السنن الكبرى للبيهقي
كتاب اللعان— لعان کا بیان
باب: من يلاعن من الأزواج ومن لا يلاعن باب: ان شوہروں کا بیان جو لعان کر سکتے ہیں اور جو لعان نہیں کر سکتے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ الصَّيْدَلَانِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: " أَرْبَعٌ مِنَ النِّسَاءِ لَيْسَ بَيْنَهُنَّ وَبَيْنَ أَزْوَاجِهِنَّ مُلَاعَنَةٌ: النَّصْرَانِيَّةُ تَحْتَ الْمُسْلِمِ، وَالْأَمَةُ تَحْتَ الْعَبْدِ، وَالْأَمَةُ تَحْتَ الْحُرِّ، وَالْحُرَّةُ تَحْتَ الْعَبْدِ " قَالَ الشَّيْخُ: وَفِي ثُبُوتِ هَذَا مَوْقُوفًا أَيْضًا نَظَرٌ؛ فَرَاوِي الْأَوَّلِ عُمَرُ بْنُ هَارُونَ وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ وَرَاوِي الثَّانِي يَحْيَى بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَأَمَّا الَّذِي قَالَهُ الشَّافِعِيُّ مِنْ أَنَّهُ مُنْقَطِعٌ فَلَعَلَّهُ نُقِلَ إِلَى الشَّافِعِيِّ كَمَا حَكَاهُ عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو وَذَلِكَ مُنْقَطِعٌ لَا شَكَّ فِيهِ وَلَكِنْ مَنْ رَوَاهُ مَرْفُوعًا أَوْ مَوْقُوفًا إِنَّمَا رَوَاهُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ وَذَلِكَ مَوْصُولٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، فَقَدْ سَمَّى بَعْضُهُمْ فِي هَذَا جَدَّهُ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو: وَسَمَاعُ شُعَيْبِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ صَحِيحٌ مِنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللهِ لَكِنْ يَجِبُ أَنْ يَكُونَ الْإِسْنَادُ إِلَى عَمْرٍو صَحِيحًا، وَلَمْ تَصِحَّ أَسَانِيدُ هَذَا الْحَدِيثِ إِلَى عَمْرٍو، وَاللهُ أَعْلَمُ.عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ چار قسم کی عورتوں اور ان کے خاوندوں کے درمیان لعان نہیں ہوتا: عیسائی عورت جو مسلم کے نکاح میں ہو، لونڈی جو غلام کے نکاح میں ہو، لونڈی جو آزاد کے نکاح میں ہو اور آزاد عورت جو غلام کے نکاح میں ہو۔
اس روایت کا موقوف ہونا بھی محل نظر ہے، کیونکہ پہلی روایت کا راوی عمر بن ہارون ہے جو قوی نہیں، اور دوسری کا راوی یحییٰ بن ابی انیسہ ہے جو متروک ہے۔ رہی امام شافعی کی یہ بات کہ یہ منقطع ہے، تو شاید ان تک یہ اسی طرح پہنچی جیسے عمرو بن شعیب نے عبداللہ بن عمرو سے بیان کی، اور یہ بلاشبہ منقطع ہے، لیکن جس نے بھی اسے مرفوع یا موقوف روایت کیا ہے اس نے اسے عمرو عن ابیہ عن جدہ ہی کے طریق سے روایت کیا ہے، اور یہ محدثین کے نزدیک موصول ہے، بعض راویوں نے اس میں ان کے دادا کا نام بھی لیا ہے اور کہا ہے: عبداللہ بن عمرو۔ اور شعیب بن محمد بن عبداللہ کا اپنے دادا عبداللہ سے سماع صحیح ہے، لیکن ضروری ہے کہ عمرو تک سند صحیح ہو، اور اس حدیث کی سندیں عمرو تک صحیح نہیں ہیں۔ واللہ اعلم۔