کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: پتھر یا کسی ایسی چیز سے جان بوجھ کر قتل کرنا جس کی ضرب لگنے سے عموماً جان نہیں بچتی، اس کا بیان۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ جَارِيَةً خَرَجَتْ عَلَيْهَا أَوْضَاحٌ فَأَخَذَهَا يَهُودِيٌّ فَرَضَخَ رَأْسَهَا بِحَجَرٍ، وَأَخَذَ مَا عَلَيْهَا، فَأُتِيَ بِهَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهَا رَمَقٌ فَقَالَ: لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَتَلَكِ، فُلَانٌ؟ " قَالَتْ بِرَأْسِهَا: لَا فَقَالُوا: الْيَهُودِيُّ؟ قَالَتْ بِرَأْسِهَا: نَعَمْ فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَضَخَ رَأْسَهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ بْنِ الْحَجَّاجِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک بچی گھر سے نکلی، ایک یہودی نے اسے پکڑا اور پتھر سے اس کا سر کچل دیا اور جو کچھ اس نے پہنا ہوا تھا وہ لے گیا۔ اس بچی کو نبی کریم ﷺ کے پاس لایا گیا، اس میں ابھی کچھ سانسیں باقی تھیں تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”تجھے کس نے مارا ہے؟ کیا فلاں نے؟“ اس نے سر سے اشارہ کیا: نہیں۔ تو لوگوں نے کہا: فلاں یہودی نے؟ اس نے سر سے اشارہ کیا: ہاں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اسی یہودی کو پکڑا اور اس کا سر بھی دو پتھروں کے درمیان کچل دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 15984
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ⦗٧٧⦘ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ أَبُو عُمَرَ، وَأَبُو سَلَمَةَ، قَالَا: ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ جَارِيَةً وَجَدُوا رَأْسَهَا بَيْنَ حَجَرَيْنِ، فَقِيلَ لَهَا: مَنْ فَعَلَ بِكِ هَذَا، أَفُلَانٌ أَفُلَانٌ؟ حَتَّى سُمِّيَ الْيَهُودِيُّ، فَأَوْمَتْ بِرَأْسِهَا فَأُخِذَ فَجِيءَ بِهِ فَاعْتَرَفَ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَّ رَأْسَهُ بِحِجَارَةٍ وَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ: بَيْنَ حَجَرَيْنِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ هَدَّابِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ هَمَّامٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک بچی کا سر دو پتھروں کے درمیان کچلا ہوا پایا گیا تو اس سے پوچھا گیا کہ تیرے ساتھ یہ کس نے کیا ہے؟ کیا فلاں فلاں نے کیا ہے؟ یہاں تک کہ اس یہودی کا نام لیا گیا تو اس نے سر کے اشارے سے اثبات میں جواب دیا۔ اس یہودی نے اس کا اعتراف کر دیا تو نبی ﷺ نے حکم دیا کہ اس کا سر بھی پتھروں کے درمیان کچلا جائے تو کچل دیا گیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 15985
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، سَأَلَ النَّاسَ فِي الْجَنِينِ، فَقَامَ حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ فَقَالَ: كُنْتُ بَيْنَ امْرَأَتَيْنِ لِي فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِعَمُودٍ، وَفِي بَطْنِهَا جَنِينٌ فَقَتَلَهُ، فَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنِينِ بِغُرَّةٍ، وَقَضَى أَنْ تُقْتَلَ الْمَرْأَةُ بِالْمَرْأَةِ وَهَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ، وَفِيمَا ذَكَرَ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ، فِي كِتَابِ الْعِلَلِ قَالَ: سَأَلْتُ مُحَمَّدًا يَعْنِي الْبُخَارِيَّ، عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنُ جُرَيْجٍ حَافَظٌ قَالَ الشَّيْخُ: هُوَ كَمَا قَالَ الْبُخَارِيُّ فِي وَصْلِ الْحَدِيثِ بِذِكْرِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِيهِ، إِلَّا أَنَّ فِي لَفْظِهِ زِيَادَةً لَمْ أَجِدْهَا فِي شَيْءٍ مِنْ طُرُقِ هَذَا الْحَدِيثِ، وَهِيَ: قَتْلُ الْمَرْأَةِ بِالْمَرْأَةِ وَفِي حَدِيثِ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَوْصُولًا، وَحَدِيثِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ مُرْسَلًا، وَحَدِيثِ جَابِرٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ، مَوْصُولًا، ثَابِتًا أَنَّهُ قَضَى بِدِيَتِهَا عَلَى الْعَاقِلَةِ ⦗٧٨⦘.
حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جنین کے بارے میں لوگوں سے پوچھا تو حمل بن مالک بن نابغہ کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”میں اپنی دو بیویوں کے درمیان تھا، دونوں لڑ پڑیں تو ایک نے دوسری کو لکڑی سے مارا وہ حاملہ تھی تو وہ عورت بھی مرگئی اور بچہ بھی تو آپ ﷺ نے اس میں فیصلہ فرمایا کہ ”بچے کی دیت دی جائے اور عورت کے بدلے عورت کو قتل کردیا جائے۔“”
اس حدیث کی اسناد صحیح ہے، جیسا کہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے کتاب العلل میں ذکر فرمایا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام بخاری رحمہ اللہ سے اس حدیث کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: ”یہ صحیح ہے۔“
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ذکر کے ساتھ اس حدیث کے موصول ہونے کے بارے میں بات ویسی ہی ہے جیسے امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمائی، البتہ اس کے الفاظ میں ایک ایسا اضافہ ہے جو مجھے اس حدیث کی کسی سند میں نہیں ملا، اور وہ ہے عورت کے بدلے عورت کو قتل کرنا۔ عکرمہ عن ابن عباس کی موصول حدیث، ابن طاؤس عن ابیہ کی مرسل حدیث، اور جابر اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کی موصول حدیث میں ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے اس کی دیت عاقلہ پر ڈالنے کا فیصلہ فرمایا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 15986
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ سَعِيدٍ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ، وَقَالَ فِيهِ: فَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنِينِهَا بِغُرَّةٍ، وَأَنْ تُقْتَلَ بِهَا قَالَ: فَقُلْتُ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ: أَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَضَى بِدِيَتِهَا، وَبِغُرَّةٍ فِي جَنِينِهَا، فَقَالَ: لَقَدْ شَكَّكْتَنِي،.
حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے پچھلی روایت کی مانند ذکر فرمائی، اور اس میں یہ الفاظ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کے جنین کے بارے میں ایک غرہ (غلام یا لونڈی) کا فیصلہ فرمایا اور یہ کہ اس (قاتلہ) کو اس کے بدلے قتل کیا جائے۔ (ابن جریج کہتے ہیں:) میں نے عمرو بن دینار سے کہا: مجھے ابن طاؤس نے اپنے والد سے خبر دی ہے کہ آپ ﷺ نے اس کی دیت اور اس کے جنین میں ایک غرہ کا فیصلہ فرمایا تھا، تو وہ فرمانے لگے: ”تو نے تو مجھے شک میں ہی ڈال دیا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 15987
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَقُلْتُ لِعُمَرَ: وَلَا أَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ: شَكَّكْتَنِي.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 15988
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو وَغَيْرُهُمَا، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ عُبَيْدَةَ بْنِ مُسَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقْسِمُ شَيْئًا أَقْبَلَ رَجُلٌ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ فَطَعَنَهُ بِعُرْجُونٍ كَانَ مَعَهُ فَجُرِحَ الرَّجُلُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَعَالَ فَاسْتَقِدْ " فَقَالَ: بَلْ عَفَوْتُ يَا رَسُولَ اللهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کچھ چیز تقسیم کر رہے تھے، ایک شخص آیا اور اس چیز پر جھپٹا تو آپ ﷺ نے اسے کھجور کی چھڑی سے مارا تو وہ آدمی زخمی ہوگیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”آؤ قصاص لے لو۔“ وہ شخص کہنے لگا: ”میں نے معاف کیا، یا رسول اللہ ﷺ!“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 15989
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، أنبأ الْحَجَّاجُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، أنبأ أَشْيَاخُنَا الَّذِينَ أَدْرَكُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَجُلًا رَمَى رَجُلًا بِحَجَرٍ فَأَقَادَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِ.
