السنن الكبرى للبيهقي
كتاب اللعان— لعان کا بیان
باب: ما يكون بعد التعان الزوج من الفرقة ونفي الولد وحد المرأة إن لم تلتعن باب: شوہر کے لعان کر لینے کے بعد جدائی واقع ہونے، بچے کی نفی ہونے، اور اگر عورت لعان نہ کرے تو اس پر حد لگنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 15357
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، نا ابْنُ أَبِي حَسَّانَ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا الْوَلِيدُ، وَعَمْرٌو قَالَا: نا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ فِي قِصَّةِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ قَالَ: فَتَلَاعَنَا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَفَرَّقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا وَقَالَ: لَا يَجْتَمِعَانِ أَبَدًا ".حافظ ثناء اللہ
زہری رحمہ اللہ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے لعان کرنے والوں کے قصے کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس لعان کیا تو آپ ﷺ نے ان کے درمیان تفریق پیدا کر دی اور فرمایا: ”یہ کبھی جمع نہ ہو سکیں گے۔“