السنن الكبرى للبيهقي
كتاب اللعان— لعان کا بیان
باب: ما يكون بعد التعان الزوج من الفرقة ونفي الولد وحد المرأة إن لم تلتعن باب: شوہر کے لعان کر لینے کے بعد جدائی واقع ہونے، بچے کی نفی ہونے، اور اگر عورت لعان نہ کرے تو اس پر حد لگنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 15354
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُتَلَاعِنَيْنِ: " حِسَابُكُمَا عَلَى اللهِ أَحَدُكُمَا كَاذِبٌ لَا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا "، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَالِي مَالِي قَالَ: " إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا فَهُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا فَهُوَ أَبْعَدُ لَكَ مِنْهُ " أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ كَمَا مَضَى وَرُوِّينَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمُتَلَاعِنَانِ إِذَا تَفَرَّقَا لَا يَجْتَمِعَانِ أَبَدًا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دو لعان کرنے والوں کے متعلق فرمایا: ”تمہارا حساب اللہ کے سپرد، تم میں سے ایک جھوٹا ہے۔ تجھے بیوی پر کوئی اختیار نہیں۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میرا مال میرا مال۔ فرمایا: ”اگر تو سچا ہے تو مال شرمگاہ کو حلال کرنے کے عوض گیا۔ اگر تو نے جھوٹ بولا ہے تو یہ اس سے بھی دور کی بات ہے۔“
(ب) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دو لعان کرنے والے تفریق کے بعد کبھی جمع نہ ہو سکیں گے۔“