السنن الكبرى للبيهقي
كتاب اللعان— لعان کا بیان
باب: ما يكون بعد التعان الزوج من الفرقة ونفي الولد وحد المرأة إن لم تلتعن باب: شوہر کے لعان کر لینے کے بعد جدائی واقع ہونے، بچے کی نفی ہونے، اور اگر عورت لعان نہ کرے تو اس پر حد لگنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 15353
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ الشِّيرَازِيُّ نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا: نا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قُلْتُ لِمَالِكٍ: حَدَّثَكَ نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا لَاعَنَ امْرَأَتَهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَفَرَّقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِأُمِّهِ؟ " قَالَ: نَعَمْ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ بُكَيْرٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.حافظ ثناء اللہ
نافع، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی ﷺ کے دور میں اپنی بیوی سے لعان کیا تو رسول اللہ ﷺ نے دونوں کے درمیان تفریق ڈال دی اور بچہ ماں کو دے دیا؟ فرماتے ہیں: ہاں۔