السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: عمد القتل بالحجر وغيره مما الأغلب أنه لا يعاش من مثله باب: پتھر یا کسی ایسی چیز سے جان بوجھ کر قتل کرنا جس کی ضرب لگنے سے عموماً جان نہیں بچتی، اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 15987
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ سَعِيدٍ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ، وَقَالَ فِيهِ: فَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنِينِهَا بِغُرَّةٍ، وَأَنْ تُقْتَلَ بِهَا قَالَ: فَقُلْتُ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ: أَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَضَى بِدِيَتِهَا، وَبِغُرَّةٍ فِي جَنِينِهَا، فَقَالَ: لَقَدْ شَكَّكْتَنِي،.حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے پچھلی روایت مکمل ذکر فرمائی، پھر مزید یہ الفاظ ارشاد فرمائے کہ آپ ﷺ نے جنین کے بارے میں فرمایا: ”اس کی دیت دو اور عورت کو قتل کر دو۔“ اور ابن طاؤس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے دیت کو چٹی کے ساتھ فیصلہ فرمایا تو وہ فرمانے لگے: ”تو نے تو مجھے شک میں ہی ڈال دیا۔“