❮
❯
حدیث نمبر: 16456
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، وَبَشِيرُ بْنُ أَبِي كَيْسَانَ، مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، قَالَ: أُصِيبَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَهْلٍ بِخَيْبَرَ، وَكَانَ خَرَجَ إِلَيْهَا فِي أَصْحَابٍ لَهُ يَمْتَارُونَ تَمْرًا فَوُجِدَ فِي عَيْنٍ قَدْ كُسِرَتْ عُنُقُهُ ثُمَّ ضُرِحَ عَلَيْهِ، فَأَخَذُوهُ فَغَيَّبُوهُ، ثُمَّ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا لَهُ شَأْنَهُ، فَتَقَدَّمَ أَخُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَمَعَهُ ابْنَا عَمِّهِ حُوَيِّصَةُ، وَمُحَيِّصَةُ ابْنَا مَسْعُودٍ، وَكَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَحْدَثَهُمْ سِنًّا، وَكَانَ صَاحِبَ الدَّمِ وَكَانَ ذَا قَدَمِ الْقَوْمِ، فَلَمَّا تَكَلَّمَ قَبْلَ بَنِي عَمِّهِ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْكِبَرَ الْكِبَرَ " فَتَكَلَّمَ حُوَيِّصَةُ، وَمُحَيِّصَةُ ثُمَّ تَكَلَّمَ هُوَ بَعْدُ، فَذَكَرَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتْلَ صَاحِبِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تُسَمُّونَ قَاتِلَكُمْ ثُمَّ تَحْلِفُونَ عَلَيْهِ خَمْسِينَ يَمِينًا فَنُسْلِمُهُ إِلَيْكُمْ؟ " قَالُوا: مَا كُنَّا نَحْلِفُ عَلَى مَا لَا نَعْلَمُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَيَحْلِفُونَ بِاللهِ لَكُمْ خَمْسِينَ يَمِينًا مَا قَتَلُوهُ وَلَا يَعْلَمُونَ لَهُ قَاتِلًا، ثُمَّ يَبْرَءُونَ مِنْ دَمِهِ؟ " فَقَالُوا: مَا كُنَّا لِنَقْبَلَ أَيْمَانَ يَهُودَ، مَا فِيهِمْ مِنَ الْكُفْرِ أَعْظَمُ مِنْ أَنْ يَحْلِفُوا عَلَى إِثْمٍ فَوَدَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ مِائَةَ نَاقَةٍ فَقَالَ سَهْلٌ: فَوَاللهِ مَا أَنْسَى بَكْرَةً مِنْهَا حَمْرَاءَ ضَرَبَتْنِي بِرِجْلِهَا وَأَنَا أَحُورُهَا.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن سہل خیبر میں قتل کر دیے گئے، وہ اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ کھجوریں لینے وہاں گئے تھے، وہ ایک چشمے میں پائے گئے، ان کی گردن توڑ دی گئی تھی، پھر ان پر مٹی ڈال دی گئی تھی۔ انہوں نے انہیں اٹھا کر دفن کر دیا، پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ سے ان کا معاملہ ذکر کیا۔ تو ان کے بھائی عبدالرحمن آگے بڑھے اور ان کے ساتھ ان کے دونوں چچا زاد، مسعود کے بیٹے حویصہ اور محیصہ تھے۔ عبدالرحمن ان میں سب سے کم عمر تھے لیکن وہی خون کے وارث تھے اور قوم میں مقام رکھتے تھے۔ جب انہوں نے اپنے چچا زادوں سے پہلے بات کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بڑا، بڑا۔“ تو حویصہ اور محیصہ نے بات کی، پھر اس کے بعد انہوں نے بات کی اور رسول اللہ ﷺ سے اپنے ساتھی کے قتل کا ذکر کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم اپنے قاتل کا نام لو گے، پھر اس پر پچاس قسمیں اٹھاؤ گے تو ہم اسے تمہارے حوالے کر دیں؟“ انہوں نے کہا: ”جو ہم نہیں جانتے اس پر ہم قسم نہیں اٹھا سکتے۔“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تو کیا وہ تمہارے لیے اللہ کی پچاس قسمیں اٹھائیں کہ انہوں نے اسے قتل نہیں کیا اور نہ اس کے قاتل کو جانتے ہیں، پھر وہ اس کے خون سے بری ہو جائیں؟“ انہوں نے کہا: ”ہم یہود کی قسمیں قبول نہیں کر سکتے، ان کا کفر اس سے کہیں بڑا ہے کہ وہ گناہ پر قسم اٹھانے سے رکیں۔“ تو رسول اللہ ﷺ نے اپنی طرف سے سو اونٹنیاں اس کی دیت ادا کی۔ سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں ان میں سے ایک سرخ جوان اونٹنی کو نہیں بھولتا جس نے مجھے اپنی ٹانگ سے لات ماری تھی جبکہ میں انہیں ہانک رہا تھا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسامة / حدیث: 16456