السنن الكبرى للبيهقي
كتاب اللعان— لعان کا بیان
باب: من يلاعن من الأزواج ومن لا يلاعن باب: ان شوہروں کا بیان جو لعان کر سکتے ہیں اور جو لعان نہیں کر سکتے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلِ بْنِ خَلَفٍ الْقَاضِي نا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، نا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، نا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: لَمَّا قَذَفَ هِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ امْرَأَتَهُ قِيلَ لَهُ: وَاللهِ لَيَحُدَّنَّكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِينَ جَلْدَةً قَالَ: اللهُ أَعْدَلُ مِنْ ذَلِكَ أَنْ يَضْرِبَنِي ثَمَانِينَ ضَرْبَةً وَقَدْ عَلِمَ أَنِّي رَأَيْتُ حَتَّى اسْتَوْثَقْتُ وَسَمِعْتُ حَتَّى اسْتَبَنْتُ لَا وَاللهِ لَا يَضْرِبُنِي أَبَدًا، فَنَزَلَتْ آيَةُ الْمُلَاعَنَةِ فَدَعَاهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ نَزَلَتِ الْآيَةُ فَقَالَ: " اللهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ؟ " فَقَالَ هِلَالٌ: وَاللهِ إِنِّي لَصَادِقٌ، فَقَالَ لَهُ: " احْلِفْ بِاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِنِّي لَصَادِقٌ " تَقُولُ ذَلِكَ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَإِنْ كُنْتَ كَاذِبًا فَعَلَيَّ لَعْنَةُ اللهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قِفُوهُ عِنْدَ الْخَامِسَةِ فَإِنَّهَا مُوجِبَةٌ " فَحَلَفَ ثُمَّ قَالَتْ أَرْبَعًا: وَاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ فَإِنْ كَانَ صَادِقًا فَعَلَيْهَا غَضَبُ اللهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قِفُوهَا عِنْدَ الْخَامِسَةِ فَإِنَّهَا مُوجِبَةٌ " ⦗٦٤٩⦘ فَتَرَدَّدَتْ وَهَمَّتْ بِالِاعْتِرَافِ ثُمَّ قَالَتْ: لَا أَفْضَحُ قَوْمِي فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ أَدْعَجَ سَابِغَ الْأَلْيَتَيْنِ أَلِفَ الْفَخِذَيْنِ خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِلَّذِي رُمِيَتْ بِهِ وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَصْفَرَ قَضِيفًا سَبِطًا فَهُوَ لِهِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ "، فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى صِفَةِ الْبَغِيِّ قَالَ أَيُّوبُ وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ: كَانَ الرَّجُلُ الَّذِي قَذَفَهَا بِهِ هِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ شَرِيكَ بْنَ سَحْمَاءَ، وَكَانَ أَخَا الْبَرَاءِ بْنِ مَالِكٍ أَخِي أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ لِأُمِّهِ وَكَانَتْ أُمُّهُ سَوْدَاءَ وَكَانَ شَرِيكٌ يَأْوِي إِلَى مَنْزِلِ هِلَالٍ وَيَكُونُ عِنْدَهُ، قَالَ الشَّيْخُ: فَسَمَّى كَلِمَةَ اللِّعَانِ حَلِفًا.عکرمہ، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جب ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی پر الزام لگایا تو ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: رسول اللہ ﷺ تجھے 80 کوڑے لگائیں گے، فرماتے ہیں کہ اللہ رب العزت زیادہ عدل فرمائیں گے کہ وہ مجھے 80 کوڑے لگائیں۔ اللہ جانتا ہے کہ میں نے دیکھ کر یقین کیا ہے اور سن کر علیحدہ کیا ہے، اللہ کی قسم! آپ مجھے کوڑے نہ لگائیں گے، تو لعان والی آیات نازل ہوئیں، رسول اللہ ﷺ نے میاں، بیوی دونوں کو بلایا جب آیت نازل ہوئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ جانتا ہے تم میں سے ایک جھوٹا ہے، کیا تم میں سے کوئی توبہ کرنے کے لیے تیار ہے؟“ تو ہلال نے کہا: میں سچا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم اٹھاؤ جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں کہ میں سچا ہوں۔ یہ چار مرتبہ قسم کھاؤ۔ اگر میں جھوٹا ہوا تو میرے اوپر اللہ کی لعنت۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پانچویں قسم پر اسے روکنا، یہ عذاب کو واجب کرنے والی ہے۔“ اس نے قسم اٹھا کر چار مرتبہ یہ کہا: اس ذات کی قسم! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ جھوٹوں میں سے ہے۔ اگر یہ مرد سچا ہو تو میرے اوپر اللہ کی لعنت۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس عورت کو پانچویں قسم پر روکنا، کیونکہ یہ عذاب کو واجب کرنے والی ہے۔“ وہ جھجکی اور اعتراف کا ارادہ کیا، پھر اس نے کہا: میں اپنی قوم کو رسوا نہ کروں گی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر یہ عورت سرمیلی آنکھوں، بھاری سرینوں، موٹی پیٹھ، موٹی موٹی پنڈلیوں والا بچہ جنم دے تو یہ شریک بن سحماء کا ہے، اگر یہ زرد رنگ اور سیدھے بالوں والا جنم دے تو یہ ہلال بن امیہ کا ہے۔“ تو اس نے زنا کی صفات والے بچے کو جنم دیا۔ ایوب اور محمد بن سیرین رحمہما اللہ کہتے ہیں کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے جس مرد پر اپنی بیوی کے بارے میں الزام لگایا وہ براء بن مالک رضی اللہ عنہ کا بھائی تھا، اس کی والدہ سیاہ رنگ کی تھی اور شریک ہلال کے گھر میں رہتا تھا۔ شیخ نے لعان کو قسم قرار دیا ہے۔