السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: عمد القتل بالحجر وغيره مما الأغلب أنه لا يعاش من مثله باب: پتھر یا کسی ایسی چیز سے جان بوجھ کر قتل کرنا جس کی ضرب لگنے سے عموماً جان نہیں بچتی، اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 15984
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ جَارِيَةً خَرَجَتْ عَلَيْهَا أَوْضَاحٌ فَأَخَذَهَا يَهُودِيٌّ فَرَضَخَ رَأْسَهَا بِحَجَرٍ، وَأَخَذَ مَا عَلَيْهَا، فَأُتِيَ بِهَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهَا رَمَقٌ فَقَالَ: لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَتَلَكِ، فُلَانٌ؟ " قَالَتْ بِرَأْسِهَا: لَا فَقَالُوا: الْيَهُودِيُّ؟ قَالَتْ بِرَأْسِهَا: نَعَمْ فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَضَخَ رَأْسَهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ بْنِ الْحَجَّاجِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک بچی گھر سے نکلی، ایک یہودی نے اسے پکڑا اور پتھر سے اس کا سر کچل دیا اور جو کچھ اس نے پہنا ہوا تھا وہ لے گیا۔ اس بچی کو نبی کریم ﷺ کے پاس لایا گیا، اس میں ابھی کچھ سانسیں باقی تھیں تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”تجھے کس نے مارا ہے؟ کیا فلاں نے؟“ اس نے سر سے اشارہ کیا: نہیں۔ تو لوگوں نے کہا: فلاں یہودی نے؟ اس نے سر سے اشارہ کیا: ہاں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اسی یہودی کو پکڑا اور اس کا سر بھی دو پتھروں کے درمیان کچل دیا۔