة / حدیث: 16456
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، وَكَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَا: ثنا الْوَلِيدُ، ح قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، أنبأ الْوَلِيدُ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ⦗٢١٩⦘ أَنَّهُ قَتَلَ بِالْقَسَامَةِ رَجُلًا مِنْ بَنِي نَصْرِ بْنِ مَالِكٍ، بِبَحْرَةِ الرِّعَاءِ عَلَى شَطِّ لَيَّةَ، فَقَالَ: الْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ مِنْهُمْ وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَهَذَا لَفْظُ مَحْمُودٍ بِبَحْرَةَ، أَقَامَهُ مَحْمُودٌ وَحْدَهُ هَذَا مُنْقَطِعٌ، وَمَا قَبْلَهُ مُحْتَمَلٌ لِاسْتِحْقَاقِ الدِّيَةِ، فَإِنَّهَا بِالدَّمِ تُسْتَحَقُّ، وَاللهُ أَعْلَمُ،.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب رحمہ اللہ رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے قسامہ کی بنیاد پر بنو نصر بن مالک کے ایک شخص کو بحرۃ الرعاء میں لیہ کے کنارے (قصاص میں) قتل کروایا اور فرمایا: ”قاتل اور مقتول انہی میں سے ہیں۔“
یہ روایت منقطع ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسامة / حدیث: 16457
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
وَرَوَى أَيْضًا أَبُو دَاوُدَ، فِي الْمَرَاسِيلِ، عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ قَتَادَةَ، وَعَامِرٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي الْمُغِيرَةِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَقَادَ بِالْقَسَامَةِ بِالطَّائِفِ وَهُوَ أَيْضًا مُنْقَطِعٌ: أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنْبَأَ الْفَسَوِيُّ، ثنا اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
ابو مغیرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے قسامہ کے قتل میں طائف میں قصاص لیا تھا۔
یہ روایت بھی منقطع ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسامة / حدیث: 16458
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الرَّفَّاءُ الْبَغْدَادِيُّ بِخُسْرَوْجِرْدَ، أنبأ أَبُو عُمَرَ، وَعُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، وَعِيسَى بْنُ مِينَا، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، أَنَّ أَبَاهُ، قَالَ: كَانَ مَنْ أَدْرَكْتُ مِنْ فُقَهَائِنَا الَّذِينَ يُنْتَهَى إِلَى قَوْلِهِمْ، يَعْنِي مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، يَقُولُونَ: يَبْدَأُ بِالْيَمِينِ فِي الْقَسَامَةِ الَّذِينَ يَجِيئُونَ مِنَ الشَّهَادَةِ عَلَى اللَّطْخِ، وَالشُّبْهَةِ الْخَفِيَّةِ مَا لَا يَجِيءُ خُصَمَاؤُهُمْ، وَحَيْثُ كَانَ ذَلِكَ كَانَتِ الْقَسَامَةُ لَهُمْ قَالَ أَبُو الزِّنَادِ: وَأَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ قَتَلَ وَهُوَ سَكْرَانُ رَجُلًا ضَرَبَهُ بِشَوْبَقٍ وَلَمْ يَكُنْ عَلَى ذَلِكَ بَيِّنَةٌ قَاطِعَةٌ، إِلَّا لَطْخٌ أَوْ شَبِيهُ ذَلِكَ، وَفِي النَّاسِ يَوْمَئِذٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمِنْ فُقَهَاءِ النَّاسِ مَا لَا يُحْصَى، وَمَا اخْتَلَفَ اثْنَانِ مِنْهُمْ أَنْ يَحْلِفَ وُلَاةُ الْمَقْتُولِ وَيَقْتُلُوا أَوْ يَسْتَحْيُوا، فَحَلَفُوا خَمْسِينَ يَمِينًا وَقَتَلُوا، وَكَانُوا يُخْبِرُونَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالْقَسَامَةِ، وَيَرَوْنَهَا لِلَّذِي يَأْتِي بِهِ مِنَ اللَّطْخِ وَالشُّبْهَةِ أَقْوَى مِمَّا يَأْتِي بِهِ خَصْمُهُ، وَرَأَوْا ذَلِكَ فِي الصُّهَيْبِيِّ حِينَ قَتَلَهُ الْحَاطِبِيُّونَ وَفِي غَيْرِهِ وَرَوَاهُ ابْنُ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ، وَزَادَ فِيهِ أَنَّ مُعَاوِيَةَ كَتَبَ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، إِنْ كَانَ مَا ذَكَرْنَا لَهُ حَقًّا أَنْ يُحْلِفَنَا عَلَى الْقَاتِلِ ثُمَّ يُسَلَّمَ إِلَيْنَا.
