السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسامة— قسامت کا بیان
باب: ما جاء في القتل بالقسامة باب: قسامہ کی بنیاد پر قتل (قصاص) کرنے کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، أَنَّ هِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْ آلِ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنْ آلِ صُهَيْبٍ مُنَازَعَةٌ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي قَتْلِهِ، قَالَ: فَرَكِبَ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ إِلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ ⦗٢٢٠⦘ مَرْوَانَ فِي ذَلِكَ فَقَضَى بِالْقَسَامَةِ عَلَى سِتَّةِ نَفَرٍ مِنْ آلِ حَاطِبٍ، فَثَنَّى عَلَيْهِمُ الْأَيْمَانَ، فَطَلَبَ آلُ حَاطِبٍ أَنْ يَحْلِفُوا عَلَى اثْنَيْنِ وَيَقْتُلُوهُمَا، فَأَبَى عَبْدُ الْمَلِكِ إِلَّا أَنْ يَحْلِفُوا عَلَى وَاحِدٍ فَيَقْتُلُوهُ، فَحَلَفُوا عَلَى الصُّهَيْبِيِّ فَقَتَلُوهُ، قَالَ هِشَامٌ: فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عُرْوَةُ، وَرَأَى أَنْ قَدْ أُصِيبَ فِيهِ الْحَقُّ وَرُوِّينَا فِيهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَرَبِيعَةَ وَيُذْكَرُ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَابْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّهُمَا أَقَادَا بِالْقَسَامَةِ وَيُذْكَرُ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَنَّهُ رَجَعَ عَنْ ذَلِكَ وَقَالَ: إِنْ وَجَدَ أَصْحَابُهُ بَيِّنَةً، وَإِلَّا فَلَا تُظْلَمُ النَّاسُ، فَإِنَّ هَذَا لَا يُقْضَى فِيهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.ہشام بن عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ آلِ حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کے ایک شخص اور آلِ صہیب رضی اللہ عنہ کے ایک شخص کے درمیان کوئی جھگڑا تھا، پھر اس کے قتل کی حدیث بیان کی، کہتے ہیں کہ یحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب رحمہ اللہ اس بارے میں عبدالملک بن مروان کے پاس سوار ہو کر گئے تو اس نے قسامہ پر فیصلہ کر دیا کہ آلِ حاطب میں سے 6 آدمی قسم اٹھائیں، اور ان پر قسمیں دہرائیں۔ آلِ حاطب نے دو شخصوں پر قسم اٹھا کر انہیں قتل کرنا چاہا تو عبدالملک نے انکار کیا اور کہا کہ ایک پر قسم اٹھاؤ اور اسے قتل کرو، تو انہوں نے صہیبی پر قسم اٹھائی تو اسے قتل کر دیا گیا۔ ہشام کہتے ہیں: عروہ نے اس پر انکار نہیں کیا اور ان کی رائے تھی کہ اس میں حق تک پہنچا گیا ہے۔
اس بارے میں زہری اور ربیعہ سے بھی ہمیں روایت پہنچی ہے، اور ابن ابی ملیکہ سے ذکر کیا جاتا ہے کہ عمر بن عبدالعزیز اور ابن زبیر نے قسامہ کے ذریعے قصاص لیا، اور عمر بن عبدالعزیز سے ذکر کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اس سے رجوع کر لیا اور فرمایا: اگر مقتول کے وارثوں کو دلیل مل جائے (تو ٹھیک)، ورنہ لوگوں پر ظلم نہ کیا جائے، کیونکہ اس کا فیصلہ تو قیامت کے دن ہی ہوگا۔