❮
❯
حدیث نمبر: 15296
وَفِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ رِوَايَتَهُ عَنْهُ عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ قَالُوا: رَوَى عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " أَرْبَعٌ لَا لِعَانَ بَيْنَهُنَّ وَبَيْنَ أَزْوَاجِهِنَّ، الْيَهُودِيَّةُ وَالنَّصْرَانِيَّةُ تَحْتَ الْمُسْلِمِ، وَالْحُرَّةُ تَحْتَ الْعَبْدِ، وَالْأَمَةُ عِنْدَ الْحُرِّ، وَالنَّصْرَانِيَّةُ عِنْدَ النَّصْرَانِيِّ " فَقُلْنَا لَهُمْ: رَوَيْتُمْ هَذَا عَنْ رَجُلٍ مَجْهُولٍ وَرَجُلٍ غَلَطَ وَعَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو مُنْقَطِعٌ وَاللَّذَانِ رَوَيَا يَقُولُ أَحَدُهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْآخَرُ يَقِفُهُ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو فَهُوَ لَا يَثْبُتُ عَنْ عَمْرٍو وَلَا عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو وَلَا يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا رَجُلٌ غَلِطَ قَالَ: وَعَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ قَدْ رَوَى لَنَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْكَامًا تُوَافِقُ أَقَاوِيلَنَا وَتُخَالِفُ أَقَاوِيلَكُمْ يَرْوِيهَا عَنْهُ الثِّقَاتُ فَيُسْنِدُهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَدْتُمُوهَا عَلَيْنَا وَرَدَدْتُمْ رِوَايَتَهُ وَنَسَبْتُمُوهَا إِلَى الْغَلَطِ، فَأَنْتُمْ مَحْجُوجُونَ إِنْ كَانَ مِمَّنْ يَثْبُتُ حَدِيثُهُ بِأَحَادِيثِهِ الَّتِي وَافَقْنَاهَا وَخَالَفْتُمُوهَا فِي نَحْوٍ مِنْ ثَلَاثِينَ حُكْمًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خَالَفْتُمْ أَكْثَرَهَا فَأَنْتُمْ غَيْرُ مُنْصِفِينَ إِنِ احْتَجَجْتُمْ بِرِوَايَتِهِ ⦗٦٥٠⦘ وَهُوَ مِمَّنْ لَا نُثْبِتُ رِوَايَتَهُ ثُمَّ احْتَجَجْتُمْ مِنْهَا بِمَا لَوْ كَانَ ثَابِتًا عَنْهُ وَهُوَ مِمَّنْ يَثْبُتُ حَدِيثُهُ لَمْ نُثْبِتْهُ لِأَنَّهُ مُنْقَطِعٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”چار قسم کے لوگوں کے درمیان لعان نہیں ہوتا: (1) عیسائی اور یہودی عورت مسلم کے نکاح میں ہو، (2) آزاد عورت غلام کے نکاح میں ہو، (3) اور لونڈی آزاد مرد کے نکاح میں ہو، (4) عیسائی عورت، عیسائی مرد کے نکاح میں ہو۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ہم نے ان (اس سے دلیل لینے والوں) سے کہا: تم نے یہ روایت ایک مجہول شخص اور ایک غلطی کرنے والے شخص سے نقل کی ہے، اور عمرو بن شعیب کی عبداللہ بن عمرو سے روایت منقطع ہے، اور جن دو نے اسے روایت کیا ہے ان میں سے ایک اسے نبی ﷺ سے بیان کرتا ہے اور دوسرا اسے عبداللہ بن عمرو پر موقوف کرتا ہے، لہٰذا یہ نہ عمرو سے ثابت ہے اور نہ عبداللہ بن عمرو سے، اور اسے نبی ﷺ تک صرف ایک غلطی کرنے والا شخص پہنچاتا ہے۔
انہوں نے فرمایا: عمرو بن شعیب نے ہمیں نبی ﷺ سے ایسے احکام روایت کیے ہیں جو ہمارے اقوال کے موافق اور تمہارے اقوال کے مخالف ہیں، انہیں ثقہ راوی ان سے روایت کرتے ہیں اور نبی ﷺ تک مسند بیان کرتے ہیں، تو تم نے انہیں ہم پر رد کر دیا، ان کی روایت کو رد کیا اور اسے غلطی کی طرف منسوب کیا۔ پس اگر وہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کی حدیث ثابت ہوتی ہے تو نبی ﷺ سے مروی تقریباً تیس احکام میں، جن میں ہم نے ان کی موافقت کی اور تم نے مخالفت کی، ان کی احادیث تمہارے خلاف حجت ہیں، تم نے ان میں سے اکثر کی مخالفت کی ہے۔ اور اگر وہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کی روایت ثابت نہیں تو تم انصاف نہیں کر رہے کہ ان کی روایت سے دلیل لیتے ہو، پھر اس میں سے ایسی چیز سے دلیل لیتے ہو جسے، اگر وہ ان سے ثابت بھی ہو اور وہ ان لوگوں میں سے ہوں جن کی حدیث ثابت ہوتی ہے، ہم ثابت نہ مانتے، کیونکہ یہ ان کے اور عبداللہ بن عمرو کے درمیان منقطع ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب اللعان / حدیث: 15296
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»