السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: عمد القتل بالحجر وغيره مما الأغلب أنه لا يعاش من مثله باب: پتھر یا کسی ایسی چیز سے جان بوجھ کر قتل کرنا جس کی ضرب لگنے سے عموماً جان نہیں بچتی، اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 15986
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، سَأَلَ النَّاسَ فِي الْجَنِينِ، فَقَامَ حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ فَقَالَ: كُنْتُ بَيْنَ امْرَأَتَيْنِ لِي فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِعَمُودٍ، وَفِي بَطْنِهَا جَنِينٌ فَقَتَلَهُ، فَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنِينِ بِغُرَّةٍ، وَقَضَى أَنْ تُقْتَلَ الْمَرْأَةُ بِالْمَرْأَةِ وَهَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ، وَفِيمَا ذَكَرَ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ، فِي كِتَابِ الْعِلَلِ قَالَ: سَأَلْتُ مُحَمَّدًا يَعْنِي الْبُخَارِيَّ، عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنُ جُرَيْجٍ حَافَظٌ قَالَ الشَّيْخُ: هُوَ كَمَا قَالَ الْبُخَارِيُّ فِي وَصْلِ الْحَدِيثِ بِذِكْرِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِيهِ، إِلَّا أَنَّ فِي لَفْظِهِ زِيَادَةً لَمْ أَجِدْهَا فِي شَيْءٍ مِنْ طُرُقِ هَذَا الْحَدِيثِ، وَهِيَ: قَتْلُ الْمَرْأَةِ بِالْمَرْأَةِ وَفِي حَدِيثِ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَوْصُولًا، وَحَدِيثِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ مُرْسَلًا، وَحَدِيثِ جَابِرٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ، مَوْصُولًا، ثَابِتًا أَنَّهُ قَضَى بِدِيَتِهَا عَلَى الْعَاقِلَةِ ⦗٧٨⦘.حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جنین کے بارے میں لوگوں سے پوچھا تو حمل بن مالک بن نابغہ کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”میں دو عورتوں کے درمیان تھا، دونوں لڑ پڑیں تو ایک نے دوسری کو لکڑی سے مارا وہ حاملہ تھی تو وہ عورت بھی مرگئی اور بچہ بھی تو آپ ﷺ نے اس میں فیصلہ فرمایا کہ ”بچے کی دیت دی جائے اور عورت کے بدلے عورت کو قتل کردیا جائے۔“”
اس حدیث کی اسناد صحیح ہے، جیسا کہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے کتاب العلل میں ذکر فرمایا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام بخاری رحمہ اللہ سے اس حدیث کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: ”یہ صحیح ہے۔“