حافظ ثناء اللہ
ابوالزناد مدینہ کے کبار فقہاء سے روایت کرتے ہیں کہ قسامہ میں سب سے پہلے ان لوگوں سے قسم لی جائے گی جو الزام، شبہ اور گواہی لائیں، ان پر نہیں جو ان کے مدمقابل ہیں؛ کیونکہ قسامہ ہے ہی ان کے لیے۔
ابوالزناد کہتے ہیں: مجھے خارجہ بن زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ایک انصاری نے دوسرے کو نشے کی حالت میں قتل کر دیا۔ اس پر کوئی دلیل نہیں تھی، صرف الزام اور شبہ تھا۔ لوگوں میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور بہت سارے فقہاء بھی موجود تھے، ان میں سے کسی بھی دو کا اختلاف نہیں تھا کہ قسم مقتول کے اولیاء اٹھائیں گے۔ انہوں نے قسم اٹھائی اور ان کو قتل کر دیا اور وہ سب بتاتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے بھی قسامہ کے ساتھ فیصلہ فرمایا ہے اور وہ الزام اور شبہ والوں کو دوسروں سے قوی سمجھتے تھے۔
اور ابوالزناد سے ایک روایت اور بھی ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعید بن العاص رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا جو ہم نے ذکر کیا ہے، اگر وہ سچ ہے تو ہم قاتل پر قسم اٹھوائیں گے، پھر اسے ہماری طرف بھیج دو۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسامة / حدیث: 16459
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، أَنَّ هِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْ آلِ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنْ آلِ صُهَيْبٍ مُنَازَعَةٌ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي قَتْلِهِ، قَالَ: فَرَكِبَ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ إِلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ ⦗٢٢٠⦘ مَرْوَانَ فِي ذَلِكَ فَقَضَى بِالْقَسَامَةِ عَلَى سِتَّةِ نَفَرٍ مِنْ آلِ حَاطِبٍ، فَثَنَّى عَلَيْهِمُ الْأَيْمَانَ، فَطَلَبَ آلُ حَاطِبٍ أَنْ يَحْلِفُوا عَلَى اثْنَيْنِ وَيَقْتُلُوهُمَا، فَأَبَى عَبْدُ الْمَلِكِ إِلَّا أَنْ يَحْلِفُوا عَلَى وَاحِدٍ فَيَقْتُلُوهُ، فَحَلَفُوا عَلَى الصُّهَيْبِيِّ فَقَتَلُوهُ، قَالَ هِشَامٌ: فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عُرْوَةُ، وَرَأَى أَنْ قَدْ أُصِيبَ فِيهِ الْحَقُّ وَرُوِّينَا فِيهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَرَبِيعَةَ وَيُذْكَرُ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَابْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّهُمَا أَقَادَا بِالْقَسَامَةِ وَيُذْكَرُ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَنَّهُ رَجَعَ عَنْ ذَلِكَ وَقَالَ: إِنْ وَجَدَ أَصْحَابُهُ بَيِّنَةً، وَإِلَّا فَلَا تُظْلَمُ النَّاسُ، فَإِنَّ هَذَا لَا يُقْضَى فِيهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.
حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ آلِ حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کے ایک شخص اور آلِ صہیب رضی اللہ عنہ کے ایک شخص کے درمیان کوئی جھگڑا تھا، پھر اس کے قتل کی حدیث بیان کی، کہتے ہیں کہ یحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب رحمہ اللہ اس بارے میں عبدالملک بن مروان کے پاس سوار ہو کر گئے تو اس نے قسامہ پر فیصلہ کر دیا کہ آلِ حاطب میں سے 6 آدمی قسم اٹھائیں، اور ان پر قسمیں دہرائیں۔ آلِ حاطب نے دو شخصوں پر قسم اٹھا کر انہیں قتل کرنا چاہا تو عبدالملک نے انکار کیا اور کہا کہ ایک پر قسم اٹھاؤ اور اسے قتل کرو، تو انہوں نے صہیبی پر قسم اٹھائی تو اسے قتل کر دیا گیا۔ ہشام کہتے ہیں: عروہ نے اس پر انکار نہیں کیا اور ان کی رائے تھی کہ اس میں حق تک پہنچا گیا ہے۔
اس بارے میں زہری اور ربیعہ سے بھی ہمیں روایت پہنچی ہے، اور ابن ابی ملیکہ سے ذکر کیا جاتا ہے کہ عمر بن عبدالعزیز اور ابن زبیر نے قسامہ کے ذریعے قصاص لیا، اور عمر بن عبدالعزیز سے ذکر کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اس سے رجوع کر لیا اور فرمایا: اگر مقتول کے وارثوں کو دلیل مل جائے (تو ٹھیک)، ورنہ لوگوں پر ظلم نہ کیا جائے، کیونکہ اس کا فیصلہ تو قیامت کے دن ہی ہوگا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسامة / حدیث: 16460
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»