حافظ ثناء اللہ
زیاد بن علاقہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے بہت سے شیوخ رضی اللہ عنہم جنہوں نے نبی ﷺ کو دیکھا تھا، انہوں نے بیان کیا کہ ایک شخص نے دوسرے کو پتھر سے زخمی کر دیا تو آپ ﷺ نے اس سے قصاص لے کر دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 15990
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، أنبأ أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا مُسَدَّدٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ مِرْدَاسٍ، أَنَّ رَجُلًا رَمَى رَجُلًا بِحَجَرٍ فَقَتَلَهُ، فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقَادَهُ مِنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
زیاد بن علاقہ رحمہ اللہ سیدنا مرداس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے دوسرے کو پتھر مار کر قتل کر دیا، اسے نبی ﷺ کے پاس لایا گیا تو آپ ﷺ نے اس سے قصاص دلوایا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 15991
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا عَبْدَانُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ مِرْدَاسِ بْنِ ⦗٧٩⦘ عُرْوَةَ، قَالَ: رَمَى رَجُلٌ مِنَ الْحِيِّ أَخًا لِي فَقَتَلَهُ، فَفَرَّ فَوَجَدْنَاهُ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، فَانْطَلَقْنَا بِهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقَادَنَا مِنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
مرداس بن عروہ بیان کرتے ہیں کہ قبیلے کے ایک شخص نے میرے ایک بھائی کو (پتھر) مار کر قتل کر دیا اور بھاگ گیا، پھر ہم نے اسے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس پایا۔ ہم اسے لے کر نبی ﷺ کے پاس آگئے تو آپ ﷺ نے ہمیں اس سے قصاص لے کر دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 15992
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
وَرُوِّينَا عَنْ بِشْرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ عَرَضَ عَرَضْنَا لَهُ، وَمَنْ حَرَقَ حَرَقْنَاهُ، وَمَنْ غَرَّقَ غَرَّقْنَاهُ " وَهُوَ فِيمَا أَنْبَأَنِيهِ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ إِجَازَةً، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ بْنِ مَنْصُورٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيِّ، ثنا بِشْرٌ، فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
یزید بن براء اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جو قتل کرے گا ہم اسے قتل کریں گے اور جو کسی کو جلائے گا ہم اسے جلائیں گے اور جو کسی کو غرق کرے گا ہم اسے غرق کریں گے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 15993
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، ثنا يَزِيدُ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ جَرْوَةَ بْنِ حَمِيلٍ، عَنْ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: لَيَضْرِبَنَّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ بِمِثْلِ آكِلَةِ اللَّحْمِ، ثُمَّ يَرَى أَنِّي لَا أُقِيدُهُ وَاللهِ لَأُقِيدَنَّهُ مِنْهُ تَابَعَهُ إِسْرَائِيلُ عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ جَرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: قال يزيد قَالَ الْحَجَّاجُ: آكِلَةُ اللَّحْمِ يَعْنِي عَصًا مُحَدَّدَةً قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ مِنَ الْحُكْمِ أَنَّهُ رَأَى الْقَوَدَ فِي الْقَتْلِ بِغَيْرِ حَدِيدَةٍ، وَذَلِكَ إِذَا كَانَ مِثْلُهُ يَقْتُلُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم! اگر کوئی اپنے بھائی کو آکلۃ اللحم (یعنی نوکیلی لاٹھی) جیسی چیز سے مارے اور پھر یہ سوچے کہ میں اس سے قصاص نہیں لوں گا، میں اس سے ضرور اس کا قصاص لوں گا۔
ابو عبید فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے پتہ چلا کہ اگر لوہے کے بغیر کسی اور چیز سے بھی قتل کیا جائے تو بھی قصاص ہے جب وہ اس کی طرح قتل کر دے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 15994
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيَّ، قَالَ: يَنْطَلِقُ الرَّجُلُ الْأَيِّدُ إِلَى رَجُلٍ يَضْرِبُهُ بِالْعَصَا حَتَّى يَقْتُلَهُ، ثُمَّ يَقُولُ: لَيْسَ بِعَمْدٍ وَأِيُّ الْعَمْدِ أَعْمَدُ مِنْ ذَلِكَ؟.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبید بن عمیر لیثی رحمہ اللہ سے سنا، وہ فرما رہے تھے کہ ایک صاحب حیثیت آدمی ایک شخص کو لاٹھیاں مار مار کر قتل کر دے اور پھر کہے کہ یہ میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا تو بتاؤ اس سے بڑھ کر جان بوجھ کر اور کیا ہو گا؟
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 15995
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»