السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: عمد القتل بالحجر وغيره مما الأغلب أنه لا يعاش من مثله باب: پتھر یا کسی ایسی چیز سے جان بوجھ کر قتل کرنا جس کی ضرب لگنے سے عموماً جان نہیں بچتی، اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 15985
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ⦗٧٧⦘ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ أَبُو عُمَرَ، وَأَبُو سَلَمَةَ، قَالَا: ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ جَارِيَةً وَجَدُوا رَأْسَهَا بَيْنَ حَجَرَيْنِ، فَقِيلَ لَهَا: مَنْ فَعَلَ بِكِ هَذَا، أَفُلَانٌ أَفُلَانٌ؟ حَتَّى سُمِّيَ الْيَهُودِيُّ، فَأَوْمَتْ بِرَأْسِهَا فَأُخِذَ فَجِيءَ بِهِ فَاعْتَرَفَ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَّ رَأْسَهُ بِحِجَارَةٍ وَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ: بَيْنَ حَجَرَيْنِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ هَدَّابِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ هَمَّامٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک بچی کا سر دو پتھروں کے درمیان کچلا ہوا پایا گیا تو اس سے پوچھا گیا کہ تیرے ساتھ یہ کس نے کیا ہے؟ کیا فلاں فلاں نے کیا ہے؟ یہاں تک کہ اس یہودی کا نام لیا گیا تو اس نے سر کے اشارے سے اثبات میں جواب دیا۔ اس یہودی نے اس کا اعتراف کر دیا تو نبی ﷺ نے حکم دیا کہ اس کا سر بھی پتھروں کے درمیان کچلا جائے تو کچل دیا گیا۔