حدیث نمبر: 16459
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الرَّفَّاءُ الْبَغْدَادِيُّ بِخُسْرَوْجِرْدَ، أنبأ أَبُو عُمَرَ، وَعُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، وَعِيسَى بْنُ مِينَا، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، أَنَّ أَبَاهُ، قَالَ: كَانَ مَنْ أَدْرَكْتُ مِنْ فُقَهَائِنَا الَّذِينَ يُنْتَهَى إِلَى قَوْلِهِمْ، يَعْنِي مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، يَقُولُونَ: يَبْدَأُ بِالْيَمِينِ فِي الْقَسَامَةِ الَّذِينَ يَجِيئُونَ مِنَ الشَّهَادَةِ عَلَى اللَّطْخِ، وَالشُّبْهَةِ الْخَفِيَّةِ مَا لَا يَجِيءُ خُصَمَاؤُهُمْ، وَحَيْثُ كَانَ ذَلِكَ كَانَتِ الْقَسَامَةُ لَهُمْ قَالَ أَبُو الزِّنَادِ: وَأَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ قَتَلَ وَهُوَ سَكْرَانُ رَجُلًا ضَرَبَهُ بِشَوْبَقٍ وَلَمْ يَكُنْ عَلَى ذَلِكَ بَيِّنَةٌ قَاطِعَةٌ، إِلَّا لَطْخٌ أَوْ شَبِيهُ ذَلِكَ، وَفِي النَّاسِ يَوْمَئِذٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمِنْ فُقَهَاءِ النَّاسِ مَا لَا يُحْصَى، وَمَا اخْتَلَفَ اثْنَانِ مِنْهُمْ أَنْ يَحْلِفَ وُلَاةُ الْمَقْتُولِ وَيَقْتُلُوا أَوْ يَسْتَحْيُوا، فَحَلَفُوا خَمْسِينَ يَمِينًا وَقَتَلُوا، وَكَانُوا يُخْبِرُونَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالْقَسَامَةِ، وَيَرَوْنَهَا لِلَّذِي يَأْتِي بِهِ مِنَ اللَّطْخِ وَالشُّبْهَةِ أَقْوَى مِمَّا يَأْتِي بِهِ خَصْمُهُ، وَرَأَوْا ذَلِكَ فِي الصُّهَيْبِيِّ حِينَ قَتَلَهُ الْحَاطِبِيُّونَ وَفِي غَيْرِهِ وَرَوَاهُ ابْنُ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ، وَزَادَ فِيهِ أَنَّ مُعَاوِيَةَ كَتَبَ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، إِنْ كَانَ مَا ذَكَرْنَا لَهُ حَقًّا أَنْ يُحْلِفَنَا عَلَى الْقَاتِلِ ثُمَّ يُسَلَّمَ إِلَيْنَا.
حافظ ثناء اللہ

ابوالزناد مدینہ کے کبار فقہاء سے روایت کرتے ہیں کہ قسامہ میں سب سے پہلے ان لوگوں سے قسم لی جائے گی جو الزام، شبہ اور گواہی لائیں، ان پر نہیں جو ان کے مدمقابل ہیں؛ کیونکہ قسامہ ہے ہی ان کے لیے۔
ابوالزناد کہتے ہیں: مجھے خارجہ بن زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ایک انصاری نے دوسرے کو نشے کی حالت میں قتل کر دیا۔ اس پر کوئی دلیل نہیں تھی، صرف الزام اور شبہ تھا۔ لوگوں میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور بہت سارے فقہاء بھی موجود تھے، ان میں سے کسی بھی دو کا اختلاف نہیں تھا کہ قسم مقتول کے اولیاء اٹھائیں گے۔ انہوں نے قسم اٹھائی اور ان کو قتل کر دیا اور وہ سب بتاتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے بھی قسامہ کے ساتھ فیصلہ فرمایا ہے اور وہ الزام اور شبہ والوں کو دوسروں سے قوی سمجھتے تھے۔
اور ابوالزناد سے ایک روایت اور بھی ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعید بن العاص رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا جو ہم نے ذکر کیا ہے، اگر وہ سچ ہے تو ہم قاتل پر قسم اٹھوائیں گے، پھر اسے ہماری طرف بھیج دو۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسامة / حدیث: 16459
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»