السنن الكبرى للبيهقي
كتاب اللعان— لعان کا بیان
باب: ما يكون بعد التعان الزوج من الفرقة ونفي الولد وحد المرأة إن لم تلتعن باب: شوہر کے لعان کر لینے کے بعد جدائی واقع ہونے، بچے کی نفی ہونے، اور اگر عورت لعان نہ کرے تو اس پر حد لگنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 15360
قَالَ: وَنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ الْوَاسِطِيِّ، عَنْ جَهْمِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: " إِذَا أَكْذَبَ نَفْسَهُ بَعْدَ اللِّعَانِ ضُرِبَ وَأُلْزِقَ بِهِ الْوَلَدُ وَلَا يَجْتَمِعَانِ أَبَدًا "، وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
جہم بن دینار رحمہ اللہ، ابراہیم رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب لعان کے بعد انسان اپنی تکذیب کر لے تو اسے حد لگائی جائے گی، بچے کی نسبت اس کی جانب ہوگی اور یہ دونوں کبھی اکٹھے نہ ہوں گے۔