السنن الكبرى للبيهقي
كتاب اللعان— لعان کا بیان
باب: ما يكون بعد التعان الزوج من الفرقة ونفي الولد وحد المرأة إن لم تلتعن باب: شوہر کے لعان کر لینے کے بعد جدائی واقع ہونے، بچے کی نفی ہونے، اور اگر عورت لعان نہ کرے تو اس پر حد لگنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 15359
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَرْدَسْتَانِيُّ أنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، أنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، نا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ فِي الْمُتَلَاعِنَيْنِ إِذَا تَلَاعَنَا قَالَ: " يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا، وَلَا يَجْتَمِعَانِ أَبَدًا الْحَدُّ ".حافظ ثناء اللہ
ابراہیم، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: جب دو لعان کرنے والے لعان کرتے ہیں تو ان کے درمیان ابدی تفریق ہو جاتی ہے، یہ کبھی جمع نہ ہو سکیں گے۔