السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: عمد القتل بالحجر وغيره مما الأغلب أنه لا يعاش من مثله باب: پتھر یا کسی ایسی چیز سے جان بوجھ کر قتل کرنا جس کی ضرب لگنے سے عموماً جان نہیں بچتی، اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 15995
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيَّ، قَالَ: يَنْطَلِقُ الرَّجُلُ الْأَيِّدُ إِلَى رَجُلٍ يَضْرِبُهُ بِالْعَصَا حَتَّى يَقْتُلَهُ، ثُمَّ يَقُولُ: لَيْسَ بِعَمْدٍ وَأِيُّ الْعَمْدِ أَعْمَدُ مِنْ ذَلِكَ؟.حافظ ثناء اللہ
عمرو بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبید بن عمیر لیثی رحمہ اللہ سے سنا، وہ فرما رہے تھے کہ ایک صاحب حیثیت آدمی ایک شخص کو لاٹھیاں مار مار کر قتل کر دے اور پھر کہے کہ یہ میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا تو بتاؤ اس سے بڑھ کر جان بوجھ کر اور کیا ہو گا؟