السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: عمد القتل بالحجر وغيره مما الأغلب أنه لا يعاش من مثله باب: پتھر یا کسی ایسی چیز سے جان بوجھ کر قتل کرنا جس کی ضرب لگنے سے عموماً جان نہیں بچتی، اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 15992
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا عَبْدَانُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ مِرْدَاسِ بْنِ ⦗٧٩⦘ عُرْوَةَ، قَالَ: رَمَى رَجُلٌ مِنَ الْحِيِّ أَخًا لِي فَقَتَلَهُ، فَفَرَّ فَوَجَدْنَاهُ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، فَانْطَلَقْنَا بِهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقَادَنَا مِنْهُ.حافظ ثناء اللہ
مرداس بن عروہ بیان کرتے ہیں کہ قبیلے کے ایک شخص نے میرے ایک بھائی کو (پتھر) مار کر قتل کر دیا اور بھاگ گیا، پھر ہم نے اسے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس پایا۔ ہم اسے لے کر نبی ﷺ کے پاس آگئے تو آپ ﷺ نے ہمیں اس سے قصاص لے کر دیا۔